The news is by your side.

Advertisement

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

”نہ پتُر، تُو اتنا پریشان نہ ہو، تو ایسا کر چل میرے کمرے میں، میں تیری ساری الجھن دور کر دیتی ہوں“۔ دادی پرونت کور نے کہا تو میں اپنے آپ میں آیا۔ وہ جو میرے دل و دماغ میں کھٹک رہا تھا کہ اس میں کوئی راز ہے ضرور ممکن ہے وہ سامنے آجانے کا وقت آگیا تھا۔ میں نے دادی پرونت کورکو سہارا دے کر اٹھایا اور اس کے ساتھ آہستہ قدموں سے ان کے کمرے میں چلا گیا۔ وہ بڑا سادہ سا کمرہ تھا۔ دیواروں پر سفید پینٹ تھا اور دائیں طرف کی دیوار پر ایک بڑی سی تصویر بابا جی گرونانک کی لگی ہوتی تھی۔ ایک آبنوسی بیڈ تھا۔ ایک صوفہ اور دو کرسیاں تھیں۔ صاف ستھرا، ہوا دار روشن کمرے میں وہ جاتے ہی اپنے بیڈ پر بیٹھ گئیں اور میں ایک کرسی گھسیٹ کر بالکل ان کے پاس جا بیٹھا۔میں ان کی طرف دیکھ رہا تھا اور وہ خیالوں میں کھوئی ہوئیں تھیں۔ پھر اچانک سر اٹھا کر بولی:
”تیرے دادا کا نام نور محمد ہے نا….؟“


اس ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں


پرونت کورکے منہ سے اپنے دادا جی کا نام سن کر میں پھر حیرت زدہ رہ گیا۔ یہاں آ کر میں نے ایک بار بھی ان کا نام نہیں لیا تھا۔
”جی ، یہی ہے….“
”اونچا لمبا، گورے رنگ کا، بڑی گہری آنکھیں، لمبا ناک اور خاص بات یہ ہے کہ اس کی دائیں آنکھ کے ساتھ ایک تل ہے“۔ وہ خیالو ں میں ڈوبی کہتی چلی گئی۔
”جی ہاں….! آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں“۔ میں نے انتہائی تجسس سے کہا۔
”تو سن پتر….! وہ تیرا دادا یہیں اس گاؤں کا رہنے والا تھا“۔
”میرے دادا جی کا تعلق اس گاؤں سے ہے“۔
”ہاں….! اور پتر، میں جو کچھ تجھ بتانے جارہی ہوں، وہ بالکل سچ ہے، اور سچ بڑا کڑوا ہوتا ہے۔ اپنے دل کو بڑا مضبوط کر کے ساری باتیں سننا، رب کی جو مرضی تھی، وہ ہوتی ہے، کوئی بندہ اس میں کچھ نہیں کر سکتا تھا“۔
”دادی آپ بتاؤ میں سننے کے لیے تیار ہوں“۔ میں اس وقت ایسی حالت میں تھا کہ میرا پورا بدن سن ہو چکا تھا میرا دورانِ خون میری کنپٹیوںمیں ٹھوکریں مار رہا تھا۔ میں یہ سوچ کر ہی حیرت زدہ تھا کہ میرے آباءکا تعلق اس گاؤں میں ہے جہاں میں اب اتفاق سے موجود ہوں۔ انتہائی تجسس سے میرا دماغ سلگ رہا تھا۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہیں، بھان سنگھ لیپ ٹاپ لیے آگیا۔ مجھے اس وقت اس کی آمد بہت بری لگی تھی۔
”یہ لے …. نیٹ چل رہا ہے“۔ اس نے یہ کہتے ہوئے لیپ ٹاپ مجھے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے وہ لیا اور بیڈ پر رکھ دیا۔ وہ باہر چلا گیا۔ اسکرین روشن تھی۔ دادی خاموش ہو گئی تھی۔ اس لیے میں لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گیا۔ میں دل ہی دل میں دعا کرنے لگا کہ فرحانہ آن لائن ہو۔ وہ آن لائن ہی تھی۔ وہ معمول کے مطابق میری خیر خیریت دریافت کرنے لگی، میں نے سب کا پوچھا۔ اس نے سب کی خیریت بتائی، میں نے دادا جی کا پوچھا، تو اس نے بتایا کہ وہ اپنے کمرے میں ہیں۔ میں نے ان سے گپ شپ لگانے کے لیے کہا۔کچھ دیر بعد وہ کیمرے کے سامنے تھے۔ میں نے ان کا حال احوال پوچھا اور پھر ان کی تصویریں محفوظ کرلیں۔ حال احوال پوچھنے کے بعد میں نے رابطہ منقطع کر دیا۔
”دادی یہ ہے میرے دادا جی“۔
میں نے ان کی تصویریں دادی کو دکھائیں وہ نہایت تجسس اور حیرت سے دیکھتی رہی، پھر سراسرتے ہوئے لہجے میں بولیں۔ مجھے لگا جسے وہ خود کلامی کررہی ہیں۔
”بالکل وہی…. بوڑھاہو گیا ہے…. وہ دیکھو تل…. اب تو داڑھی بھی رکھ لی ہے“۔ پھر وہ سر اٹھا کر بولیں۔ ”تجھے کبھی احساس نہیں ہوا کہ تُو بہو ہو اپنے دادا کی تصویر ہے۔ تیرا دادا جب تیری عمر میں تھا تو بالکل تم جیسا تھا“۔
”ہاں یہ تو ہے، میری شبیہہ، میرے باپ سے زیادہ میرے دادا جی پر ہے“۔
”بس یہی دیکھ کر امرت کور کی خاموشی ٹوٹی ہے پتر….! وہ جب اس سے بچھڑا تھا، تب وہ تیری عمر ہی کا تھا، اسے یہی لگا ہے کہ نور محمد واپس آگیا ہے“۔
”دادی یہ کیا گورکھ دھندا ہے۔ مجھے بتاؤنا“۔ میں نے انتہائی تجسس سے کہا تو وہ کچھ دیر میری طرف دیکھتی رہی۔ پھر بڑے جذب سے کہتی چلی گئی۔
”میں اور امرت کور دونوں گہری سہیلیاں تھیں۔ سارے راز نیاز ایک دوسرے سے کرلیتی تھیں۔ ان دنوں ملک تقسیم ہونے کی باتیں چل رہی تھیں۔ جب میری اور امرت کور کی عمریں سولہ سترہ سال کے قریب ہوں گی۔یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ پھر چند لمحے ٹھہرکر کہتی چلی گئی۔


دوام – مکمل ناول پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں


”نی پرونتے….! وہ دیکھ نور محمد آرہا ہے۔ آج اس سے بات کر کے ہی چھوڑنی ہے۔ بڑی اکڑہے اس میں میری بات ہی نہیں سنتا“۔ امرت کور نے گلے میں پڑا ہوا دوپٹہ درست کرتے ہوئے کہا۔ تب پرونت نے اس طرف دیکھا، جدھر سے نورمحمد بیل گاڑی پر بیٹھا آرہا تھا۔ شام ہونے کو تھی۔ مغربی افق رنگین ہو گیا ہوا تھا۔ یوں جیسے بسنتی چادر اوڑھ کر اندھیرے میں سورج گم ہو جانا چاہتا ہو۔ نور محمد بیل گاڑی پر سوار تھا اور جو آہستہ آہستہ چلتی چلی آرہی تھی۔ کچے راستے پر وہ دونوں درخت کے پاس کھڑی تھیں۔ کچے راستے کے دونوں اطراف ایسے بے شمار درخت تھے جو دور تک چلے گئے ہوئے تھے۔ کھیتوں سے گاؤں کی طرف آنے والا وہ واحد راستہ تھا۔ دوسرا راستہ گاؤں کی پرلی طرف تھا جو شہر کی جانب جاتا تھا۔ پرونت کورکو نہیں معلوم تھا کہ آج امرت کور کے دل میں کیا ہے، مگر اسے اتنا معلوم تھا کہ وہ اسے چاہتی بہت ہے۔ نہ جانے کب سے نورمحمد کی چاہت اس کے من میں آبسی تھی۔ نور محمد تھا بھی بڑا گھبروجوان، گورا چٹا، تیکھے نین نقش والا، لمبے قد کا ۔ وہ تھا بڑا معصوم، بس اسے اپنے کام سے غرض ہوتی تھی۔ صبح وہ کھیتوں کی طرف جا نکلتا اور شام ڈھلے لوٹتا۔ ایسے ہی کسی وقت نور محمد کو ایک نگاہ دیکھنے کے لیے امرت کو ر گھر سے نکل آئی تھی۔ اس دن امرت کور کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ پرونت کور گھبرا گئی۔ اس نے جلدی سے کہا۔
”کیا بات کرنی ہے تُو نے اس سے، ایویں کوئی غلط بات نہ کہہ دینا“۔
”غلط بات کیسی، میں نے تو آج اسے اپنے دل کا حال کہہ دینا ہے، پھر آگے رب جانے کیا ہوتا ہے“۔ اس نے پاگلوں کی طرح نور محمد کو آتے دیکھ کر کہا۔
”میں نے تمہیں کتنی بارسمجھایا کہ تو جو اس سے پاگلوں کی طرح محبت کر رہی ہے نا اس کا انجام بہت بھیانک ہونے والا ہے، تیرے باپو بلوندر سنگھ کو اگر بھنک بھی پڑ گئی نا، تو پھر تم دونوں میں سے کوئی ایک نہیں ہے۔ تجھے پتہ ہے وہ کتنا ظالم ہے“۔ پرونت کور نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
”جو تو کہہ رہی ہے، میں جانتی ہوں پرونت….! پر میں اس دل کا کیا کروں جو کسی کی مانتا ہی نہیں، ہر وقت اس نور محمد کا خیال رہتا ہے، سا را دن اور ساری رات…. مجھے بھی کوئی علاج بتانا….“امرت کور الجھے ہوئے انداز میں بولی۔
”تیرا علاج بھی تلاش کر لیتے ہیں۔ پر تُو نے نور محمد سے کچھ نہیں کہنا، ایویں کیوں اس کی جان کی دشمن بن رہی ہے“۔ اس نے سمجھایا۔
”پر میں کیا کروں۔ وہ تو میری طرف دیکھتا بھی نہیں ہے“۔ وہ بیل گاڑی کو قریب آتے ہوئے دیکھ کر تیزی سے بولی۔
”میں مانتی ہوں کہ محبت میں انسان اپنے آپ سے بے بس ہو جاتا ہے لیکن اتنا بھی نہیں موت کے منہ میں جا پڑے“۔ اس نے سمجھایا۔
”اسے پتہ تو ہو کہ میں اس کے لیے کتنا تڑپتی ہوں۔ راتیں آنکھوں میں کاٹتی ہوں….“ امرت کور نے نور محمد کی طرف دیکھ کر کہا جو بالکل اس کے قریب آچکا تھا۔ پھر ہاتھ کے اشارے سے اسے بیل گاڑی روکنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ ”روک…. روک…. ہمیں بھی گاؤں تک لے چل“۔
نور محمد نے بیل گاڑی روک دی۔ وہ دونوں اچھل کر بیل گاڑی میں لدے ہوئے چارے پر بیٹھ گئیں تو اس نے بیلوں کو ہانک دیا۔ پھر ان دونوں سے مخاطب ہو کر بولا۔
”یہ تم دونوں ایسے کیوں پھرتی رہتی ہو۔ شام ہونے سے پہلے گھر چلے جاتے ہیں۔ دیکھتی نہیں ہو دن ڈوب چلا ہے“۔
”کیا کریں گھر میں بیٹھ کر، جب دل میں کسی کے لیے آگ لگی ہو“۔ امرت کور نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے ہذیانی انداز میں کہا ۔ تو وہ چونک گیا۔ پھر بولا۔
”امرت کورے….! اب تُو بچی نہیں رہی بڑی ہو گئی ہے۔ گھر میں رہا کر اور ایسی فضول باتیں نہ کیا کر۔ گھر کے سو کام ہوتے ہیں۔ وہ کیا کر“۔
”نوکر چاکر تھوڑے ہیں گھر کے کام کرنے کے لیے۔ میں کیوں کروں“۔ وہ تنک کربولی۔
”تو پھر گھر میں بیٹھ کر رب رب کیا کر۔ سکول میں جو تُو نے چار جماعتیں پڑھی ہیں، وہ بھی ضائع کر رہی ہے“۔ نور محمد نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے کہا۔
”نور محمد….! مجھے یہ تو بتا، جب کوئی کسی کو پیارا لگنے لگے تو بندے کو کیا کرنا چاہئے؟“ امرت کور نے یوں کہا جیسے وہ دور کہیں سے بات کر رہی ہو۔
”اسے اپنے دماغ کا علاج کرانا چاہئے کسی وید یا حکیم سے۔ یہ جوانی ہر کسی پر آتی ہے، پر اسے سنبھالتا کوئی کوئی ہے۔ سچا صرف رب کا نام ہے“۔ وہ جذب سے کہتے ہوئے خاموش ہو گیا۔ پھر بولا۔ ”امرت کورے، اپنی عزت اور اپنے ماں باپ کی عزت سے بڑھ کر کوئی شے نہیں ہے۔ ہوش کی دوا کر“۔
”جب من ہی قابو میں نہ رہے تو پھر بھلا بندہ کیا کرے“۔ امرت کور نے اس کی بات سنی اَن سنی کرتے ہوئے کہا۔
”کہانا رب رب کرے…. اسی سے اپنی لَو لگائے“۔ اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
”نور محمد….! تُومجھے بڑا اچھا لگتا ہے۔ ہر وقت تُو ہی میری نگاہوں کے سامنے رہتا ہے، میں کیا کروں“۔ امرت کورنے اتنی بڑی بات یوں کہہ دی جیسے اسے ہوش ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔ نور محمد ہکا بکا رہ گیا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت پھیل کر جم گئی۔ کتنی دیر تک وہ کچھ بول ہی نہیں پایا۔ جب اس کے حواس قابو میں آئے تو وہ دھیرے سے بولا۔
”امرت کورے….! آج تُو نے یہ بات اپنے منہ سے نکال دی، پھر کبھی ایسی بات سوچنا بھی مت، تجھے معلوم ہے کہ تیری اس بات سے کتنا خون بہہ سکتا ہے۔ کتنے گھر اجڑ سکتے ہیں۔ تجھے ذرا خوف نہیں آیا، اتنی بڑی بات کہتے ہوئے“۔
”جو سچ ہے وہ میں نے تم سے کہہ دیا، میرے دل میں جو محبت ہے وہ کوئی دوسرا نہیں نکال سکتا“۔ امرت کور پھر سے ہذیانی انداز میں بولی۔
”تُو پاگل ہے۔ تجھے پتہ ہی نہیں تُو کیا کہہ رہی ہے“۔ یہ کہہ کر وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔ پھر بولا۔ ”چل میں یہ مان لیتا ہوں کہ تجھے مجھ سے بڑی محبت ہے، تو پھر کیا ہو گا؟“
”میں نہیں جانتی کہ کیا ہو گا یا کیا ہونا چاہئے۔ بس دل یہ کرتا ہے کہ تجھے خود میں سمالوں یا میں تم میں سمٹ جاؤں۔ کوئی تو راہ ہو گی ایسی….“ وہ پاگلوں کی مانند بولی۔
”امرت کورے….! تُو جس راہ پر چل پڑی ہے، اس میں تُو خود بھی مرے گی اور دوسروں کو بھی مروائے گی۔ یہ تیری کیسی محبت ہے جو ہنستے بستے گھروں کو اجاڑ کر رکھ دے گی، تُو پاگل نہ بن، ہوش کر ہوش ، میری مان، تو گھر میں رہا کر اور گرنتھ صاحب کا پاٹھ کر کے، اپنی آتما کو شانتی دے۔ ایویں نہ خود لوگوں کی نگاہ میں آ اور نہ مجھے بدنام کر…. سمجھا اسے پرونت کور…. سمجھا اسے“۔
”اس کی تو مت ہی ماری گئی ہے۔ تیرے آنے سے پہلے بھی میں اسے یہی سمجھا رہی تھی“۔ پرونت کور نے اکتائے ہوئے انداز میں کہا۔
”تو اسے بٹھا کر سمجھا کہ جس راہ کی کوئی منزل ہی نہیں ہوتی، اس راہ پر چلنا انتہائی فضول ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو تباہ کر لینا اور دوسروں کو اجاڑ لینا محبت نہیں، نری دیوانگی ہے، محبت تو نام ہے دوسروں کو احترام دینے کا، محبت تو زندگی دیتی ہے، موت کو گلے نہیں لگاتی“۔ نور محمد نے بڑے پُرسکون انداز میں سمجھایا۔اس دوران امرت کور اس کے چہرے کی طرف دیکھتی رہی۔ پھر ان دونوں کے درمیان یوں خاموشی چھا گئی جیسے کہ ان میں کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔ بیل گاڑی دھیرے دھیرے چلتی رہی اور وہ تینوں اپنے اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے خاموش تھے۔بیلوں کے گلے میں بجتی ہوئی گھنٹیاں یہی احساس دلارہی تھیں کہ ان کے اردگرد زندگی ہے۔ پھر جیسے ہی گاؤں آیا وہ دونوں اتر گئیں اور نور محمد اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔
امرت کور دو دن تک گھر سے ہی نہ نکلی۔ تیسرے دن کی صبح تھی جب وہ پرونت کور کے پاس خودہی آگئی۔ وہ بڑی خاموش تھی۔ اس کی آنکھیں ہی ویران نہیں تھیں بلکہ اس کے چہرے پر زردی پھیلی ہوئی تھی۔ یوں جیسے اس نے موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو۔ وہ چپ چاپ اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی۔ پرونت کور نے جو تھوڑا بہت گھر کا کام کرنا تھا وہ کر لیا ہوا تھا۔ پھر اپنے گھر کے صحن میں لگے درخت کے نیچے آ کر بیٹھ گئی تھی۔ اس کا باپو کھیتوں پر صبح ہی صبح چلا گیا تھا اور ماں اس کا کھانا لے کر چلی گئی تھی۔ وہ گھر میں اکیلی ہی تھی۔ پرونت کور نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کروشیے اور دھاگے کو ایک طرف رکھا اور امرت کور سے بولی۔
”دو دن کہاں رہی تُو؟“
”میں سوچتی رہی ہوں….! نور محمد کو میری محبت سے زیادہ اپنی موت کا فکر ہے۔ وہ کیوں نہیں سمجھتا کہ میری محبت میرے بس میں نہیں“۔ وہ یوں بولی جیسے اس کی آواز کنویں میں سے آرہی ہو۔
”امرت ….! میری بہن، وہ جو کہتا ہے وہ ٹھیک کہتا ہے، تجھے سمجھ کیوں نہیں آرہی ہے، چل مجھے یہ بتا، وہ بھی تجھ سے یہ کہہ دے کہ مجھے تم سے محبت ہے تو پھر کیا ہو جائے گا“۔
”میں اسے پانے کا ہر جتن کرلوں گی“۔ امرت نے مضبوط لہجے میں کہا۔
”کیا کرے گی تُو….؟“ وہ حیرت سے بولی۔
”میں اسے لے کر یہاں سے کہیں دور چلی جاؤں گی، اتنی دور کہ ہم تک کوئی پہنچ ہی نہ سکے“۔ وہ اعتماد سے بولی تو پرونت کور کانپ کر رہ گئی۔ وہ لرزتے ہوئے لہجے میں بولی۔
”یہ تُو بڑا ظلم کرے گی امرت….! تیرا اور اس کا پریوار، کیا وہ خون میں نہیں نہا جائیں گے“۔
”دیکھ….! اگر کچھ کرنا ہو ناتُو وہ کچھ ہو جاتا ہے جو کبھی سوچا بھی نہ ہو، وہ میری محبت قبول تو کرے، پھر دیکھ میں اسے کہاں سے کہاں تک پہنچا دیتی ہوں“۔
”تُو کچھ نہیں کر سکتی۔ اس نے اگر تیری بات نہیں مانی تو ٹھیک کیا ہے اس نے؟ اپنے ماں باپ اور بہن کو بچا رہا ہے، تیرا باپ تو ایک دن میں انہیں مار دے گا“۔
”تُویہ مرنے مارنے ہی کی باتیں کیوں کر رہی ہے، ذرا سوچ، اس کی یہاں کتنی زمین ہے، تھوڑی سی تو ہے، وہ اپنے پریوارکو لے کر یہاں سے کسی ایسی جگہ چلا جائے، جہاں میرے پریوار کو پتہ ہی نہ چلے۔ میرے پاس اتنی دولت ہے کہ میں اسے اس سے بھی دوگنی زمین خرید دوں گی۔ اس کا ذرا سا بھی نقصان نہیں ہونے دوں گی۔ بس وہ ایک بار میری بات مان لے؟“
” کہاں جائے گا وہ…. کہاں لے جائے گی تُو اسے….“ وہ بولی۔
”کہیں بھی، جہاں ہم سکون سے اپنی زندگی گزاریں“۔ امرت کور خوابوں میں ڈوبتی ہوئی بولی۔
”تُو بس خواب ہی دیکھ، اس سے زیادہ کچھ مت سوچ ، نہ کر اپنی زندگی اجیرن اور اسے بھی دکھوں میں مت ڈال، تیرے باپو جی کی گاؤں میں کتنی عزت ہے، ا س کا خیال کر…. اور پھر وہ تیری محبت کا جواب محبت ہی سے کیوں دے، یہ تو من چاہا سودا ہوتا ہے۔ تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دے اور اپنے آپ کو سنبھال“۔
”چل میں اپنے آپ کو سنبھال لوں گی، مان لیتی ہوں بات تیری، لیکن یہ بتا میں اس قابل بھی نہیں ہوں کہ وہ مجھ سے محبت کر سکے“۔ اس نے حسرت سے کہا۔
”دیکھ امرت….! یہ دلوں کے معاملے ہیں، اس کی شادی، اس کی پھوپی کے گھر ہو جانی ہے، اسے چاہتا ہو گا، نہ بھی چاہے تو وہ اس کی منگیتر ہے۔ پھر سب سے بڑی بات اس کا دھرم کچھ اور ہے، ہمارا دھرم اور….“
”میری محبت اس دھرم کے جھنجھٹ کو نہیں مانتی، میں بس اپنے دل کی بات مانتی ہوں۔ اگر وہ میرا نہ ہو سکا نا تو میں اسے کسی دوسرے کا بھی نہیں ہونے دوں گی“۔ امرت نے اس لہجے میں کہا کہ پرونت کور خود ڈر گئی۔ اس لیے خوف زدہ لہجے میں بولی۔
”کیا کرے گی تو…. اسے بدنام کرے گی، اس پر الزام لگائے گی، کیا یہی تیری محبت ہے؟“
”اونہیں….! میں کیوں اسے بدنام کروں گی یا اس پر الزام لگاؤں گی۔ میں سیدھے سیدھے اسے مار دوں گی، وہ کس کا دولہا بنے میں کیا برداشت کروں گی، اسے یہاں سے جانا ہو گا، اکیلے ہی مجھے اپنے ساتھ لے کر۔ میں اسے مجبور کردوں گی“۔ امرت کور نے دبے دبے غصے میں کہا تو پرونت کور خاموش ہو گئی۔اسے امرت کور کے پاگل پن سے خوف آنے لگا تھا۔ وہ کافی دیر تک یہی سوچتی ہوئی خاموش رہی، پھر بولی۔
”امرت….! تیرا یہ پاگل پن تجھے نہ صرف بدنام کر دے گا، بلکہ بہت سارے دوسروں کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبے گا۔ میں تیری سہیلی ہوں لیکن اس کامطلب یہ نہیں کہ تُو مجھے بھی اپنے ساتھ ڈبودے، تُو مہربانی کر، یہ اپنی محبت تُو اپنے پاس ہی رکھ۔ اب مجھ سے ملنے کی کبھی کوشش نہ کرنا، مجھے اپنے ماں باپ اور اپنی عزت زیادہ پیاری ہے۔ تجھے نہ سہی“۔
”میں جانتی تھی کہ بجائے میرا ساتھ دینے کے تُو یہی کہے گی، جب عشق ہوتا ہے نا تو رب بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے، تم تو صرف میری سہیلی ہو“۔ یہ کہہ کر وہ اٹھی اور باہر نکلتی چلی گئی۔ پرونت کور کے دل میں اس کے لیے دکھ کے ساتھ ساتھ نفرت بھی اسی طرح موجود تھی۔
دونوں سہیلیاں بہت عرصہ تک آپ میں نہ مل سکیں، لیکن پرونت کور کو امرت کور کے بارے میں تھوڑا بہت معلوم ہو جاتا رہا۔ دوسری کئی لڑکیاں اس کے بارے میں بتاتی رہتی تھیں۔ امرت کور کی جنونی محبت کا راز، راز رہ ہی نہیں سکتا تھا اور پھر نور محمد بھی تو ایسا گبھرو نوجوان تھا کہ پورے گاؤں کی لڑکیوں کے دل میں بستا تھا۔ کیا مسلمان اور کیا سکھ لڑکی، اسے جب بھی دیکھتی میٹھی نگاہ ہی سے دیکھتی اوروہ مٹی جیسا انسان کسی کو نگاہ بھر کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔ بات یہ نہیں تھی کہ وہ کوئی بزدل تھا،یا دوسرے نوجوانوں کی طرح اس میں جوانی کی ترنگ نہیں تھی۔ وہ نہ صرف جی دار تھا بلکہ بہادر بھی تھا۔ بس مٹی کا مادھو تھا اور اسے گاؤں کی عزت کا خیال تھا۔ یہ امرت کور ہی تھی جو اسے دل تو دے بیٹھی لیکن اسے دل میں نہ رکھ سکی۔ ممکن ہے وہ کسی اور کے دل میں بھی بس رہا ہو لیکن ایسا کسی طرف سے اظہار ہوا نہیں تھا۔ یہی امرت تھی جو اپنی محبت کو اپنے اندر سما ہی نہ سکی تھی۔ پرونت کور کے دل میں تجسس تھا کہ جو باتیں وہ امرت کور کے بارے میں سن رہی ہے کیا وہ درست ہیں۔ وہ چاہتی تو سیدھا اس کے گھر چلی جاتی اور اسے منا کر ساری باتیں پوچھ لیتی مگر اس طرح پھر سے وہی نور محمد کے معاملے میں اس کا ساتھ دینا پڑتا جس کی وجہ سے ان کے درمیان بول چال بند ہوئی تھی۔ وہ دل سے یہ چاہتی تھی کہ وہ نور محمد کا پیچھا چھوڑ دے ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ وہ غریب نور محمد خواہ مخواہ مارا جاتا۔ اصل میں وہ اپنے والدین کا اکلوتا تھا۔ ایک ہی بہن تھی۔ وہ اپنے مختصر سے خاندان کا واحد سہارا تھا۔ اسے اگر کچھ ہو جاتا تو وہ بے چارے کہاں جاتے۔ پرونت کور کوہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا کہ جس دن اس کے باپو بلوندر سنگھ کو معلوم ہو گیا اس دن گاؤں میں قیامت آجانا تھی۔ کیونکہ اس نے اپنی بیٹی کو تو بدنام نہیں کرنا تھا، سارا الزام نور محمد پر آجانا تھا اور ایسا ہونا کوئی بعید بھی نہیں تھا۔ جس طرح امرت کور اپنے آپ سے باہر ہو رہی تھی، پتہ لگ جانا کوئی انوکھی بات نہیں تھی، وہ لاشعوری طور پر ایسے ہی کسی حادثے کے بارے میں منتظر تھی۔
انہی دنوں گاؤں میں ایک شادی تھی۔ لڑکی نے رخصت ہونا تھا اور انہیں وہاں جانا تھا۔ اس دن پرونت کور کو پوری امید تھی کہ امرت کور اسے وہاں مل جائے گی۔ بارات رات کی آئی ہوئی تھی اور اسے دوپہر کے بعد چلے جانا تھا۔ وہ دن چڑھے گئی تو توقع کے مطابق امرت کور وہیں تھی۔ شاید وہ بھی اس کی راہ تک رہی تھی۔ کوئی بات کئے بغیر وہ رکی اور اسے گلے لگا لیا۔ پھر ایک دم سے رو دی۔ پرونت گھبرا گئی۔ اس نے جلدی سے اسے الگ کیا اور پوچھا۔
”کیا بات ہے امرت…. ایسے کیوں رو رہی ہے؟“
”بس ایویں ہی دل بھر آیا تھا۔ اب تُو ہی بتا، میں اور کس کے گلے لگ کر روؤں“۔ اس نے شکوہ بھرے لہجے میں کہا۔ تو پرونت کور کا بھی دل بھر آیا۔ دونوں سہیلیاں کچھ عرصہ بعد ملیں تو گلے شکوے نہ جانے کدھر چلے گئے۔ انہیں تو شادی کی تقریب کا بھی ہوش نہیں رہا۔ وہ ایک کونے میں سمٹ کر، سب کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر بیٹھ گئیں۔ تو امرت کور بولی۔
”میں اچھی طرح سمجھتی ہوں کہ تم نے مجھ سے ملنا جلنا کیوں بند کر دیا۔ میں ہی پاگل ہو گئی تھی۔ تُو سچ کہتی ہے، میں چاہے اپنا آپ بھی ختم کرلوں نور محمد تو میرا نہیں ہونے والا، اس کے دل میں میرے لیے پیار ہی نہیں ہے“۔
” تُو واقعی پاگل ہے امرت کورے….! اس کے دل میں تیرے لیے پیار جاگ سکتا ہے، مگر تُو نے تواپنے بدن کی خواہش کو اہمیت دی۔ تو نے یہ دیکھا ہی نہیں کہ نور محمد کی آتما کیسی ہے۔ جسم کی پکار پر اپنا آپ وار دینا محبت نہیں ہوتی، یہ تو نری ہوس ہے، وہ جو سچی محبت ہوتی ہے نا، وہ اپنا آپ منوالیتی ہے، جیسے گرو جی مہاراج کی رب سے سچی محبت کو رب نے بھی مان لیا“۔
”ہاں پرونتے….! وہ سکھ نہیں ہو سکتا، بھلے میں مسلمان ہو جاؤں اور تُو جانتی ہے میرے مسلمان ہو جانے سے اس گاؤں میں کیا ہو جانے والا ہو گا۔ میں تو اس کو اتنا کچھ دے سکتی ہوں کہ وہ رب کی زمین پر جہاں بھی جا کر رہتا اسے یہاں کی کسی چیز کا افسوس تک نہ ہوتا“۔
”تجھے عقل کیوں نہیں آتی امرت، دیکھ….! یہ جو محبت ہوتی ہے نا، یہ بے غرض ہوتی ہے، اگر نور محمد کو تیرے ساتھ محبت ہوتی نا تو وہ مال و دولت کی پروا کیے بغیر اب تک تجھے یہاں سے لے جا چکا ہوتا۔ تُو اس حقیقت کو تسلیم کیوں نہیں کر لیتی ہو کہ وہ تمہارے بارے میں ایسی کوئی سوچ نہیں رکھتا۔ یہ آگ تیرے دل میں لگی ہے، تُو اپنی آگ کو خود سنبھال، اس سے دوسروں کے گھر نہ جلا۔ ایسا کام نہ کر جس سے کسی کو فائدہ نہ ہو، بس نقصان ہی نقصان ہو“۔
”ہاں….! محبت تو میرے دل میں ہے،اور اتنی ہے کہ میں خود بھی اسے سنبھال نہیں پارہی ہوں۔ میں پھر کیا کروں، میں نور محمد سے کئی بار ملی ہوں۔ اسے یہ سب سمجھانے کی کوشش بھی ہے، مگر میری کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی“۔
”ہاں مجھے معلوم ہے، مجھے کئی لڑکیوں نے بتایا ہے۔ اب دیکھ، اگر ان لڑکیوں کو معلوم ہو سکتا ہے تو کسی مرد کو معلوم کیوں نہیں ہو سکتا جو سارا دن باہر رہتے ہیں، یہ تو نور محمد کی اچھائی ہے ناکہ اس نے تیرا راز اپنی زبان سے نہیں نکالا، اگر تیرے باپو کو پتہ چل جائے تو کیا ہو گا؟“
”میں سب سمجھتی ہوں، میں تو اس کے گھر بھی جاتی ہوں، اس کی بہن کو میں نے سہیلی بنا لیا ہوا ہے ۔ ہاں تیری یہ بات ٹھیک ہے کہ اس کی آتما ہی کچھ ایسی ہے کہ وہ کسی کی عزت کے لیے جان تو دے سکتا ہے لیکن کسی کی عزت کو خراب نہیں کر سکتا۔ میں بے بس ہوں …. میرے درد کی کوئی دوا ہی نہیں ہے؟“
”ہے، کیوں نہیں ہے، تُو اپنا دھیان سچے بادشاہ گرو مہاراج کی طرف لگا۔ اس سے اپنے من کی شنانتی مانگ، تجھے اگر نور محمد سے محبت ہے تو اس کی بھلائی سوچ، اس کی جان کی دشمن نہ بن، بدن کی آگ تو ٹھنڈی ہو جائے گی، لیکن اگر روح پر زخم لگ گیا تو اس کا کوئی علاج ہی نہیں ہے۔ موت تک وہی زخم رستا رہتا ہے“۔
” تُو ٹھیک کہتی ہے، بے چینی میرے دل میں ہے تو بے بس بھی میں ہی ہوں“۔
”چل تو مجھے یہ بتا، کیا نور محمد تیرے ساتھ نفرت کرتا ہے؟“
”نہیں، وہ نفرت بھی تو نہیں کرتا، میری سن لیتا ہے مگر کوئی جواب نہیں، سوائے اس کے کہ میں اپنی عزت سنبھال رکھوں۔ میں مانتی ہوں کہ میں غلط ہوں، لیکن….“
”تو پھر تُو یہ بھی مان لے کر تیرے دل میں جو محبت ہے وہ سچی نہیں ہے، دیکھ، سچا بادشاہ سچ ہی کو پسند کرتا ہے، سچائی اپنا آپ منوالیتی ہے۔ تُو سچے گرو کی طرف دھیان لگا تو نور محمد کا خیال خود بخود ختم ہو جائے گا“۔
”پرونتے….! نہ جانے کیوں مجھے کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ میں صرف بنی ہی اس کے لیے ہوں، ہ مجھے نہ ملا تو میں کسی کی بھی نہیں ہو سکوں گی“۔
”ایسی سوچیں سوچتی رہے گی تو پاگل ہو جائے گی، خیر سے تیرے باپو نے تیری منگنی کر دی ہے۔ تیرے خاندان کا ہم پلہ خاندان ہے، پھر یہ بڑی بات ہے کہ وہ بھی پال ہے اور تم لوگ بھی پال ہو۔ میں نے سنا ہے، بڑا گبھرو اور سوہنا نوجوان نکلا ہے وہ پڑھا لکھا ہے، خالصہ کالج میں پڑھتا ہے تو نوکری بھی شہر میں کرے گا، وہاں تو عیش کرے گی، اپنی زندگی خوبصورت بنا“۔
”ہاں، رگھبیر سنگھ ، تُو نے دیکھا تو ہے اسے، لیکن اب میں نے تیری طرف صرف سنا ہے کہ وہ گبھرو بھی ہے اور سوہنا بھی ہے، پر تُو اپنے سچے دل سے بتا، نور محمد جیسا کوئی اس دنیا میں ہے؟“
”جب رگھبیر سنگھ تیرا ہو جائے گا نا، تو نور محمد تجھے بھول جائے گا۔ اسے اپنی دنیا میں آزاد چھوڑ دے اور تو اپنی دنیا بنا، بعض اوقات زبردستی خواہش پوری کرنے سے بڑی ٹوٹ پھوٹ ہو جایا کرتی ہے“۔
”چل اگر تُو کہتی ہے تو میں ایسا ہی کر لیتی ہوں جیسا تُو کہتی ہے، پر اب مجھ سے ملنا جلنا بندنہ کرنا، مجھے سہارا دو تاکہ میں اس مشکل راستے سے گزر جاؤں“۔
امرت کور کے لہجے میں اس قدر حسرت تھی کہ پرونت کور کا دل بھر آیا۔ کیا نور محمد کے لیے وہ اتنی ہی چاہت رکھتی ہے۔ اصل میں اسے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ محبت کہتے کسے ہیں، وہ تو بس بدن کی پکار پر اپنی خواہش کی تکمیل ہی کو پیار سمجھتی تھی۔ اپنا آپ کسی کے سپرد کر دینے کو وہ محبت کہتی تھی۔ اس میں امرت کور کا قصور بھی نہیں تھا، اس کا ماحول ہی ایسا تھا، جس سے محبت کے حقیقی معنی کسی کو معلوم ہی نہیں تھے۔ پرونت کور چونکہ اس کے ساتھ ہی پڑھی تھی، اسے کچھ عقل شعور مل گیا ہوا تھا، اس لیے اس نے امرت کور کو بتایا کہ بدن اور آتما کیا ہوتی ہے۔ ان کی ملاقاتیں پھر سے ہونے لگیں۔ اب امرت کورت کی دلچسپی یہی ہوتی تھی کہ وہ سارے دن میں ایک چکر نور محمد کے گھر کا ضرور لگاتی اور پھر وہ کچھ دیر پرونت کور کے پاس گزارتی۔ کبھی کبھی پرونت کور اس کے پاس چلی جایا کرتی تھی۔ کچھ دنوں بعد اس نے امرت کور میں چند تبدیلیاں دیکھیں۔ وہ نور محمد کی بات کم کرتی لیکن کسی نہ کسی طرح اس کی یا اس کے خاندان کی خدمت کرنے کی فکر میں رہتی۔ اس کی سہیلی حاجراں کی شادی کی تیاری ہو رہی تھی۔ وہ کسی نہ کی بہانے اس کو تحفے تحائف دیتی رہتی۔ کبھی کوئی گہنا، کبھی کوئی کپڑا، دوسری تبدیلی اس میں یہ دیکھی کہ وہ گاؤں کے ماسٹر روشن لعل سے کتابیں منگوانے لگی، پورے گاؤں کے بچے اس کے شاگرد تھے۔ وہ جب بھی شہر جاتااس کے لیے کچھ لے آتا، تیسری تبدیلی اس میں یہ دیکھی کہ وہ گرو گرنتھ صاحب جی کا پاٹھ روز کرنے لگی۔ اس نے سچے بادشاہ سے اپنا من لگانے کی کوشش شروع کردی تھی۔ پرونت کور نے جب یہ دیکھا تو اسے خوشی ہوئی۔ وہ مانتی تھی کہ اس تبدیلی کی وجہ نور محمد کی سرد مہری ہی تھی۔ ورنہ آگ اگر برابر کی لگی ہوتی، یا وہ اس کے بدن کی پکار کو قبول کرکے گناہ کی زندگی میں ڈوب جاتا تو یہ آگ نہ جانے کتنوں کو بھسم کر سکتی تھی۔ نور محمد اگر ذرا سا بھی التفات کر جاتا تو امرت کور میں ایسی تبدیلی آہی نہیں سکتی تھی۔ کیونکہ وہ تو خود اس کے ساتھ بھاگ جانے کو تلی بیٹھی تھی۔
دن بڑے اچھے گزرتے چلے جارہے تھے کہ رگھبیرسنگھ شہر سے گاؤں لوٹ آیا۔ گرمیاں اپنے زوروں پر تھیں، بارشوں کا موسم ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ رگھبیر سنگھ کے آنے کی وجہ صرف اور صرف یہی تھی کہ شہر میں فسادات کاخطرہ بڑھ گیا تھا۔ گاؤں میں ایک ہی ریڈیو تھا جس پر ملک میں ہونے والی گڑبڑ کی خبریں سننے کو ملتی تھیں۔ یہ خبریں جب ایک دوسرے کو سنائی جاتی تو اس میں اپنی مرضی بھی شامل ہو جاتی تھی۔ پھر جس خبر کا دائرہ جتنا وسیع ہوتا، اس کی شکل اتنی ہی بگڑ جاتی۔ اِدھر اُدھر سے ہندو مسلم فسادات کی اکا دکا خبریں آنا شروع ہو گئی۔ پرونت کور کو اتنی سمجھ نہیں تھی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے گاؤں کے لوگ اچانک سہم کیوں گے ہیں۔ ہر کوئی ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے کیوں دیکھنے لگا ہے۔ امرت کور نے نورمحمد کے گھر جانا چھوڑ دیا تھا۔ اب تو اس کے ساتھ بھی کبھی کبھار ملتی تھی۔ ان مختصرترین ملاقاتوں میں اسے ہی گلہ رہتا تھا کہ رگھبیر سنگھ اس کی نگرانی کرتا ہے۔ ہر وقت اس پر سائے کی طرح چھایا رہتا ہے۔ اس کی وجہ کیا تھی اسے معلوم نہیں تھا۔ پرونت کے گھر میں جو بڑے باتیں کرتے، اس سے پتہ چلنے لگا کہ ہندوستان کے دو ٹکڑے ہو گئے ہیں۔ مسلمانوں نے اپنا الگ وطن حاصل کر لیا ہے اور یہ فسادات صرف اس وجہ سے ہو رہے ہیں۔ ایک دن اس کا باپو کہہ رہا تھا۔
”تیرہ اپریل انیس سوانیس جلیا نوالہ باغ میں جو قتل عام ہوا۔ اس کی یاد ابھی تک نہیں بھولی ، پتہ نہیں کتنے لوگ شہید ہوئے تھے۔ کتنے گھر لٹ گئے۔ وہ تو ایک تاریخ بنا گئے، لیکن اب میں اس سے بھی بڑا قتل عام دیکھ رہا ہوں، جس طرح خبریں آرہی ہیں۔گرو مہاراج اپنی خیر کرے، ان ہواؤں میں خون کی بو رچ بس گئی ہے“۔
”باپوجی….! کیوں ماریں گے لوگ ایک دوسرے کو…. اب ہمارے گاؤں کی ہی بات لے لیں۔ ہم نے کسی مسلمان کا کچھ نہیں بگاڑا۔ انہوں نے ہمارا کوئی قصور نہیں کیا،تو ہم کیوں لڑیں گے ان کے ساتھ….؟“ پرونت نے اپنے باپو سے پوچھا۔
”یہی تو سمجھ نہیں آرہی بیٹی….! پُرکھوں سے ہم یہاں پر آباد ہیں۔ بڑے سکھ شانتی سے رہ رہے ہیں۔ کسی نے کسی کا قصور بھی نہیں کیا، لیکن جو خبریں آرہی ہیں، ان میں بڑی ہولناک باتیں ہیں، دل کانپ جاتا ہے“۔ اس کے باپو نے کہا تو پرونت کور کو احساس ہوا ہے کہ کوئی اَن دیکھا خطرہ ان پر منڈلا رہا ہے۔ جو کسی کو بھی، کسی بھی وقت صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے۔ اس دن وہ واقعی ڈر گئی تھی۔
دن حبس زدہ ماحول میں گزرتے جارہے تھے۔ خوف زیادہ ہو گیا تھا۔ سکھ نوجوان کر پانیں اور تلواریں گلے میں ڈالے جتھوں کی صورت گاؤں میں پھرتے رہتے تھے۔ اس جتھے کا بڑا رگھبیر سنگھ ہی تھا جو نہ صرف لفظوں کی صورت میں ان کے دماغوں میں آگ بھرتا رہتا بلکہ سکھ نوجوانوں کو تربیت بھی دیتا کہ کسی بھی وقت لڑنے مرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پھر اچانک ایک دن اعلان ہو گیا کہ بھارت اور پاکستان دو الگ الگ ملک بن گئے ہیں۔ اب مسلمان اپنے ملک کو چلے جائیں گے۔
یہ سنتے ہی، پرونت کور کو سب سے پہلا خیال یہی آیا کہ نور محمد اپنے پریوار کے ساتھ مسلمانوں کے دیس چلا جائے گا۔ امرت کور جو اب پُر سکون ہو گئی تھی اور اسے دیکھ دیکھ کر جیتی تھی۔ یہاں تک کہ اسے دیکھنا ہی اپنی عبادت خیال کیا کرتی تھی، اب کیا کرے گی، کیا رگھبیر سنگھ نے جس طرح نوجوان لڑکوں کا دماغ آگ سے بھر دیا ہے، امرت کور کو بھی بدل دیا ہے، کیا اب اسے نور محمد کی چاہ نہیں رہی۔ کیا وہ اسے جانے دے گی؟ ایسے ہی کئی سوال اس کے ذہن میں آتے چلے گئے۔ وہ چاہتی تھی کہ امرت کور سے ملے اور اس کے بارے میں جانے کہ اب وہ کیا چاہتی ہے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
وہ بڑ ی بھیانک رات تھی۔ بڑا حبس تھا۔ بادل چھائے ہوئے تھے۔ پچھلی رات کا چاند طلوع نہیں ہوا تھایا اگر ہو چکا تھا تو بادلوں نے اس کی چاندنی کو روک رکھا تھا۔ وہ ہلکے ہلکے پسینے میں بھیگی اپنے صحن میں سوئی ہوئی تھی کہ اچانک شور سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ باہر گلی میں لوگوں کا شور تھا، چیخ و پکار تھی، لوگ بھاگ دوڑ رہے تھے۔ اسے لگا جیسے باہر کہیں لڑائی ہو گئی ہے۔ وہ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اٹھی تو اس کا باپو اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ گھبرائے ہوئے انداز میں صحن کے درمیان کھڑا تھا۔ اس کا چہرہ فق تھا اور وہ رورہا تھا۔ اچانک چیخ و پکار تیز ہو گئی۔ دور کہیں سے رونے پیٹے کی آوازیں آنے لگیں۔ شاید ایک آدھ فائر بھی ہوا تھا۔ تب اسے لگا کہ ایک طرف روشنی ہونے لگی ہے۔ وہ گھبرا گئی۔ اس کا باپ زاروقطار رونے لگا۔ وہ تجسس سے مجبور سیڑھیاں چڑھتی ہوئے پھولے سانس کے ساتھ چھت پر آگئی۔ ذہن میں لاشعوری طور پر نور محمد کا خیال تھا۔ وہ آگ بھی اُدھر ہی لگی ہوئی تھی۔ تو کیا سکھ اور مسلمان آپس میں لڑپڑے ہیں؟ کیا نور محمد کے گھر کو جلا دیا گیا ہے، کیا نور محمد مر گیا۔ ان سکھوں نے انہیں مار کر جلا دیا۔ اس کے تصور میں بھیانک تصویریں آنا شروع ہو گئیں۔ پروین کی تو شادی ہونے والی تھی، چند دن بعد اس نے اپنے سسرال چلے جانا تھا۔ اس کاامن پسند باپ، اس کی محبت کرنے والی ماں اور خود گھبرو نور محمد، کیا اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے؟ ان کی لاشیں…. وہ اس سے زیادہ نہ سوچ سکی، چکرا کر گری اور بے ہوش ہو گئی۔ پھر اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کیا ہوا۔ کب تک یونہی رہی ، اسے جب ہوش آیا تو صحن میں چارپائی پر پڑی ہوئی تھی۔ اس کی ماں، باپو اور بھائی اس کے اردگرد تھے۔ وہ سب رو رہے تھے۔ اس نے گھبرائے ہوئے انداز میں پوچھا۔
”باپو….!مار دیا سب کو ….؟“
”پتر مجھے نہیں پتہ…. میں تو باہر ہی نہیں گیا۔ پر بڑا ظلم ہوا ہے۔ کہا بھی تھا کہ ایسا نہیں کرنا…. پر یہ رگھبیر….“
وہ اتنا ہی کہہ سکا اور بے دم سا ہو کر دوسری چار پائی پر جا بیٹھا۔ ساری رات یونہی آنکھوں میں کٹ گئی۔ کوئی بھی کسی کو پوچھنے تک نہ آیا کہ آخر ہوا کیا ہے۔ اگلے دن کی کالی صبح طلوع ہوئی تو سنا کہ ملٹری والے گاؤں میں آگئے ہوئے ہیں۔ پر وہاں مسلمانوں کا بچا ہی کیا تھا۔ چند گھر تو تھے ان کے اور دوسری طرف سکھوں کا پورا گاؤں۔ دن چڑھے تک پتہ چلتا رہا کہ گاؤں میں کیا قیامت گزر گئی ہے۔ مسلمانوں کے جو چند گھر تھے، وہ سارے جلا دیئے گئے تھے۔کسی کا کچھ نہیں بچا تھا۔ جتنے بھی مسلمان اس گاؤں میں تھے، ان سب کو مار دیا گیا تھا۔ کیا بچے، کیا بوڑھے، کیا جوان اور کیا لڑکیاں، صرف ایک اچھی خبر تھی کہ نور محمد بچ گیا ہے، وہ کیسے بچا، کسی کو اس کی خبر نہیں تھی، وہ ملٹری والوں کے ساتھ کچھ دیر گاؤں میں رہا۔ جو بچی کھچی ، جلی سڑی لاشیں انہیں ملیں، ان سب کو اکٹھا کر کے ایک اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا تھا، پھر نور محمد خالی ہاتھ ان ملٹری والوں کے ساتھ چلا گیا۔ دوسری خبر یہ تھی کہ کئی سکھ نوجوان بھی مارے گئے تھے۔ ان میں رگھبیر سنگھ بھی مر گیا تھا، لیکن یہ آج تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا کہ جہاں دوسرے سکھ نوجوان قتل ہوئے۔ ان سے کہیں دور رگھبیر سنگھ کی لاش ملی تھی اور اسے بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ تھوڑا بہت یہ شک کیا جاتا رہا کہ اسے نور محمد نے قتل کیا تھا، لیکن اس کی تصدیق کوئی نہیں کر سکتا۔
اس صبح یہ پتہ چلا کہ امرت کور اپنے آپ میں نہیں رہی ہے۔ وہ پاگل ہو چکی ہے۔ اس وقت سب کا یہی خیال تھا اور بعد میں بھی لوگ یہی سمجھتے رہے کہ وہ رگھبیر سنگھ کے مر جانے کے غم میں پاگل ہو ئی ہے۔ مگر پرونت کور یہ مان ہی نہیں سکتی تھی۔ کیونکہ امرت کور اس سے آخر وقت تک نفرت کرتی رہی تھی بعد میں ممکن ہے کوئی ایسی بات ہو گئی ہو تو کوئی نہیں جانتا تھا لیکن امرت کور جو گرودوارے جانے سے پہلے جس جگہ جا کر ایک خاص سمت کی طرف دیکھتی رہتی تھی۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں سے رگھبیر سنگھ کی بے دردی سے قتل کئی ہوئی کٹی پھٹی لاش ملی تھی۔ سکھوں نے مسلمانوں کو مارنے کو تو مار دیا مگر ان کے ہاتھ کیا آیا؟ جلے ہوئے گھر، اپنے نوجوانوں کی لاشیں، اور ایک پاگل ہو گئی ہوئی امرت کور….!

جاری ہے
**********

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں