The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان سے ایمبولینس میں گٹکا کراچی منتقل کیے جانے کا انکشاف

گٹکا سپلائی کرنے والے 3 ملزمان گرفتار، موچکو پولیس نے بھی کارروائی میں ایک ایمبولینس سے چھالیہ برآمد کر لیا

کراچی: بلوچستان سے ایمبولینس میں گٹکا کراچی منتقل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق گٹکا بنانے والوں نے لاک ڈاؤن کے دوران اخلاقیات کی حدیں پار کر دیں، گٹکے کی ترسیل کے لیے ایمبولینس کا استعمال کرنے لگے۔

نیپئر پولیس نے بلوچستان سے مریض کی منتقلی کا جھانسہ دے کر کراچی میں گٹکا اسمگل کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر لیا، پولیس نے یہ کارروائی کشتی چوک پر کی اور 3 ملزمان کو ایمبولینس سمیت پکڑا۔

ملزمان کے قبضے سے بھارتی گٹکا برآمد کیا گیا، گرفتار ملزمان کا کہنا تھا کہ انھوں نے مجبوری میں یہ کام کیا، ہمیں مال کو سہراب گوٹھ کراچی پہنچانے کے لیے کہا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کرونا بیماری کا جھانسہ دے کر گٹکا سپلائی کر رہے تھے، گٹکا چھپانے کے لیے ایک ملزم کو مریض بنا کر ایمبولینس میں لٹایا گیا تھا، پولیس سے بچنے کے لیے ملزمان نے ایمبولینس کے روٹر بھی آن رکھے ہوئے تھے۔

ادھر کراچی میں موچکو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ایمبولینس سے بڑی مقدار میں چھالیہ برآمد کر لیا ہے، اس کارروائی کے دوران ڈرائیور کو بھی گرفتار کیا گیا، ایس ایس پی مقدس حیدر کا کہنا تھا کہ ملزم ایمبولینس میں چھالیہ سپلائی کر رہا تھا، ملزم ناکوں سے بچنے کے لیے ایمبولینس کا استعمال کرتا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں