The news is by your side.

Advertisement

“مخربِ زبان….”

حالی کے دوست بے شمار تھے، لیکن دشمنوں اور مخالفوں کی کمی بھی نہ تھی۔ ان کے مخالفین میں مذہبی، غیرمذہبی اور دوست نما دشمن شامل تھے۔ حالی کی مخالفت کی ایک خاص وجہ ان کی سر سید سے دوستی، علی گڑھ تحریک سے وابستگی اور سرسید کی سوانح حیاتِ جاوید کی تصنیف تھی۔

یہاں ہم حالی کے چند معاصرین کی معاندانہ تنقید کو مستند حوالوں سے درج کرتے ہیں۔ حسرت موہانی اُردوئے معلّیٰ میں حالی پر سخت اعتراضات کرتے تھے۔ ایک اسی قسم کا واقعہ تذکرہ حالی میں شیخ اسماعیل پانی پتی نے یوں لکھا ہے:

”علی گڑھ کالج میں کوئی عظیم الشان تقریب تھی۔ نواب محسن الملک کے اصرار پر مولانا حالی بھی اس میں شرکت کے لیے تشریف لائے اور حسبِ معمول سید زین العابدین مرحوم کے مکان پر فروکش ہوئے۔

ایک صبح حسرت موہانی دو دوستوں کے ساتھ مولانا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ چندے اِدھر اُدھر کی باتیں ہوا کیں۔ اتنے میں سید صاحب موصوف نے بھی اپنے کمرے میں سے حسرت کو دیکھا۔ اُن میں لڑکپن کی شوخی اب تک باقی تھی۔ اپنے کتب خانے میں گئے اور اُردوئے معلیٰ کے دو تین پرچے اُٹھا لائے۔

حسرت اور اُن کے دوستوں کا ماتھا ٹھنکا کہ اب خیر نہیں۔ اور اُٹھ کر جانے پر آمادہ ہوئے مگر زین العابدین کب جانے دیتے تھے۔ خود پاس بیٹھ گئے۔ ایک پرچے کے ورق الٹنا شروع کیے اور مولانا حالی کو مخاطب کرکے حسرت اور اُردوئے معلیٰ کی تعریفوں کے پُل باندھ دیے۔ کسی کسی مضمون کی دو چار سطریں پڑھتے اور واہ خوب لکھا ہے کہہ کر داد دیتے۔

حالی بھی ہوں، ہاں سے تائید کرتے جاتے تھے۔ اتنے میں سید صاحب مصنوعی حیرت بلکہ وحشت کا اظہار کرکے بولے:

” ارے مولانا یہ دیکھیے آپ کی نسبت کیا لکھا ہے اور کچھ اس قسم کے الفاظ پڑھنا شروع کیے۔ سچ تو یہ ہے کہ حالی سے بڑھ کر مخربِ زبان کوئی نہیں ہوسکتا اور وہ جتنی جلدی اپنے قلم کو اُردو کی خدمت سے روک لیں اُتنا ہی اچھا ہے۔

فرشتہ منش حالی ذرا مکدّر نہیں ہوئے اور مسکرا کر کہا تو یہ کہا کہ نکتہ چینی اصلاحِ زبان کا بہترین ذریعہ ہے اور یہ کچھ عیب میں داخل نہیں۔“

کئی روز بعد ایک دوست نے حسرت سے پوچھا اب بھی حالی کے خلاف کچھ لکھو گے؟ جواب دیا جو کچھ لکھ چکا اُسی کا ملال اب تک دل پر ہے۔ حالی کا یہ ضبط، وقار اور عالی ظرفی بڑے بڑے مخالفوں کو شرمندہ اور نکتہ چینوں کو پشیمان کر دیتی تھی۔“

جب حالی کی شاہ کار کتاب ’حیاتِ جاوید‘ شائع ہوئی تو شبلی نعمانی نے اس کی سخت مخالفت کی۔ مولوی عبدالحق ’چند ہم عصر‘ میں لکھتے ہیں جب میں نے حیاتِ جاوید کا ایک نسخہ ان کو دیا تو دیکھتے ہی فرمایا۔

”یہ کذب و افترا کا آئینہ ہے۔“ یہ جملہ سن کر عبدالحق دم بخود رہ گئے کیوں کہ پڑھنے سے پہلے ایسی سخت رائے کیا معنیٰ رکھتی تھی۔

(سید تقی عابدی کے مضمون سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں