The news is by your side.

Advertisement

روغنِ فاسفورس نے شاعرِ اعظم بنا دیا!

اردو زبان کے ہم عصر ادبا اور شعرا میں‌ معاصرانہ چشمک کے قصے ہم سنتے اور پڑھتے آئے ہیں۔

بعض‌ ہم عصروں میں‌ چشمک اس قدر بڑھی کہ زبانی اور قلم کے ذریعے بھی شخصی کم زوریوں کے ساتھ تخلیقات کے سقم اور خامیوں‌ کو اچھالنے سے نہ چُوکے۔ اسی طرح‌ میدان علم و ادب میں‌ کسی کی تخلیقی عظمت اور مرتبہ تسلیم کرنا بھی مسئلہ بن جاتا تھا۔ یہ ایک ایسا ہی ایک واقعہ ہے جو دنیائے ادب کی دو نام وَر شخصیات سے منسوب ہے۔

مشہور ہے کہ خواجہ حسن نظامی نے ایک مرتبہ اپنے اخبار’’منادی‘‘ میں لکھا کہ میں ڈاکٹر اقبال کو ہندوستان کا عظیم شاعر نہیں سمجھتا۔

کہتے ہیں‌ انہی دنوں اقبال کو گھٹنوں کے درد کی شکایت پیدا ہو گئی اور ان کی تکلیف بڑھ گئی۔ خواجہ صاحب کو یہ معلوم ہوا تو انھوں‌ نے اپنا روغنِ فاسفورس انھیں‌ بھیجا جس کے استعمال سے اقبالؔ کو افاقہ ہوا۔ انھوں نے خواجہ صاحب کے نام اپنے خط میں‌ لکھا۔

’’مجھے آپ کے روغن سے افاقہ ہوا ہے۔‘‘

خواجہ حسن نظامی نے جو ہندوستان میں‌ اقبالؔ کی شاعرانہ عظمت کا تحریری طور پر انکار کرچکے تھے، خط پڑھ کر گویا پلٹ ہی گئے۔

انھوں‌ نے اپنے اخبار’’منادی‘‘ میں وہ خط شایع کر دیا کہ اس تیل کے متعلق شاعرِ اعظم ڈاکٹر اقبال کی کیا رائے ہے۔

ڈاکٹر اقبالؔ نے ’’منادی‘‘ اخبار پڑھا اور کہا کہ ’’شکر ہے خواجہ صاحب کے روغنِ فاسفورس نے مجھے شاعر اعظم تو بنایا۔‘‘

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں