The news is by your side.

Advertisement

فائزر اور موڈرنا ویکسینز کے حوالے سے حیران کن تحقیق

امریکا میں ہونے والی طبی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فائزر اور موڈرنا کورونا ویکسینز وائرس کے خلاف طویل المعیاد تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق فائزر۔بائیو این ٹیک اور موڈرنا کی جانب سے تیار کی گئی ویکسینز لگانے سے مدافعتی ردعمل کا تسلسل برقرار رہتا ہے اور وبا سے کئی برس تک تحفظ ملے گا، ان کمپنیوں کی ویکسین لگوانے والے کو اس وقت تک بوسٹر کی ضروری نہیں پڑتی جب تک وائرس اپنے ارتقائی مراحل سے نہ گزرے۔

اس تحقیق میں شامل ٹیم کے سربراہ علی العبادی کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھی علامت ہے کہ ان ویکسینز کا اثر دیرپا ہوتا ہے، اس مشاہدے کے دوران دیگر ویکسین کو شامل نہیں کیا گیا لیکن ہمیں یقین ہے وہ کم درپا ہوں گی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اسی ٹیم نے رواں سال مئی میں ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ کورونا کو شکست دینے والے افراد میں وائرس کو شناخت کرنے والے مدافعتی خلیات بون میرو میں بیماری کے کم از کم 8 ماہ تک موجود رہتے ہیں جو دوبارہ وائرس سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ نئی تحقیق میں ویکسینز کے دیرپا فوائد بھی سامنے آئے ہیں۔

اس تجربے کے دوران ماہرین نے 41 رضاکاروں کو حصہ بنایا جن میں سے 8 افراد نے وبا کو شکست دی تھی تمام افراد کو فائزر اور موڈرنا کی ویکسینز لگائی گئی، ان میں سے چودہ افراد کے ‘لمفی نوڈز’ کے نمونے ویکسین کی پہلی خوراک کے 3، 4، 5، 7 اور 15 ہفتوں جمع کیے گئے۔

تحقیق سے پتا چلا کہ ویکسین کی پہلی خوراک سے ہی 15 ہفتوں بعد بھی ان افراد میں خلیات کے مرکز متحرک رہے اور کورونا وائرس کو شناخت کرنے والے بی سیلز کی تعداد میں بھی کمی نہیں آئی۔

تجربے میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کے لگ بھگ 4 ماہ بعد بھی مدافعتی ردعمل کا سلسلہ جاری تھا جو بہت اچھی علامت ہے، ویکسینیشن کے عمل سے گزرنے والے بیشتر افراد کو بیماری کے خلاف طویل المعیاد تحفظ حاصل ہوسکتا ہے، بعد میں آنے والی کورونا اقسام کا نہیں کہا جاسکتا ہاں البتہ موجودہ اقسام سے بھی تحفظ ملتا ہے۔

تاہم پیچیدہ مسائل کے شکار افراد کو فائزر اور موڈرنا کے باوجود بوسٹر کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ واضح رہے کہ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل نیچر میں شائع ہوئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں