The news is by your side.

Advertisement

پہاڑی درختوں کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف

امریکا میں پہاڑی سلسلے کے جنگلات اور درختوں پر نئی تحقیق میں انکشاف ہوا کہ خشک سالی میں درخت ندی نالوں کا پانی چرانے لگتے ہیں۔

جستجو کسی تحقیق کا محرک ہوتی ہے اور ہر کسی بھی معاملے پر ہونے والی تحقیق علم کا ایک در وا کرتی ہے، موجودہ دور میں سائنس اتنی ترقی کرچکی ہے اور تحقیق کی دنیا اتنی وسیع ہوچکی ہے کہ آئے دن نئی تحقیقی انکشافات لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔

امریکا میں بلیورج ماؤنٹین کے پہاڑی سلسلے پر لگے جنگلات اور درختوں پر غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ پہاڑی علاقے میں خشک موسم زیادہ دیر برقرار رہے تو پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی چُرانے لگتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ درخت جتنی بلندی پر ہوں گے وہ خشک سالی کے دور میں اتنا ہی زیادہ پانی استعمال کریں گے۔

اسی اسٹڈی کی بنیاد پر امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ارضی تجزیاتی مرکز سے وابستہ طالبہ کیٹی مک کوئلن نے بھی پہاڑی سلسلے کے جنگلات اور درختوں پر تحقیق کی ہے جس کے نتیجے میں حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے۔

اس حوالے سے گریٹ اسموکی ماؤنٹین پارک پر تحقیق کی گئی ہے جو اوک رج پہاڑی سلسلے کا ہی حصہ ہے۔ 1984 سے 2020 تک سیٹلائٹ تصاویر اور ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے جوتھرمل انفراریڈ پر مبنی تھیں، اس تحقیق کیلیے 15000 مربع میل جنگلات کا ڈیٹا پڑھا گیا تھا جو کئی امریکی ریاستوں پر محیط ہے۔

پڈیٹا کے مطابق جب جب خشک سالی آئی درختوں نے پانی زیادہ استعمال کیا اور یوں پانی کا بہاؤ شدید متاثر ہوا کیونکہ یہ پانی ہزاروں لاکھوں درختوں سے گزرتا ہے اور ہر درخت اس میں سے اپنا حصہ حاصل کرتا ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ اس کیفیت کو سمجھ کر ہم پہاڑی جنگلات کے دامن میں موجود آبادیوں، جانداروں اور کھیتوں میں پانی پہنچنے یا اس کی قلت کی پیشگوئی کرسکتے ہیں۔ یہ پیشگوئی بالخصوص خشک سالی کے دوران بہت معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں