spot_img

تازہ ترین

بانی پی‌ ٹی آئی نے صدر کے لیے کِسے نامزد کیا؟ نام سامنے آگیا

اسلام آباد : سنی اتحاد کونسل کی جانب سے...

ملک کا اگلا وزیراعظم کون ؟ فیصلہ کل ہوگا

اسلام آباد :پاکستان کے نئے وزیراعظم کا انتخاب کل...

کراچی میں بارش کے بعد سردی مزید بڑھ گئی

شہر قائد میں گزشتہ روز ہونے والی بارش کے...

کراچی میں موسلا دھار بارش کا کوئی امکان نہیں، چیف میٹرولوجسٹ

چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے کہا ہے کہ کراچی...

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صدیق قومی اسمبلی...

الزائمر کی تشخیص 15 سال قبل کیسے ہوسکتی ہے؟ تحقیق میں انکشاف

اسٹاک ہوم : سوئیڈن میں سائنسدانوں نے ایک ایسے سادہ سے خون ٹیسٹ کو دریافت کیا ہے جو الزائمر کی تشخیص اس کی علامات ظاہر ہونے سے 15 برس قبل کرسکے گا۔

اس ٹیسٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ خون میں موجود تاؤ پروٹین کا پتہ لگایا جا سکتا ہے جو الزائمر کی علامات ظاہر ہونے سے 10 سے 15 سال قبل دماغ پر بننا شروع کردیتا ہے۔

اس تحقیق سے متعلق ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ٹیسٹ بیماری کی جلد تشخیص میں انقلابی تبدیلی کا باعث بنے گا۔ یونیورسٹی کالج لندن کی رہنمائی میں کی گئی تحقیق میں یہ ٹیسٹ تکلیف دہ لمبر پنکچرز کی نسبت زیادہ درست اور دیگر ٹیسٹ کی نسبت زیادہ بہتر پایا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سوئیڈن کی یونیورسٹی آف گوتھنبرگ میں کی گئی تحقیق کے نتائج جرنل نیورولوجی میں شائع کیے گئے، جس میں ڈاکٹر ایشٹن نکولس نے 786 افراد پر تجربہ کیا تھا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ ٹیسٹ 50 برس سے زیادہ کی عمر والے افراد کے لیے ملکی سطح پر اسکریننگ پروگرام کی راہ ہموار کرسکتا ہے اور موجودہ علاج بیماری کی جلدی تشخیص کے بعد بہتر کام کرسکتے ہیں۔

وضع ہونے والا ٹیسٹ خون میں موجود پی-ٹاؤ 217 نامی پروٹین کی مقدار کی پیمائش کرتے ہوئے کام کرتا ہے جو الزائمر بیماری کے دوران دماغ میں ہونے والی تبدیلیاں واضح ہوتی ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن کے جینیٹکس انسٹیٹیوٹ کے اعزازی پروفیسر ڈیوڈ کرٹس کا کہنا تھا کہ 50 برس سے زیادہ عمر کا کوئی بھی فرد ہر چند سالوں میں باقاعدگی کے ساتھ معائنے کی سہولت دے سکے گا بالکل ویسے ہی جس طرح کولیسٹرول کے لیے معائنہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ علاجوں کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ بیماری کی جلدی تشخیص کے بعد بہتر طریقے سے کام کرسکیں۔

واضح رہے کہ الزائمر ایک ایسی بیماری ہے جو یادداشت کو متاثر کرتی ہے اس کے اثرات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتے ہیں۔

مریض معمولات اور روزمرہ کے واقعات کو بھول جاتا ہے، عموماً 65 سال سے زائد عمر کے افراد اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں یہ بیماری ڈیمینشیا نہیں بلکہ اس کی ہی ایک قسم ہے۔

الزائمر ہونے کی کئی وجوہات ہیں جن میں جینیاتی، ماحولیاتی اور طرز زندگی شامل ہیں، اس کا کوئی مکمل علاج تو نہیں لیکن کچھ اقدامات سے مرض کو روکا ضرور جا سکتا ہے۔

 

Comments

- Advertisement -