The news is by your side.

Advertisement

کابل دھماکے : امریکا کا افغانستان میں ڈرون حملہ

امریکا نے کابل خودکش دھماکوں کے ردعمل میں افغانستان میں ایک مقام پر ڈرون حملہ کیا ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ننگرہار میں حملے میں داعش خراسان کا ایک رکن مارا گیا۔

اس حوالے سے امریکی حکام نے بتایا ہے کہ افغانستان میں ڈرون حملے میں داعش کے ’منصوبہ ساز‘ کو نشانہ بنایا، ہلاک ہونے والا داعش کا رکن اور امریکا پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے کیپٹن بل اربن نے ڈرون حملے کے بعد بتایا کہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے ہدف کو ہلاک کر دیا ہے۔‘ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ہدف کا تعلق کابل ایئرپورٹ پر حملوں سے تھا۔

روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈرون حملہ داعش کے عسکریت پسند پر کیا گیا جو مستقبل میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

عہدیدار کے مطابق مشرق وسطیٰ سے اڑنے والے ڈرون نے داعش کے عسکریت پسند کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے دوست کے ساتھ کار میں تھا۔ ’دونوں کی ہلاکت کا یقین کیا جا رہا ہے۔‘

واضح رہے کہ صدر بائیڈن نے جمعرات کو کہا تھا کہ کابل دھماکوں کے ذمہ داروں کو تلاش کر کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے پینٹاگون کو حملے کے منصوبہ سازوں کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

کابل ایئرپورٹ پر خودکش بم دھماکے میں 13 امریکی فوجیوں کے علاوہ 70 سے زائد افغان شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

دوسری جانب امریکہ نے اپنے شہریوں کو کابل ایئرپورٹ کے گیٹس سے دور رہنے کے لیے وارننگ جاری کی ہے۔

سنیچر کو کابل ایئرپورٹ کے علاقے میں نئے حملوں سے خبردار کرتے ہوئے حکام نے امریکی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ہوائی اڈے کے مرکزی دروازے سے فوری طور پر دور چلے جائیں۔

امریکی حکام کے مطابق اس وقت بھی پانچ ہزار افراد کابل ایئرپورٹ کے راستے افغانستان سے باہر نکلنے کے لیے انتظار میں ہیں۔افغانستان سے امریکی انخلا کے لیے معاہدے کے مطابق 31 اگست کی ڈیڈلائن مقرر ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں