site
stats
پاکستان

تمام ادارے اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کریں،چیف جسٹس پاکستان

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا ہے کہ تمام ادارے اپنی آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کریں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی نے نئے عدالتی سال کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے ہی گڈ گورننس کو یقینی بنایا جاسکتا ہے،تمام ادارے اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں تو کرپشن اور بد امنی کا خاتمہ ہوگا۔کرپشن کے خاتمے سے لوگوں کو غیر ضروری عدالتی چارہ جوئی سے نجات ملے گی۔

سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے حوالے سے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے،جہاں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہووہاں ضروری ہے اس کا تدارک کیا جائے، کراچی اور بلوچستان بدامنی کیس میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے۔

نئے عدالتی سال کی تقریب میں چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم کا مقصد سیکولر پاکستان بنانا نہیں تھا،پاکستان کے قیام کا مقصد تھا کہ ہرمذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو برابر حقوق ملیں،پاکستان کا آئین ہر شہری کو مکمل مذہبی آزادی کی ضمانت فراہم کرتاہے۔

ملک میں جاری دہشت گردی سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ اور اندرونی حمایت شامل ہوتی ہے، عدالت تخریبی عناصر کے سیاسی و مذہبی جماعتوں سے روابط کے تدارک کا کہہ چکی ہے۔

تقریب کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایک بار پھر تمام نظریں سپریم کورٹ کی طرف ہیں اور تمام لوگ سپریم کورٹ کو امید کی نظر سے دیکھ رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ 1965 میں قائد اعظم ٹرافی کھیل چکے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ان کے ہمراہ ظہیرعباس کھیلتے تھے،وہ روایتی کھلاڑی ہیں، کبھی کریز سے باہر نکل کر نہیں کھیلتے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top