The news is by your side.

Advertisement

الجزائر میں مجسٹریٹوں نے جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کردیا

الجیریا : الجزائر میں مجسٹریٹوں نے نظام مخالف احتجاجی تحریک کی حمایت میں 4 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق الجزائر میں مظاہرین نے سابق صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے استعفے کے باوجود احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور وہ اب حکومتی عہدوں پر فائز ان کے قریبی مصاحبین سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں اور انھوں نے جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو مسترد کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ صدارتی انتخابات موجودہ عدالتی فریم ورک اور اداروں کے تحت ہوتے ہیں تو یہ آزادانہ اور شفاف نہیں ہوسکتے۔

الجزائر کے عبوری صدر عبدالقادر بن صالح نے گذشتہ منگل کو ایک نشری تقریر میں ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کرانے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ میں عوام کے مفادات کی تکمیل کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں ۔

صدر عبدالقادر بن صالح کا کہنا تھا کہ آئین نے مجھ پر یہ بھاری ذمے داری عاید کی ہے لیکن مظاہرین نے ان کے خلاف احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور وہ ان سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ایک سو سے زیادہ مجسٹریٹوں نے دارالحکومت الجزائر  میں وزارتِ عدل کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ۔

مقامی میڈیا کے مطابق مظاہرے کی اپیل مجسٹریٹس کلب نے کی تھی، یہ کلب حکومت کے حامی نیشنل مجسٹریٹس سینڈیکیٹ کے مقابلے میں قائم کیا گیا ہے۔

مظاہرے میں شریک ملک کے جنوب مشرقی شہر الوادی سے تعلق رکھنے والے جج سعد الدین مرزوق نے کہا کہ مجسٹریٹس کلب نے صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ان کی نگرانی نہیں کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ اس کلب کے ملک کی ہرعدالت میں ارکان موجود ہیں لیکن انھوں نے ان کی مخصوص تعداد نہیں بتائی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں