The news is by your side.

ماہرین قانون نے عماد یوسف کی گرفتاری کا طریقہ غیر قانونی اور اغوا قرار دے دیا

کراچی: ماہرین قانون نے عماد یوسف کی گرفتاری کا طریقہ غیر قانونی اور اغوا قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق ماہرین قانون نے اے آر وائی نیوز کے ہیڈ آف نیوز عماد یوسف کی گرفتاری کے طریقے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

ماہر قانون علی ظفر نے کہا کسی بھی شخص کی گرفتاری کے لیے مجسٹریٹ سے وارنٹ لینا پڑتا ہے، اور وارنٹ گرفتاری سے پہلے نوٹس بھی دیا جاتا ہے، بغیر وارنٹ کسی کو گرفتار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔

نشریات کی بندش کے باعث اے آر وائی نیوز کی لائیو ٹرانسمیشن یہاں دیکھیں

انھوں نے کہا اس طرح کی کارروائیاں آمرانہ دور میں بھی ہوتیں، لیکن آئین و جمہوریت کے ہوتے ایسی کارروائیاں غیر قانونی ہیں، سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے کر معاملے پر کارروائی کر سکتی ہے۔

فیصل چودھری ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت آئین و قانون کی دھجیاں اڑا رہی ہے، عماد یوسف کی گرفتاری بہت افسوسناک ہے، حکومت کے اس اقدام کی پکڑ ہو سکتی ہے، اگر ریاست ہی قانون کی دھجیاں اڑائے تو فسطائیت پھیلتی ہے، ایسی کارروائی گرفتاری نہیں اغوا ہے۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ یہ کھلی دہشت گردی ہے، امید ہے چیف جسٹس از خود نوٹس لیں گے، آزادی اظہار کا قانون صحافیوں کو بات کرنے کا موقع دیتا ہے۔

اے آر وائی کے ہیڈ آف نیوز عماد یوسف بغیر وارنٹ ڈیفنس سے گرفتار

انھوں نے کہا ایسی کیا آفت آ گئی تھی کہ رات گئے عماد یوسف کو گرفتار کیا گیا، اصولی طور پر کسی شخص کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کیا جاتا ہے، عماد یوسف کی اس طرح گرفتاری قانون کی خلاف ورزی ہے، معاملے کو کسی اور طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ماہر قانون صفدر شاہین نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ پہلے مقدمہ درج ہو پھر گرفتاری ہو، آئین و قانون کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، اس طرح کی غیر اخلاقی کارروائیوں کی آئین میں کوئی جگہ نہیں، قانون میں مقدمہ پہلے اور گرفتاری بعد میں کوئی شق نہیں ہے، عماد یوسف کو گرفتار نہیں اغوا کیا گیا ہے۔

صفدر شاہین کا کہنا تھا گرفتاری کے لیے آنے والے اہل کاروں کو وارنٹ گرفتاری دکھانے ہوتے ہیں، پولیس کے پاس بغیر وارنٹ گرفتاری کسی کے گھر داخل ہونے کا اختیار نہیں، جب وارنٹ نہیں تو یہ گرفتاری نہیں اغوا ہے، عماد یوسف کی گرفتاری کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

انھوں نے کہا عدالت کی جانب سے عماد یوسف کو چھوڑ دیا جائے گا، عدالت انصاف کرے گی، واقعے میں جو لوگ بھی ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، ایف آئی آر بھی درج ہو سکتی ہے، اگر کارروائی نہیں ہوتی تو مجسٹریٹ براہ راست طلب کر سکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں