The news is by your side.

Advertisement

چین نے امریکی طرزعمل ڈاکوؤں کے مترادف قرار دے دیا

افغانستان کے اثاثوں سے متعلق امریکی فیصلے کو چین نے کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا طرز عمل ڈاکوؤں سے مختلف نہیں۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ افغان اثاثوں سے متعلق امریکا کا طرز عمل ڈاکوؤں سے مختلف نہیں ہے، امریکا کو افغان عوام کے تمام اثاثے غیر منجمد کرکے افغانستان پر سے یکطرفہ پابندیاں جلد از جلد ختم کرنی چاہئیں۔

وانگ وین بن کا کہنا تھا کہ امریکا نے افغان عوام کی رضامندی کے بغیر جان بوجھ کر افغان اثاثوں کے بارے میں فیصلہ کیا اور ان کی مرضی کے بغیر ان کے اثاثوں کو اپنے پاس رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی فیصلے سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ امریکا اپنے دعوؤں کے برعکس کمزوروں کا دفاع نہیں کرتا اور صرف اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ہی فیصلے کرتا ہے۔

ترجمان چینی دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا میں افغانستان کے سات ارب ڈالر کے منجمد اثاثے موجود ہیں امریکی صدر جوبائیڈن نے افغان اثاثوں میں سے نصف نائن الیون متاثرین کو دینے اور باقی نصف اثاثوں سے افغان ٹرسٹ فنڈ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

پریس بریفنگ میں ترجمان نے چین کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو افغانستان میں انسانی بحران کم کرنے کے لیے اپنی ذمے داری قبول کرنی چاہیے اور افغان عوام کے مجرم کی حیثیت سے اسے افغان عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں