The news is by your side.

اقبال کی غزل گوئی

علّامہ کو شاعرِ مشرق، اور فلسفی شاعر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس کی ایک وجہ ان کی وہ نظمیں‌ ہیں‌ جو ہندوستان کے مسلمانوں میں‌ حب الوطنی کے جذبے کو ابھارنے، خاص طور پر نوجوانوں‌ کو اسلامی طرزِ فکر اور مقصدِ حیات کی طرف متوجہ کرنے کے لیے لکھی گئی تھیں‌۔ لیکن اقبال نے ابتدا غزل گوئی سے کی تھی۔

اقبال نے حضرت داغ دہلوی کے رنگ میں بھی غزلیں کہی ہیں جو سہل ممتنع اور اقبال کی سادہ بیانی کا نمونہ ہیں۔ آئیے اقبال کو ایک غزل گو شاعر کے طور پر پڑھتے ہیں۔

غزل
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

ستم ہو کہ ہو وعدۂ بے حجابی
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں

یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو
کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں

ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا
وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں

کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل
چراغ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

ایک اور غزل ملاحظہ کیجیے

نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی

تمہارے پیامی نے سب راز کھولا
خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی

تأمل تو تھا ان کو آنے میں قاصد
مگر یہ بتا طرزِ انکار کیا تھی

کھنچے خود بخود جانبِ طور موسیٰ
کشش تیری اے شوقِ دیدار کیا تھی

کہیں ذکر رہتا ہے اقبالؔ تیرا
فسوں تھا کوئی تیری گفتار کیا تھی

Comments

یہ بھی پڑھیں