The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں بدامنی اور اسٹریٹ کرائمز کا خاتمہ کیسے ممکن؟

کراچی: صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے جن کو قابو کرنے کے لیے وفاقی وزیر اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما امین الحق نے فارمولا پیش کردیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر امین الحق کا کہنا ہے کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے لیے مقامی پولیس افسران کی تعیناتی، تھانوں میں انٹیلی جنس نیٹ ورکنگ اور محلہ کمیٹیوں کی تشکیل ناگزیر ہے۔

امین الحق کا کہنا ہے کہ تھانے داروں کی تقرری کم از کم 3 برس کے لیے ہو، ان کے اثاثوں کی مکمل تفصیلات بھی مرتب کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر مقامی افسران کو نہ علاقے سے آگاہی ہوتی ہے اور نہ علاقے یا شہر کے مفادات سے کوئی سروکار۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کراچی کے 100 سے زائد تھانے ہیں اور ہر تھانے کی حدود میں کم از کم 3 سے 4 لاکھ کی آبادی کی اوسط ہے، اتنی بڑی آبادی میں کیا کوئی اسی علاقے سے تعلق رکھنے والا پولیس افسر تعینات نہیں ہوسکتا؟

انہوں نے کہا کہ تھانے کی حدود میں وارداتوں کا گراف بڑھے تو اس افسر کو معطل نہیں نوکری سے برخاست کیا جائے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس نیٹ ورک اور اسپیشل برانچ پولیس کو فعال کرنے کے ساتھ ساتھ محلہ کمیٹیوں کی تشکیل سے مؤثر نیٹ ورک بن سکتا ہے، سرکاری کیمروں کی درستگی، ہر گلی کے انٹری و ایگزٹ پر رہائشیوں کی مدد سے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ تھانوں میں نفری اور گاڑیوں کی تعداد مناسب ہو اور ان کا ریکارڈ سہ ماہی بنیادوں پر چیک بھی کیا جائے۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ اگر فوری طور پر اس جیسے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو ملک کو کما کر دینے والا یہ شہر مکمل طور پر مفلوج ہوجائے گا۔ شہر میں جرائم کی تشویش ناک حد تک وارداتوں کے باوجود وزیر اعلیٰ نے امن و امان سے متعلق کوئی اجلاس طلب نہیں کیا جو تشویشناک ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں