The news is by your side.

Advertisement

ٹیکساس اسکول فائرنگ، حملہ آور کے خلاف عدالت میں رپورٹ پیش

ٹیکساس: امریکی شہر ہیوسٹن کے قریب اسکول میں فائرنگ کرنے والا 17 سالہ حملہ آور کا کہنا ہے کہ ’میں نے فائرنگ سے قبل کچھ طلبہ کو فرار کردیا تھا تاکہ وہ میری کہانی سنا سکیں‘۔

تفصیلات کے مطابق جمعے کے روز امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں واقع سانتا فی ہائی اسکول میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 13 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اسکول میں فائرنگ کرنے والے طالب علم نے پولیس حراست میں بیان دیا کہ ’میں نے کچھ اسٹوڈنٹس جو میری پسندیدہ تھے انہیں بھاگا دیا کہ تاکہ وہ میری کہانی سنا سکے‘۔

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ پولیس نے ڈیمیٹریوس پیگورٹز کو عدالت میں پیش کردیا تھا، مقدمے کی سماعت کے دوران مذکورہ طالب علم پر عدالت نے جمعے کے روز اسکول میں 10 افراد کو قتل کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ عدالت میں پیش کیے گئے ایفٹ ڈیفٹ کے مطابق ’17 سالہ ڈیمیٹریوس پیگورٹز نے متعدد افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے جس کے بعد قانوناً حق استعمال کرتے ہوئے خاموشی اختیار کیے ہے‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ ’مذکورہ حملہ آور نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد خود کو پولیس کی حراست میں دیا‘۔

پولیس کا کہنا تھا کہ فائرنگ کا یہ تبادلہ 15 منٹ تک جاری رہا، تاہم خودکشی کرنے کی ہمت نہیں ہوئی اس لیے ڈیمیٹریوس پیگورٹز نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے نتیجے میں 8 طالب علم اور دو اساتذہ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 13 افراد زخمی ہوئے تھے، زخمی ہونے والوں میں اسکول کا سیکیورٹی گارڈ بھی شامل ہے جس کی حالت نازک ہے۔

یاد رہے کہ حملہ آور نے اسکول میں فائرنگ کرنے کے لیے مبینہ طور پر شارٹ گن اور ریوالور کا استعمال کیا تھا، جو مذکورہ حملہ آور کے والد کا اسلحہ تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تعداد اسکول میں زیر تعلیم بچوں کی ہے۔

امریکی ریاست ڑیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کا کہنا ہے کہ ’متاثرہ اسکول کے جنوب میں 65 کلو میٹر دور متعدد اقسام کا دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے، جس میں سی او 2 ڈیوائس اور پیٹرول بم بھی شامل ہے‘۔

خیال رہے کہ ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کا کہنا تھا کہ پولیس نے حملہ آور کی ڈائری، کمپیوٹر اور موبائل فون کا جائزہ لیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ شخص حملے کے بعد خودکشی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

سانتا فی پولیس کی جانب سے علاقہ مکینوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ’کسی بھی مشکوک چیز کے ملنے پر اسے چھونے کے بجائے پولیس کو مطلع کریں‘۔

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فائرنگ میں زخمی ہونے والے افراد میں متعدد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جن میں بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ پولیس نے واردات کے فوراً بعد کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گرفتار کرلیا تھا۔

ہیوسٹن پولیس کا کہنا ہے حملہ آور کی شناخت 17 سالہ ڈیمیٹریوس پیگورٹز کے نام سے ہوئی ہے جو سانتا فی ہائی اسکول کا پرانا طالب علم تھا۔

خیال رہے کہ جمعے کے روز امریکی شہر ہیوسٹن کے قریب سانتا فی ہائی اسکول میں فائرنگ سے 17 پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ سمیت دس افراد جاں بحق ہوگئے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں