The news is by your side.

Advertisement

علامّہ اقبال کی وہ نظمیں‌ جو بدیسی ادب سے ماخوذ ہیں

اردو زبان و ادب میں کئی شخصیات اور تخلیقات اپنے دور میں متنازع یا مباحث کا سبب بنی ہیں اور اس کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ تاہم کسی ممتاز اور نہایت قد آور شخصیت سے متعلق اعتراضات یا ان کی تخلیقات پر بے جا تنقید پروپیگنڈہ اور اس کے ذریعے اپنے قد کو بڑھانے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔

اکثر نو آموز اپنی کم علمی، نو وارد کم فہمی اور مخصوص مفادات کی تکمیل کے لیے بعض ادبی گروہ بھی ایسی کوشش کرتے ہیں۔

علامہ اقبال کی بعض نظموں پر اعتراضات اور ان کے مشہور کلام کو چند مجہول اور ادب اور بالخصوص شاعری کے مختلف ادوار سے متعلق ناقص معلومات یا ادھوری باتوں کی بنیاد پر سرقہ کہا گیا جسے اقبالیات کے ماہر اور جید و مستند شخصیات نے مسترد کیا۔

اردو ادب میں طبع زاد اور ماخوذ ایسی اصطلاحات ہیں‌ جن سے سنجیدہ قاری ضرور واقف ہیں۔ اس کے علاوہ حوالہ جات، حواشی، حاشیہ، اور تدوین و ترتیب وغیرہ بھی ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے کوئی نئی تراکیب یا اصطلاحات نہیں ہیں۔

اردو ادب کے طالب علموں کو معلوم ہونا چاہیے کہ علامہ اقبال کی کئی شہرہ آفاق نظمیں غیر ملکی ادب سے ماخوذ ہیں اور اس لیے اس پر تنقید بے جا اور بجائے خود کم علمی کا نتیجہ ہیں۔

ہم آپ کو علامہ اقبال کی چند نظموں‌ کے نام بتاتے ہیں‌ اور یہ بھی کہ وہ کن غیرملکی نثر نگاروں‌ یا شعرا کی تخلیقات سے متاثر ہو کر لکھی گئیں اور ماخوذ کے زمرے میں‌ شمار ہوتی ہیں۔

علامہ اقبال کی مشہور ترین نظمیں ماں کا خواب، بچے کی دعا، ایک مکڑی اور مکھی، گائے اور بکری کے علاوہ خوب صورت نظم پہاڑ اور گلہری ایمرسن سے ماخوذ ہیں، جب کہ ہم دردی ماخوذ از ولیم کوپر اور اسی طرح پیامِ صبح لانگ فیلو سے متاثر ہوکر مقامی رنگ میں‌ نہایت خوب صورتی سے پیش کی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں