The news is by your side.

Advertisement

جب اللہ آزمائش میں ڈالتا ہے تو برداشت کرنا چاہیے، علیم خان

لاہور : پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کا کہنا ہے جب اللہ آزمائش میں ڈالتا ہےتوبرداشت کرناچاہیے، بلاول کےمارچ سےحکومت کو کوئی  پریشانی نہیں، نواز شریف کی ضمانت قانون کےمطابق ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان نے پنجاب اسمبلی میں صحافیوں کیساتھ غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا پی ٹی آئی حکومت میں جو بھی لوگ ہیں وہ ہمارے اپنےہی ہیں، اتحادی ہمارے ساتھ ہیں، ق لیگ سےالائنس اچھا چل رہاہے۔

علیم خان کا کہنا تھا معیشت میں مشکلات پچھلی حکومتوں کی پالیسیوں کےباعث ہیں، حکومت کواندازہ ہےبجلی،گیس قیمتوں میں اضافےکابوجھ عوام پرپڑا، عوام کو ریلیف دینا وزیراعظم عمران خان کی ترجیح ہے۔

عوام کو ریلیف دینا وزیراعظم عمران خان کی ترجیح ہے

پی ٹی آئی رہنما نے کہا نیب کیس پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا، نواز شریف کی ضمانت قانون کےمطابق ہے، کسی کوکوئی تکلیف ہےتواسےعلاج کاحق حاصل ہے۔

صحافی نے سوال کیا حکومت کونیب قوانین میں کن ترامیم کی تجویزدیں گے؟ جس پر علیم خان نے کہا ترامیم پراب میں کوئی تجاویزدوں تووہ جانبدارانہ ہوں گی، میں خود نیب قوانین کاشکارہوں تو میری تجاویزمناسب نہیں۔

بلاول کےمارچ سے حکومت کوکوئی پریشانی نہیں

صحافی نے سوال کیا آصف زرداری باہر،آپ جیل میں ہیں، یہ احتساب درست ہے؟ تو رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا جب اللہ آزمائش میں ڈالتا ہےتوبرداشت کرناچاہیے، بلاول کےمارچ سےمیرانہیں خیال حکومت کوکوئی پریشانی ہو، بلاول کےمارچ میں کسی جگہ کوئی بڑااجتماع نہیں ہوا۔

انھوں نے مزید کہا فیاض الحسن چوہان کوبلدیات کاقلمدان ملنےکی مجھےاطلاع نہیں، میں جیل میں ہوں مجھ سےمشاورت نہیں ہورہی۔

مزید پڑھیں : علیم خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع

یاد رہے لاہور کی احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثے کیس میں سابق سینئر صوبائی وزیر علیم خان کو پیش کیا گیا تھا ، جہاں عدالت نے علیم خان کو دو اپریل تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا تھا۔

واضح رہے 6 فروری کو نیب لاہور نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اورآف شورکمپنیوں کیس میں پنجاب کے سینئر وزیرعبدالعلیم خان کو گرفتار کیا تھا۔

نیب کی جانب سے گرفتاری کے بعد علیم خان نے اپنا استعفیٰ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو بھجوا دیا تھا، علیم خان کا کہنا تھا کہ مقدمات کا سامنا کریں گے، آئین اورعدالتوں پریقین رکھتے ہیں، مجھ پر آمدن سے زائد اثاثوں کا نہیں، آفشور کمپنیوں کا مقدمہ ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں