The news is by your side.

Advertisement

درحقیقت “امریکا” کیا ہے؟

عام طور پر جب ہم امریکا کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے صرف شمالی امریکا کے براعظم کا وہ ملک مراد ہوتا ہے جسے ریاست ہائے متحدہ یا انگریزی میں یونائیٹڈ اسٹیٹس کہتے ہیں اور جو اس وقت دنیا کی سُپر پاور کی حیثیت سے مشہور ہے۔

درحقیقت امریکا دو بڑے براعظموں کا نام ہے۔ ایک براعظم شمالی امریکا ہے جس کا سب سے بڑا ملک کینیڈا ہے اور ریاست ہائے متحدہ اور میکسیکو بھی اُسی میں واقع ہیں۔

دوسرا براعظم جنوبی امریکا کہلاتا ہے جو کولمبیا سے ارجنٹائن اور چلی تک پھیلا ہوا ہے۔

شمالی امریکا کے انتہائی جنوبی سرے پر خشکی کی ایک لمبی پٹی ہے جس پر میکسیکو سے لے کر پانامہ تک بہت سے چھوٹے چھوٹے ملک واقع ہیں۔

یہ علاقہ اگرچہ شمالی امریکا کے براعظم میں شامل ہے، لیکن اصطلاح میں اِسے وسطی امریکا کہتے ہیں۔ یہاں انگریزی کے بجائے دوسری رومن زبانیں مثلاً اسپینی، پرتگیزی یا فرانسیسی زبانیں بولتے ہیں، انہیں لاطینی امریکا کہا جاتا ہے۔ بعض لوگ لاطینی امریکا اور جنوبی امریکا کو ہم معنی سمجھتے ہیں مگر یہ درست نہیں ہے۔

اگرچہ جنوبی امریکا کا پورا براعظم لاطینی امریکا میں شامل ہے، لیکن لاطینی امریکا میں میکسیکو بھی داخل ہے جس کا ایک بڑا حصہ شمالی امریکا میں ہے۔ نیز وسطی امریکا کے تمام ممالک بھی لاطینی امریکا کہلاتے ہیں جو زیادہ تر اسپینی زبان بولتے ہیں۔

شمالی امریکا اور جنوبی امریکا کے درمیان بحرِاوقیانوس (Atlantic Ocean) سے ملا ہوا ایک سمندر ہے جسے بحیرۂ کیریبین (Carrabian Sea) کہا جاتا ہے۔

اس سمندر میں کئی جزیرے ہیں جنہیں جزائرِ غرب الہند (ویسٹ انڈیز) کہتے ہیں۔ ان میں سے ہر جزیرہ اب مستقل ملک بن چکا ہے۔ برٹانیکا کے مطابق ان جزیروں کو بھی لاطینی امریکا کی اصطلاح میں شامل کر لیا جاتا ہے۔


(لاطینی امریکا کا ایک سفر، از مفتی محمد تقی عثمانی)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں