مجبوریوں کے کھیلتے ایمبولینس ڈرائیور Pakistani Ambulance Driver
The news is by your side.

Advertisement

مجبوریوں سے کھیلتے ایمبولینس ڈرائیور

کراچی: شہر قائد کی سڑکوں پر اکثر ایمبولینس کے سائرن کی آواز سنائی دیتی ہے جسے سنتے ہی لوگ گاڑی کو راستہ دیتے ہیں تاکہ مریض بروقت اسپتال پہنچے اور اُس کی قیمتی جان محفوظ رہ سکے تاہم اسپتال پہنچتے ہی متاثرہ شخص کے  ہمراہ جانے والے عزیز کے ساتھ ایک واقعہ ضرور پیش آتا ہے۔

انسان کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں کبھی حادثات، کبھی سانحات اور کبھی آفات تو شاید ہی کوئی ایسا شخص کو جس کا ابھی تک بلواسطہ یا بلاواسطہ ایمبولینسس ڈرائیور سے تعلق نہ پڑا ہو۔

گزشتہ دنوں فلاحی ادارے کے ایمبولینس ڈرائیور سے ملاقات ہوئی جو ادارے کی جانب سے مخصوص پوائنٹ پر لگائی جانے والی ڈیوٹی پر نالاں تھا، وجہ جاننے کی کوشش کرنے کے لیے سوالات کے انبار لگائے تو اُس نے مختصراً جواب دیا کہ کم تنخواہ میں گزارا مشکل ہے اور پوائنٹ پر کھڑی گاڑی پر مامور فرد کو مقررہ تنخواہ ہی ادا کی جاتی ہے۔

یہاں ادارے اور ڈرائیور کا نام اُس کے کیے ہوئے وعدے کے مطابق تحریر نہیں کیا جاسکتا تاہم اُس کو نوکری چھوڑ کر دوسری جاب تلاش کرنے کا مشورہ دیا تو اُس نے فٹ سے کہا کہ میں نوکری سے پریشان نہیں بلکہ پوائنٹ پر لگائی جانے والی ڈیوٹی سے پریشان ہوں۔

پریشانی کی وجہ بتاتے ہوئے اُس نے اس اہم راز سے پردہ ہٹایا کہ روٹ پر گاڑی چلانے کے دوران اوپر کی کمائی حاصل ہوتی ہے اور ڈیوٹی کے بعد گھر کے وقت تک جیب میں تقریبا 2 سے 3 ہزار روپے آجاتے ہیں، ساتھ ہی اُس نے بتایا کہ پوائنٹ پر کوئی کام نہیں کرنا پڑتا مگر بچے بیوی اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے روٹ پر جانا بہت ضروری ہے۔

اوپر سے پیسے کمانے کے طریقے پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈرائیور نے بتایا کہ “ایمرجنسی کی صورت میں کوئی بھی ہمارے پاس آکر کسی مقام پر جانے کی بات کرتا ہے تو ہم مریض کو لے کر اسی سمت چلنے پڑتے ہیں، اسپتال پہنچنے پر عموماً پریشانی کے عالم میں لوگ بتائی جانے والی رقم ادا کر کے رسید لیے بغیر مریض کو ڈاکٹر کے پاس لے کر بھاگ جاتے ہیں‘‘۔

ڈرائیور کا کہنا تھا کہ عام طور پر مریض کےہمراہ اسپتال جانے والے رفقاء اور عزیز رقم ادا کرتے ہیں تاہم کھلے پیسے نہ ہونے پر وہ بقایا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور وہ پیسے ہماری بچت یا کمائی کا سبب بنتے ہیں۔ اُس نے مزید کہا کہ ادارے کی جانب سے روٹ کی رقم مقرر ہوتی ہے اس لیے ہمیں ادارے میں مقرر کردہ رقم ہی جمع کروانی ہوتی ہے۔

ڈارئیور نے مزید کہا کہ مریض کے ہمراہ اسپتال آنے والے کچھ لوگ رقم ادائیگی کے وقت ادارے کی  رسید طلب کرلیتے ہیں ایسی ٹرپ یا روٹ پر ہمیں کوئی بچت نہیں ہوتی کیونکہ اُس کی کاربن رسید بھی تیار ہوتی ہے جو ادارے میں جمع کروانی لازم ہے تاہم اکثر لوگ رسید کا بولتے ہی نہیں جس کا ہمیں بے حد فائدہ ہوتا ہے۔

ساتھ ہی اُس نے بتایا کہ تمام بڑے اسپتالوں میں سے عباسی اسپتال ایسی جگہ ہے جہاں ڈرائیور ڈیوٹیاں لگوانے کے لیے ہرقسم کی قربانی دینے کو تیار رہتے ہیں کیونکہ اس مقام سے سب سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے جو روزانہ کے حساب سے 3 سے 5 ہزار روپے یومیہ تک پہنچ جاتی ہے جبکہ قریبی لیبارٹری یا مقام پر گاڑی لے جانے کی صورت میں ادارے کو آگاہ نہیں کیا جاتا جس کی پوری رقم جیب میں ہی آتی ہے۔

ان تمام باتوں کے دوران اُس نے بتایا کہ ادارے کی جانب سے ہر گاڑی کو روزانہ کی بنیاد پر پیڑول دیا جاتا ہے، ڈرائیور حضرات جب حاضری لگوانے دفتر جاتے ہیں تو اسی دوران رسید اور رقم اکاؤنٹس کاؤنٹر پر دیتے ہیں اور اپنی پیڑول کی پرچی بھی حاصل کرلیتے ہیں۔ ڈیوٹی ٹائمنگ کے حوالے سے اُس کا کہنا تھا کہ ہماری کوئی ٹائمنگ نہیں ایمرجنسی کی صورت میں کئی بار دو دو دن تک گھر کی شکل نہیں دیکھی۔

تنخواہ کے حوالے سے اُس کا کہنا تھا کہ عام طور پر ڈرائیورز کو ماہانہ 8 سے 12 ہزار روپے ادا کیے جاتے ہیں جبکہ سانحات حادثات والے افراد کو منتقل کرنے پر فارمولے کے تحت ایک رقم دی جاتی ہے جو کچھ زیادہ نہیں مگر ہر ادارے کا ڈرائیور روٹ پر گاڑی چلانے کو ترجیح دیتا ہے۔

لہذا اب یہ خیال رکھنا ہے کہ خدانخواستہ ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس کے ذریعے مریض کو اسپتال منتقل کرنے کے بعد وہاں پہنچ کر ڈرائیور سے رسید ضرور طلب کرنی ہے تاکہ فلاحی ادارے کو بھی فائدہ ہو اور عوام زائد پیسےادا کرنے سے بھی بچ جائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں