تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور -
The news is by your side.

Advertisement

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

امرت کور کا عشق جنونی کیفیت اختیار کرتا چلا جارہا تھا۔ گاؤں کی لڑکیوں کو تو اس کے بارے میں معلوم ہوتا ہی چلا جارہا تھا، لیکن انہی دنوں اس کی عزیز ترین سہیلی پرونت کور اسی وجہ سے ناراض ہو گئی کہ وہ اس راہ پر جارہی ہے جہاں تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک دم سے وہ تنہا ہو گئی۔ اسے کچھ بھی سجھاتی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ پہلے تو پرونت کور لڑتی تھی جھگڑتی تھی، پیار سے سمجھاتی تھی، جو بھی کہتی تھی لیکن اس کے اپنے دل کا غبار ہلکا ہو جایا کرتا تھا۔ اس وحشت میں وہ بے کل ہو گئی جس نے اسے کوچہ ٔیار کی راہ دکھائی ۔ وہ جس دن نور محمد کو نہ دیکھتی بے چین رہتی اور جب اسے دیکھ لیتی تو پُرسکون ہو جاتی ۔ کوچۂ یارمیں دیدار ہی نہیں، اس سے باتیں کرنے کا بھی موقعہ مل گیا۔ ا س نے نور محمد کی بہن حاجراں سے دوستی کرلی۔ اسے اپنی سہیلی بنا لیا۔


اس ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں


نور محمد گھرانہ ایسا نہیں تھا کہ انہیں کسی مدد کی ضرورت ہوتی۔ قدرت نے انہیں ہر شے سے نوازا ہوا تھا۔ وہ اپنی سادہ اور پُرسکون زندگی میں بہت خوش تھے۔ حاجراں کو تھوڑا بہت شک تو تھا کہ وہ بلا مقصد اس کی سہیلی نہیں بنی۔
پھر اس کی نواز شات اس قدر ہونے لگیں کہ وہ شک یقین میں بد لتا گیا اور ایک مرتبہ حاجراں نے پوچھ ہی لیا کہ آخر اس کا مقصد کیا ہے۔
”سچ پوچھو نا حاجراں، مجھے تیرے بھائی سے شدید محبت ہے اور میں جب تک اسے دیکھ نہ لوں مجھے چین نہیں آتا۔ تیری سہیلی بھی میں اس لیے ہی بنی ہوں“۔
”لیکن تیرے من میں جو کچھ ہے، وہ رائیگاں جائے گا امرت کور، پہلی تو بات ہے کہ وہ ایسا ہے ہی نہیں کہ گاؤں کی دھی بہن پر نگاہ رکھے۔ اسے اپنے کام سے غرض ہے اور اگر اس کے دل میں کسی کے لیے محبت ہے تو وہ پروین ہے۔ جس کے ساتھ اس کی شادی ہو جانے والی ہے۔ گاؤں کے کس بندے کو نہیں معلوم“۔ حاجراں نے اسے حالات سے آگاہی دی۔
”میں مانتی ہوں کہ اسے پروین سے پیار ہے، میں یہ بھی مانتی ہوں کہ وہ سچا اور سُچا بندہ ہے۔ پر میں اپنے دل کا کیا کروں۔ کیسے سمجھاؤں اسے ؟“
”یہ تو تجھے کرنا ہی ہو گا۔ ورنہ خواہ مخواہ کی دشمنی بن جائے گی۔ کسی کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ہاں اگر نور محمد تم میں دلچسپی لے رہا ہوتا۔ اسے بھی تم سے اتنی ہی محبت ہوتی ناتو میں اپنا آپ وار کر بھی تم دونوں کو ملا دیتی۔ میں خود اپنے والدین کو مجبور کر دیتی کہ یہاں سے چلے جائیں۔ پر کیا کریں، وہی نور محمد….“”وہی پتھر تو موم کرنا چاہتی ہوں….جبکہ وہ ہو ہی نہیں رہا“۔
”وہ ہو گا بھی نہیں، وہ پورے دل سے پروین کو چاہتا ہے اور ایسے کسی معاملے میں نہیں پڑے گا، جس میں سوائے نقصان کے اور کچھ بھی حاصل نہ ہو“۔ اس نے سمجھایا لیکن حضورِ عشق میں کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ اسی طرح ان دنوں حاجراں سے دوستی چلتی رہی۔ کسی نہ کسی بہانے نور محمد سے آمنا سامنا ہوتا رہتا لیکن کوئی بات نہ ہو پائی ، بس ایک باربات ہوئی تھی، پھر وہ ہمیشہ طرح دے جاتا رہا،موقعہ ملتا بھی تو وہ ٹال جاتا۔ امرت کور کو اپنی کم مائیگی اور ہتک کا شدید احساس ہوا۔ وہ راتوں کو رو رو کر رب سے فریاد کرتی لیکن رب اس کی سنتا ہی نہیں تھا۔ محبوب سامنے ہے اور وہ ہجر میں جل رہی ہے۔
آخر ایک دن اسے موقع مل ہی گیا۔ اس نے نور محمد کے پیچھے کھیتوں میں جانے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ بے نیاز ہو گئی کہ کوئی اسے دیکھ بھی سکتا ہے۔ لڑکیوں کی ٹولی ہوتی نا تو الگ بات تھی۔ اس نے دور ہی سے دیکھا، وہ اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا۔ وہ منڈھیر پر جا کھڑی ہوئی۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ نور محمد کو اس کی آمد کا احساس نہ ہوا ہو مگر پھر بھی وہ اپنے سکون سے کام کرتا رہا۔ یہاں تک کہ خود اسے پکارنا پڑا۔
”نور محمد…. اوئے نور محمد….!“
اس نے سر اٹھا کر دیکھا اور وہیں کام روک کر بولا۔
”بول امرت کور….! کیا بات ہے؟ خیر تو ہے نا، اکیلی کیوں آئی ہو؟“
”میں نے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے“۔ اس نے اونچی آواز میں کہا۔
”جو بات بھی کرنی ہے ، اُدھر گھر پر کرنا، اب تُو فوراً یہاں سے چلی جا، کسی نے دیکھ لیا تو غضب ہو جائے گا“۔ اس نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
”مجھے کسی کی پروا نہیں ہے، تجھے میری بات سننا ہی ہو گی“۔ اس نے انتہائی ضدی لہجے میں کہا۔
”بول کیا کہتی ہے تُو؟“ وہ اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہوتا ہوا بولا، اس کے لہجے میں اکتاہٹ تھی۔
”نور محمد…. !تیرے بغیر میں نہیں رہ سکتی۔ میری بات مان لے، ہم یہاں سے نکل چلیں“۔ اس نے وہی پرانی بات دھرا دی۔ تو اس نے بڑے تحمل سے کہا۔
”امرت کور….! میں تیرے باپو کی بہت عزت کرتا ہوں، وہ ایک بہادر انسان ہے اور بہادوں، شہ زوروں کی قدر کرتا ہے۔ تجھے یاد ہے نا، پتھر اٹھانے کا مقابلہ جیتنے پر اس نے مجھے تحفے میں ایک بھینس دی تھی“۔
” تُو نے میرے باپو کو مشکی گھوڑی تحفے میں دے کر حساب برابر کر دیا“۔ وہ تنک کر بولی۔
”یہ بات میں حساب کتاب کرنے کے لیے نہیں، بلکہ یہ بتانے کے لیے کہہ رہا ہوں کہ جب تک ہم ایک جگہ رہنے والے ایک دوسرے کی قدر نہیں کریں گے، اس کے مال ، دولت اور عزت کی حفاظت نہیں کریں گے تو باہر سے آ کر کوئی ہماری عزت اور مال لوٹ کر لے جائے گا۔ یاد رکھ امرت کورے….! زندگی انسان کوفقط ایک بار ملتی ہے، اسے عزت ووقارکے ساتھ گزارنا چاہئے۔ ناکہ منافق انسانوں کی طرح۔ میرے دل میں تمہارے لیے کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس عزت کے کہ تُو سردار بلوندر سنگھ کی بیٹی ہے جو نہ صرف میرا احترام کرتا ہے بلکہ میں بھی اس کا بے حد احترام کرتا ہوں۔ آج کان کھول کر سن لے، اپنے دماغ سے یہ خناس نکال دے اور اپنی زندگی سکھ سے جی، دوسروں کو تنگ نہ کر“۔
اس نے کہا تو امرت کور چند لمحے اس کی طرف پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہی کہ کس طرح واشگاف الفاظ میں اس نے پھر سے اس کی ہتک کر دی ہے۔ اس کی جوانی اور حسن مٹی میں رول کر رکھ دیا ہے۔ وہ ایک دم سے تنک گئی پھر بولی۔
”چل نور محمد، میں تیری بات مان لیتی ہوں، میں تیرے ساتھ ہیر رانجھے والا پیار نہیں کرتی، میں ہیر نہیں جسے کھیڑے لے جائیں، جبکہ اس کے دل میں پیار رانجھے کے لیے ہو، نہ میں سوہنی ہوں کہ کچے گھڑے کی ناؤ بنا کر اپنی جان دے دوں۔ میں امرت کور ہوں“۔ اس نے غضب ناک لہجے میں کہا۔”تو پھر میں کیا کروں“۔
” تُو میری روح کو نہیں چھو سکا تو نہ سہی، میرا بدن تو حاضر ہے، تُو ایک بار میرے بدن کو چھولے، میرے جسم کی پیاس بجھا دے، میں سمجھ جاؤں گی کہ میں تمہاری ہوئی، کبھی پلٹ کر تیرا نام تک نہیں لوں گی یہاں تک کہ سوچوں گی بھی نہیں۔ میں شانت ہو جاؤں گی۔ وہ والا پیار نہ سہی یہ والا سہی، میں تجھ پر اپنا آپ وار کر ہی سکون پا سکتی ہوں“۔
”یہ تم نے اس سے بھی گھٹیا بات کی ہے۔ تمہارا بدن ہو سکتا ہے گندی مٹی کا بنا ہو، لیکن میرا نہیں، ہر انسان اپنی مٹی بارے خود اپنے عمل سے بتا دیتا ہے اور اس کا عمل اس کی سوچ ہوتی ہے۔ جا دفعہ ہو جاؤ، پھر کبھی میری نظروں کے سامنے نہیں آنا“۔ نور محمد کے غضب میں کہیں اضافہ ہو گیا تھا۔
”دیکھ نور محمد، میں مر جاؤں گی اور میری موت کا ذمے دار فقط تُو ہو گا“۔ اس نے دھمکی دے دی۔
”اور اگر تُوکچھ دیراور بک بک کرتی رہی تو میں اسی کسّی سے تیرے ٹوٹے کردوں گا، میں ایسا الزام قبول کرتے وقت شرمندگی محسوس نہیں کروں گا“۔ اس نے صاف لفظوں میں کہا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ اس نے ہتک تو کیا اسے ذلیل کر کے رکھ دیا تھا۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی اور پھر پاؤں پٹختی ہوئی واپس چلی گئی۔
دو دن نہیں گزرے تھے کہ سردار بلوندر سنگھ انتہائی جوش اور غصے میں اپنی حویلی کے دالان میں آن رُکا۔ اس نے بڑی اونچی آواز میں امرت کور کو آواز دی۔ اس وقت وہ اپنے کمرے میں تھی۔ ایسی آواز سن کر لرز گئی۔ اسے لگا جیسے خطرہ اس کے سر پر آگیا ہو۔ ضرور نور محمد نے اس کے باپو سے بات کر دی ہو گی، وہ اسی خیال کے تحت اندرونی کمرے میں اپنے باپو کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔ پھر اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے پوچھا۔
” تُو گئی تھی نور محمد کے کھیتوں میں یا اس کنجر نے تمہیں بلایا تھا“۔
”میں خود گئی تھی باپو“۔ ا س نے ساری احتیاط بالائے طاق رکھتے ہوئے صاف انداز میں اقرار کر لیا۔
”کیوں؟“ اس کے باپو نے حیرت اور غصے میں پوچھا۔
”باپو جی….! یہ میری غلطی ہے کہ میں وہاں گئی۔ نہ جاتی تو شاید سلگتی رہتی۔ آج اگر آپ مجھے جان سے بھی مار دیں تو مجھے کوئی پروا نہیں ہو گی“۔ اس نے اپنے فطری انداز میں کہا۔
”یہ تُو کیا کہہ رہی ہے؟“ باپو نے غصہ بھول کرتجسس سے پوچھا۔
”میں ٹھیک کہہ رہی ہوں باپوجی، میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گی، وہ مجھے اچھا لگتا ہے لیکن اس دن اس نے مجھے اتنا ذلیل کیا ہے کہ میں خود پر حیران ہوں کہ میں زندہ کیوں ہوں۔ اس جیسا سُچا اور سچا بندہ نہ ہوتاتو آج میں یہاں آپ کی حویلی میں نہ ہوتی، یہاں سے کہیں اور چلی گئی ہوتی، باپو جی، میری بنتی ہے کہ مجھے مار دیا جائے، میں اپنی ذلت مزید برداشت نہیں کر سکتی“۔ اس نے روتے ہوئے زمین پر گر کر کہا۔ اس نے اپنی گردن اپنے باپ کے سامنے جھکا دی۔
”پتر….! میں نے زندگی میں تیری ہر خواہش پوری کی ہے۔ مگر ایک مُسلے سے دل لگا کر تُو نے اچھا نہیں کیا“۔
”ہاں واقعی باپو….! میں نے اچھا نہیں کیا، مگر وہ بہت اچھا ہے۔ اس نے اپنی نگاہ میں ایک ذرہ بھی میل لا کر مجھے نہیں دیکھا۔ قصور وار میں ہوں باپوجی، مجھے مار دیں، اس نے آپ کے احترام میں میری بڑی توہین کی ہے۔ میں برداشت نہیں کر سکتی۔ میں نے سچ بتا دیا آپ کو، اب آپ جو چاہیں سو کریں“۔ اس نے روتے ہوئے اپنا سر پھر سے جھکا دیا۔سردار بلوندر سنگھ بہت سمجھ دار بندہ تھا۔ وہ فوراً بھانپ گیا کہ کھوٹ اپنی ہی مٹی میں ہے۔ کسی سے کیا کہنا۔ وہ اگر طیش میں آ کر غیض و غضب کے ساتھ نور محمد کو نقصان پہنچانے چڑھ دوڑتا تو بدنامی آخرکار اس کی اپنی بیٹی کی ہونی تھی۔ امرت کور نے سچ بتا کر اور اپنا جرم تسلیم کر کے ، نور محمد کی سچائی بیان کر دی تھی، جس کی تصدیق اس کی ماں نے بھی کر دی کہ مجھے صرف شک تھا، اِدھر اُدھر سے میں باتیں سکتی رہی تھی، لیکن مجھے یقین نہیں تھا، آج یہ اپنے منہ سے کہہ رہی ہے، تو یہ بات ماننا پڑے گی کہ اگر نور محمد سچا نہ ہوتا تو ہمیں ایسی کوئی بات معلوم ہی نہ ہوتی اور امرت کور یہاں نہ ہوئی۔
اس نے بروقت فیصلہ کر لیا۔ اس نے جو سوچنا تھا، وہ سوچ لیا، اس وقت امرت کور پر حویلی سے نکلنے پر پابندی لگا دی گئی۔ اس نے بھی کیا نکلنا تھا جو خود اپنی ہی نگاہوں میں ذلیل ہو چکی ہو۔ بلوندر سنگھ نے وقت سنبھال لیا۔ اپنی مٹی کے کھوٹ کو چھپا گیا۔
چند دن نہیں گزرے تھے کہ انہی کی پال برداری میں اس کی منگنی کی باتیں چلنے لگیں۔ لڑکے کا نام رگھبیر سنگھ تھا۔ وہ اسی گاؤں میں پلا بڑھا، لیکن جوان امرتسر شہر میں ہوا۔ وہاں اس کے تایا رہتے تھے جو بے اولاد تھے۔ انہوں نے اسے وہاں لے جا کر پڑھایا لکھایا اب وہ گھبروجوان ہو چکا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے اس کے تایا کادیہانت ہو گیا تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ چونکہ وہ خالصہ کالج میں اپنی تعلیم مکمل کر رہا ہے، اس لیے گاؤں واپس نہیں آئے گا، وہیں اپنی تائی کے ساتھ رہے گا۔ پھر گاؤں سے جو بہو بیاہ کر لے جائی جائے گی، وہ بھی شہر ہی میں رہے گی، ان دنوں ایسا رشتہ کہاں ملنا تھا۔ یہ بلوندر سنگھ کی شرافت اور امارت ہی تھی، جس کے باعث ایسا رشتہ نصیب ہو گیا تھا۔ امرت کور کی اس کے ساتھ منگنی ہو گئی۔ جبکہ اسے ذرا برابر بھی خوشی نہیں تھی۔ اس کی لو اب بھی نور محمد کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔
امرت کور کی زندگی بدل گئی۔ اب وہ پہلے جیسی الہڑ مٹیار نہیں رہی تھی۔ بلکہ حویلی میں اپنے ہی کمرے تک محدود رہنے والی بن گئی تھی۔ ذلت کا احساس اسے ہر وقت اپنے ساتھ لپٹا ہوا محسوس ہوتا رہتا۔ جسے وہ کبھی بالکل ہی برداشت نہیں کر پاتی تھی۔ ایسے ہی ایک مرتبہ اسے اپنے پرائمری کے استاد روشن لعل مل گئے۔ وہ کسی کام سے حویلی آئے تھے۔ ان کے ہاتھ میں کچھ کتابیں دیکھ کر اس نے ایسی کتابیں لا کر دینے کو کہا۔ ایک کتاب تو اسے اسی وقت مل گئی۔ وہ حضرت بلھے شاہ جی کا کلام تھا۔ وہ اس نے لے لیا، پھر وہ ہوتا یا پھر گرنتھ صاحب کا پاٹھ، اس نے اپنے ذلت کے خیال کو خود سے الگ کرنے کے لیے اپنے رب سے لو لگانے کے جتن شروع کر دیئے۔ اسے پڑھنے کا شوق لگ گیا۔ ایک تو وہی وجہ تھی کہ کسی نہ کسی طرح ذلت کے خیال سے چھٹکارا مل جائے اور دوسرا رگھبیر سنگھ کا خیال، وہ کالج میں پڑھنے والا لڑکا اور یہ محض پرائمری پاس لڑکی، وہ بھی دیہات کی، کس طرح اس کے ساتھ گزارا کرے گی۔ یہ مجبوری بھی اس کے ساتھ شامل ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پڑھنے کی تو شوقین ہو گئی لیکن نور محمد کے خیال سے اسے چھٹکارا نہیں ملا، وہ اسے جتنا بھولنے کی کوشش کرتی، اتنا ہی وہ اسے یاد آتا۔ اس نے ایک دن سنا کہ حاجراں کی شادی ہونے والی ہے، وہ کسی نہ کسی بہانے اس کی خدمت کرنے پر تل گئی۔ کبھی کسی کے ہاتھ کوئی کپڑا بھیج دیا اور کبھی کوئی گہنا، لیکن وہ اس نے کبھی قبول نہیں کیا تھا۔ ہمیشہ شکریہ کے ساتھ واپس لوٹا دیتی رہی کہ ان کے ہاں سب کچھ ہے ظاہر ہے یہ سوچ فقط حاجراں کی نہیں ہو سکتی تھی، اس کے پیچھے نور محمد کی ہی سوچ تھی۔ جب بھی کوئی تحفہ شکریے کے ساتھ واپس آتا تو اسے مزید ذلت محسوس ہوتی۔ یوں دن گزرتے چلے گئے۔


دوام – مکمل ناول پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں


اچانک ایک دن رگھبیر سنگھ گا ؤں آگیا۔ وہ اپنی تائی کو بھی ساتھ لے آیا تھا، اس کی آمد کی وجہ بڑی خوفناک تھی۔ اس نے جو بتایا تھا وہ بے حد خطرناک صورتِ حال کے بارے میں بتا رہا تھا، اس نے ملک دو ٹکڑے ہو جانے کی بات کی تھی۔ اس وقت تو اسے کوئی سمجھ نہیں آئی جب وہ اس کے باپو کے پاس بیٹھا ایسی باتیں کر رہا تھا، لیکن بعد میں جب اسے سمجھ آئی تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس کے اندر زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ اٹھی۔ اسے اپنی ذلت مٹانے کا موقعہ مل سکتا تھا، وہ جوں جوں سوچتی چلی جارہی تھی، اس کے ساتھ ہی اس کے اندر جوش و جذبہ بڑھتا جارہا تھا، اس کی تمام تر سوچوں کا مرکز نور محمد بن چکا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اب اسے کیا کرنا ہے۔
رگھبیرسنگھ نے گاؤں میں آتے ہی سکھوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا تھا۔ سب سے پہلے اس نے گاؤں کے چند غنڈہ نما سکھ لڑکوں کو اپنے ساتھ ملایا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں سوائے لڑائی بھڑائی، آوارہ گردی اور تاک جھانک کے اور کوئی کام نہیں تھا۔ ان لوگوں کی منڈلی وہ اپنے باپو کے کھیتوں میں کنویں پر لگاتا۔ وہاں سارا دن جوا، تاش اور شراب چلتی رہتی۔ ان آوارہ گردوں کو ایک بہت اچھا ٹھکانہ مل گیا تھا۔ پھر اس نے ان سکھ نوجوانوں کو اپنے قریب کرنا شروع کر دیا جو تھوڑا بہت یا کچھ پڑھے لکھے تھے۔ وہ انہیں سکھوں پر ہونے والے مظالم کی من گھڑت داستانیں سناتا اور جس قدر نفرت وہ ان کے ذہنوں میں بھر سکتا تھا، بھر رہا تھا۔ وہ خود پڑھا لکھا تھا، اس لیے بڑے دلائل سے بات کرتا جو دوسروں کو قائل کر لیا کرتی تھیں۔ اس طرح وہ گاؤں میں اپنی ایک خاص قسم کی ساکھ بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ پھر ایک دن اس کے اصل خیالات کا پتہ چلا ۔ وہ بلوندر سنگھ کے پاس دالان میں بیٹھا ہوا تھا۔ دونوں میں باتیں چل رہی تھیں اور امرت کور اندر والے کمرے میں بیٹھی ان کی آوازیں صاف سن رہی تھی۔ انہی باتوں کے دوران بلوندر سنگھ نے پوچھا۔
”اوئے رگھبیرے….! یہ جو تُو نے آتے ہی کام شروع کر دیا ہے، یہ کیا ہے، ایسا کیوں کر رہے ہو؟“
”سردار جی….! یہ اب ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان تقسیم ہو گیا ہے، اس کا اعلان بھی ہو گیا ہے۔ اس ملک کے ٹکڑے ہونے ہی ہونے ہیں۔ اس تقسیم کے بعد حالات وہ نہیں رہنے جواب تک ہیں۔ اس ملک کا مستقبل کچھ اور ہی ہو گا۔ اس مستقبل میں ہمارا کیا حصہ ہے؟ بس یہ سارا کچھ اس کوشش کے لیے ہے“۔
”میں اب بھی نہیں سمجھا کہ تم کہنا کیا چاہ رہے ہو؟“ بلوندر سنگھ نے واقعتا اس کی بات نہ سمجھتے ہوئے کہا۔
”او باپوجی، ذرا سمجھو آپ، انگریزوں کے چلے جانے کے بعد طاقت اور حکومت کن لوگوں کے پاس آئے گی، کیا ہم اس طاقت اور حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ آئندہ الیکشن ہونے ہیں۔ ہمیں ووٹ چاہئے ہو گا۔ گاؤں کے پنچ سے لے کر اسمبلی کے رکن تک، یہ سب کیسے ممکن ہو گا۔ اپنا آپ منوانے کے لیے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ہی طاقت میں اکٹھی کر رہا ہوں۔ آپ دیکھنا، کل یہ طاقت بھی ہماری ہے اور حکومت میں بھی ہم ہی ہوں
گے“۔
”مجھے نہیں معلوم کہ تم نے شہر کے کالج میں پڑھ کر کیا کیا سیکھا ہے، لیکن میرا تو سیدھا سادہ سوال یہ ہے کہ یہ جو تم گاؤں کے مسلمانوں کے خلاف لوگوںکو بھڑکارہے ہو۔ ان بے چاروں کا کیا قصور؟ ان کا اس تقسیم سے کیا
تعلق؟“
”سردار جی….! میں نے تو یہ سیکھا ہے کہ لوگوں کے ذہن قابوکرنا کے لیے ان کے دل میں کسی کی محبت بھر دو یا پھر نفرت بھر دو۔ کوئی مقصد تو چاہئے نا ان کو اکٹھا رکھنے کے لیے۔ محبت سے زیادہ نفرت بھرنا آسان ہے۔ وہ میں بڑی آسانی سے کررہا ہوں۔ آپ دیکھ نہیں رہے میرے ایک اشارے پر کتنے لوگ لڑنے مرنے کے لیے تیار ہیں۔ میں جب چاہوں، ان مُسلوں کے گھر پھنکوا دوں“۔
”نہ پتر، تیر ی یہ سوچ اچھی نہیں ہے۔ انہوں نے تیرا کیا بگاڑا ہے۔ ہم پُرکھوں سے ایک ساتھ رہتے چلے آرہے ہیں۔ ہم میں کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ ہماری کوئی دشمنی نہیں۔ پھر ایسی فضول سوچ کیوں ہے تمہاری؟ بلوندر سنگھ
نے انتہائی افسوس ناک انداز میں اسے سرزنش کی۔
”آج آپ ایسا کہہ رہے ہیں لیکن کل آپ کی سوچ بھی میری طرح ہو گی، کیا ہمارے دھرم کا ہم پر کوئی حق نہیں ہے؟ کیا اس دھرتی کا ہم پر کوئی حق نہیں ہے۔ آپ تو گاؤں میں سیدھی سادی زندگی گزارنے والے بندے ہیں۔
گروؤں کے حکم کیا ہیں، ابدالی نے پرمندر صاحب کی تذیل کی، کیا ایک سکھ اس کو بھول سکتا ہے۔ کتنے سکھ شہید کیے اس نے۔ کیا ان کا بدلہ ہماری گردن پر نہیں ہے؟“ وہ انتہائی جذباتی انداز میں بولا۔
”وہ جو ہونا تھا ہو گیا، مجھے بتا اس گاؤں کے مسلمانوں میں سے کوئی ابدالی کے ساتھ تھا، ان کے آباؤاجداد میں کوئی تھا تو چل میں تیرے ساتھ چلتا ہوں اور اپنی کرپان سے ان کی گردن اڑا دیتا ہوں۔ بول کون ہے ان میں؟“ بلوندر سنگھ نے طیش میں کہا تو وہ ایک لمحے کے لیے خاموش رہا، پھر بولا۔ ”شری پرمندر صاحب کی بنیاد بھی تو ایک سکھ کی بجائے ایک مسلمان نے رکھی تھی۔ اس کے بارے میں کیا کہتا ہے تُو…. دیکھ، جپ جی صاحب میں گرو مہاراج سچے بادشاہ نے سکھوں کے بارے میں بھی بتا دیا، وہ پڑھی ہے تُو نے۔ پوڑی سترہ اور اٹھارہ….اسی طرح ہر قوم میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ اب تُو بتا، تُو کس طرف کا ہے، لکیر کے کس پار کھڑا ہے؟“
”یہ سیاست ہے باپوجی، اور میں جس جماعت سے تعلق رکھتا ہوں، اس کا یہی حکم ہے۔ آپ کے خیالات مسلمانوں کے لیے اچھے ہوں گے، میرے نہیں اور پھر جب انہوں نے اپنا الگ ملک بنا لیا ہے تو یہ وہاں جائیں، اب یہاں ان کے رہنے کا کوئی حق نہیں ہے“۔ اس نے بات ہی گھما کر کسی اور طرف ڈال دی۔
”دیکھ پتر….! کوئی کیا کرتا ہے، اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں۔ ہاں جو ظلم کرتا ہے، اس سے لڑنا اور اسے سزا دینا ہمارا حق ہے، ہم مظلوم کے ساتھ ہیں۔ سن، میں تجھے ایک بات سناتا ہوں۔ ایک دفعہ سچے بادشاہ نے ایک سکھ سے کہا، حسینؓ کا غم منایا کرو، اس نے فوراً پلٹ کر جواب دیا، وہ تو مسلمانوں کا گرو ہے، ہم اس کا غم کیوں منائیں، اس پر سچے بادشاہ گرو جی مہاراج نے کہا۔ چل جا اپنے گھر اور اپنی بہن سے شادی کرلے۔ وہ چونک گیا اور تذبذب میں بولا، آپ کا حکم مہاراج…. سر آنکھوں پر پر میرا ضمیر نہیں مانتا، تب گرو مہاراج مسکرائے اور کہا، اسی ضمیر کا نام حسینؓ ہے۔ کیا تُو نے یہ کہیں نہیں پڑھا“۔
”باپوجی چھوڑیں ان باتوں کو، آج کی ضرورت کیا ہے، ہمیں تو اسے دیکھنا ہے۔ وقت بدل رہا ہے، اب ہمیں بھی بدل جانا چاہئے“۔ اس نے کافی حد تک نرم لہجے میں کہا۔
”تُو جو مرضی کر، تیری زندگی ہے، ہم تو اپنی گزار بیٹھے ہیں۔ بس اتنا دھیان رکھنا، کسی پر ظلم نہیں کرنا“۔ بلوندر سنگھ نے کہا اور خاموش ہوگیا۔
اس دن امرت کور کو رگھبیر سنگھ کے اصل خیالات کا پتہ چلا۔ اسے یہ سب اچھا نہیں لگا۔ مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ اسے روک سکتی تھی۔ وہ تو خود یہ محسوس کر رہی تھی کہ وہ رگھبیر سنگھ اس کی نگرانی کرتا ہے۔ وہ کہاں جاتی ہے، کس سے تعلق رکھتی ہے، اس کی کون سہیلیاں ہیں۔ یہ سب وہ اپنی نگاہ میں رکھنا چاہتا تھا اور رکھ رہا تھا۔ اس سے وہ بڑی گھٹن محسوس کیا کرتی تھی۔ کہاں آزاد فضاؤں میں چہکتی ہوئی چڑیا اور کہاں تعفن میں بند کر دینے کا
احساس،رگھبیر سنگھ کے لیے اس کے دل میں کبھی بھی کوئی جذبہ نہیں رہا تھا، اب اس کے رویے نے تو بالکل ہی اس کے دل کے دروازے بند کر دیئے تھے۔ اس نے تو بس نور محمد کا کہا ہوا ایک ایک لفظ اپنی سماعتوں میں محفوظ کرکے رکھا ہوا تھا۔ جو دن بدن اس کی زندگی کو کسی اور ہی رنگ میں رنگتا چلا جا رہا تھا۔ اس نے دل پر جبر کیا اور رگھبیر سنگھ کے نزدیک ہوتی چلی گئی۔
دن گزرتے چلے جارہے تھے۔ مگر ہر آنے والا دن خوفناک ہوتا چلا جارہا تھا۔ کسی نہ کسی طرف سے کوئی نہ کوئی ایسی خبر آجاتی جس سے گاؤں پر خوف کے سائے مزید بڑھ جاتے۔ ہر کوئی سہم گیا تھا۔ صرف رگھبیر سنگھ اور اس کی ٹولی گاﺅں بھر میں اپنا آپ منوانے کے لیے اور دہشت ڈالنے کے لیے اکثر پھرتے رہتے۔ دیکھا دیکھی اور بہت سارے لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔ پھر ایک سیاہ رات آگئی۔ بلوندر سنگھ اور رگھبیر سنگھ کے درمیان بڑی تلخ کلامی ہوئی۔ امرت کور جانتی تھی کہ ان کے درمیان تلخی کیا ہے۔ وہ اچھی طرح سن رہی تھی۔
”میں تجھے کبھی بھی اجازت نہیں دوں گا کہ تم کسی بھی مسلمان گھرانے کو تباہ کرو۔ وہ یہاں سے جانا چاہتے ہیں، انہیں سکون سے جانے دو۔ کوئی مداخلت نہ کرو“۔ بلوندر سنگھ نے انتہائی غصے میں کہا۔
”اب میں کچھ نہیں کر سکتا، میں نے انہیں مارنا ہی مارنا ہے۔ اب میں اگر رک بھی جاؤں تو میرے ساتھی نہیں رکیں گے ، وہ انہیں ماردیں گے“۔ نشے میں دھت رگھبیر سنگھ نے اکھڑ لہجے میں کہا۔
”تُو رک جا، باقی کو میں خود سنبھال لوں گا“۔ وہ زور سے بولا۔
”میں انہیں جانے بھی دوں تو وہ آگے کہیں قتل ہو جائیں گے۔ وہ زندہ سلامت تو اپنے ملک نہیں پہنچتے۔ پھر کیوں نہ ہم ہی ان سے فائدہ اٹھالیں“۔
”فائدہ….! کیسا فائدہ؟“
”اوباپو جی، ان کا مال اپنے قبضے میں کروں گا۔ پھر انہیں مارکر اپنی پارٹی والوں کو بتاؤں گاکہ میں نے اتنے مسلمانوں کو مارا ہے۔ وہاں بھی تو جگہ بنانی ہے“۔ اس نے جھومتے ہوئے کہا۔
”اوئے رگھبیرے….! مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں انہیں صحیح سلامت امرتسر اسٹیشن تک چھوڑ آؤں۔ اب تُو بھی میرے راستے میں آیا نا تو میں تجھے بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ بندہ بن اور اپنے ساتھیوں کو سمجھا، وہ یہ ظلم نہ کریں“۔
”باپو جی….! میرا یہ خیال ہے کہ آپ گھر میں رہیں۔ باہر نہ نکلیں تو اچھا ہے۔ اب یہ طوفان روکیں گے تو بھی نہیں رکے گا۔ میں جارہا ہوں“۔ وہ نشے میں دھت تھا،اس لیے مست الست سا اٹھا اور حویلی کے باہر نکلتا چلا گیا۔
امرت کور ایسے ہی کسی موقعے کی تلاش میں تھی۔ وہ تیزی سے آگے بڑھی اور رگھبیر سنگھ کی راہ میں آگئی جو گھوڑی پر سوار ہونے والا تھا۔
”وے رگھبیرے….! تُو کیا سچ مچ ان مُسلوں کو مار دے گا آج کی رات ….؟“
”ہاں….! جیسے ہی پچھلی رات کاچاند چڑھے گا، وہی ان کی موت کا وقت ہو گا۔ جاگ کر انتظار کر، سورج طلوع ہونے سے پہلے یہاں کوئی بھی نہیں بچے گا“۔ اس نے تیزی سے کہا اور ایک ہی جست میں گھوڑی پر سوار ہو گیا۔ وہ تیر کی مانند حویلی سے نکل گیا۔ اب جو کچھ کرنا تھا، وہ امرت کور ہی نے کرنا تھا۔
رات کے اندھیرے میں حویلی سے ایک تیز رفتار گھوڑی نکلی جو ہواؤں کو چیرتی ہوئی گلیوں میں سے گزرتی چلی گئی۔ اس کا رخ مسلمان گھرانوں کی طرف تھا،وہ سوار وہاں کچھ دیر ٹہلتا رہا، پھر اتنی ہی تیزی سے گاؤں سے باہر چلا گیا۔ گاؤں سے ذرا فاصلے پر درختوں کے جھنڈ میں ایک کنواں تھا۔ جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا کچا کمرہ بنا ہوا تھا۔ وہ سوار ادھر ہی جارہا تھا۔ وہاں اردگرد کہیں بھی ذی روح موجود نہیں تھا۔ تھی اچانک اس کے سامنے ایک ہیولا لہرایا، اس نے گھوڑی کی لگام پکڑ لی، تبھی سوار نے اپنے منہ پر بندھا ہوا ڈھاٹا اتار دیا۔
”امرت کور تُو….؟“
”ہاں….! میں ہوں نور محمد“۔
”مگر مجھے تو یہ کہا گیا ہے کہ رگھبیر سنگھ ادھر آرہا ہے۔ میں تو اس کی تاک میں تھا۔ پیغام غلط….“ وہ کہتے کہتے رک گیا۔
”میں نے ہی تجھے یہ پیغام بھیجا ہے کہ رگھبیر سنگھ ادھر آرہا ہے“۔ امرت کور نے سکون سے کہا۔
”اور تم کیوں آگئی“۔ اس نے حیرت سے پوچھا۔
”دیکھ نور محمد….! نہ میں تمہیں بھولی ہوں اور نہ ہی بھول سکتی ہوں۔ رب نے بڑی مہر کی ہے کہ ایسے حالات پیدا کر دیئے۔ جب کسی کو کسی کا ہوش ہی نہیں ہے۔ آ…. یہاں سے بھاگ جائیں، میں گھر کے پورے گہنے اور دولت اٹھا لائی ہوں۔ چل اپنی نئی دنیا بساتے ہیں“۔ امرت کور نے سارے جہاں کا پیار اپنے لہجے میں سموتے ہوئے کہا۔
”امرت کورے….! تُو واقعی پاگل ہے۔ ادھر رگھبیر اور اس کا جتھا ہمیں قتل کرنے کو پھر رہا ہے اور تُو مجھے یہاں سے بھاگ جانے کا کہہ رہی ہے۔ میں اپنے گھر والوں کو موت کے منہ میں چھوڑ دوں….“ نور محمد نے انتہائی غصے میں کہا۔
”وہ تو ویسے ہی مر جائیں گے…. اب انہیں کوئی نہیں بچا سکتا، تو بھی اب اگر وہاں ہوانا تو وہ تجھے بھی قتل کر دیں گے اور میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ تجھے کوئی قتل کر دے“۔ وہ انتہائی گہرے لہجے میں بولی۔”کیا مطلب ….!“ وہ ہذیانی انداز میں بولا۔
”مطلب یہ ہے نور محمد….! تُو نے تو اب تک ان کے بارے میں سنا ہی ہے ناکہ وہ ایسا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں، لیکن انہیں پتہ چل گیا ہے کہ صبح تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ گے۔ اس لیے انہوں نے آج رات ہی ….“ امرت کورنے کہا اور کہتے کہتے رک گئی۔
”او ناہنجار عورت ….!تُو نے اس لیے مجھے یہاں بلالیا کہ وہ میرے گھر والوں کو مار دیں…. میں ان کی حفاظت بھی نہ کر سکوں“۔ یہ کہہ کر وہ جانے لگا تو امرت کور نے اپنا بازو اس کے آگے کردیا۔
”نور محمد تُو بھی نہیں بچ سکے گا۔ وہ مارد یں گے تجھے سیانا بن، ابھی وقت ہے ہمارے پاس، ہم یہاں سے بہت دور نکل سکتے ہیں۔ میں اپنی بہترین گھوڑی بھی لے آئی ہوں۔ چل نکل چلیں“۔ امرت کور نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو وہ غضب میں بولا۔
”میرے راستے سے ہٹ جا امرت…. میں بھی اگر زندہ نہ رہا تو کیا ہوا، مارنے والوں کو تو مار کر مروں گانا؟ یہاں میں رگھبیرکو ہی مارنے آیا تھا۔ جو سارے فساد کی جڑ ہے۔ میں ان سے نپٹ لوں، پھر تجھے بھی بتاتا ہوں کہ عشق کیسے کرتے ہیں“۔ یہ کہہ وہ جانے لگاتو امرت کور پھر راستے میں آگئی۔
”میں کہتی ہوں میری بات مان لے…. اچھا رہ جائے گا“۔ امرت کور نے بھی غصے میں کہا۔
”کیا کرے گی تُو مجھے روک لے گی؟“ نور محمد نے زور سے کہا۔
”ہاں، میں تجھے روک لوں گی، تُو جاکے دکھا، اب تیرے پاس صرف دو راستے ہیں، ان میں سے ایک چن لے ورنہ جو تُو نے میری ہتک کی ہے، میں نے آج اس کا بدلہ لے لینا ہے“۔
”کیا…. کرے گی تُو….کیا چاہتی ہے“۔ وہ اکتاتے ہوئے لہجے میں بولا۔
”یا تُو مجھے اپنے ساتھ لے چل، اپنی زندگی بھی بچا اور مجھے ایک نئی زندگی دے دے، ہم ایک خوشحال زندگی گزاری گے۔ یا پھر میرے بدن کی آگ بجھا یہیں اس جگہ اور چلا جا اپنے خاندان کی حفاظت کرنے۔ میں سمجھوں گی میں نے تمہیں پالیا….“۔ امرت کور ، انتہائی اجنبیت والے لہجے میں غصے سے کہا تو نور محمد کا دماغ بھک سے اُڑ گیا۔ وہ یونہی ماننے والی نہیں تھی۔ اگر اس کا کہنا سچ ہے اور جس تیاری سے وہ یہاں تک آئی ہے اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ رگھبیر ان کے گھروں پر حملہ کرنے والا ہے۔ اسے اپنے گھر والوں کا بچانا تھا، انہیں ابھی لے کر نکلنا تھا۔ اب سوائے زبردستی وہاں سے جانے کے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس نے امرت کور کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور پھر پوری نفرت سے اس پر تھوک دیا۔
”میں تھوکتا ہوں تیرے بدن پر اور تیرے بدن کی آگ پر“۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھا۔ امرت کور غضب سے اس کی طرف دیکھتی رہی، وہ چند قدم ہی آگے چلا تھا کہ ایک بھاری لکڑی سے اس کے سر پر وار کیا گیا۔ اس کے حواس گم ہو گئے۔ اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا، دوسرا وار کر دیا گیا۔ پھر تیسرا۔ اس نے گھوم کر دیکھا، امرت کور شعلہ جوالا بنی ہاتھ میں ڈانڈا پکڑے ہوئے تھی۔ جس قوت سے اس نے ضربیں لگائی تھیں اس میں اس کے اندر کے جذبوں کی کار فرمائیاں بھی تھیں۔ نور محمد چند لمحوں تک خود کو سنبھالتا رہا، لیکن تیسری ضرب کے بعد وہ اپنے حواسوں میں نہ رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا اچھاتا چلا گیا…. اسے جب ہوش آیا تو بندھا ہواتھا۔ اس سے تھوڑے فاصلے پر امرت کور کھڑی تھی۔ جس کی آنکھوں سے نفرت اُبل رہی تھی۔ اسے ہوش میں آتا دیکھ کر وہ بولی۔
”اب تیرے پاس فقط ایک ہی راستہ رہ گیا ہے، میرے ساتھ بھاگ جانے گا۔ وہ دیکھ گاؤں میں آگ لگی ہوئی ہے۔ اب تک تیرے سارے گھر والے مار کر جلا دیئے گئے ہوں گے۔ کچھ نہیں بچا ہو گا وہاں پر….“نور محمد نے زمین پر پڑے پڑے ہی گھوم کر دیکھا۔ ملگجی سی چاندنی میں گاؤں کی طرف سے شعلے اٹھ رہے ۔ چیخ وپکار کی ہلکی ہلکی آوازیں وہاں تک آرہی تھیں۔ نور محمد تڑپ اٹھا۔ اس نے اپنا پورا زور لگانا شروع کر دیا کہ کسی طرح ان رسیوں سے آزد ہو جائے۔
”مجھے کھول دے امرت، مجھے جانے دے….“
”نہیں، میں تجھے موت کے منہ میں کیسے دھکیل سکتی ہوں۔ تُو اگر مجھے لے کرجاناچاہتا ہے تو میں تجھے ایسے ہی گھوڑی پر سوار کر دیتی ہوں، میں تجھے یہاں سے لے کر دور چلی جاؤں گی، بول، کیا فیصلہ ہے ۔ تیرا….“ وہ پاگلوں کی طرح ہذیانی انداز میں اس سے یوں پوچھ رہی تھی جیسے وہ اس کی بے بسی سے مزہ لے رہی ہو۔
”تُو مجھے ایک بار کھول دے…. پھر دیکھ، رگھبیر کیا پورا گاؤں پلٹ دوں گا“۔ اس کے یوں کہنے پر وہ پاگلوں کی طرح ہنسی۔
”میرے سامنے بے بس پڑا ہے…. اور گاؤں پلٹ دے گا….“
”میں تیرے عورت ہونے کے دھوکے میں آگیا…. مگر تُو اپنی ہوس میں اندھی ہو گئی ہے۔ چل تُو نہ کھول، میں خود ہی کوشش کرتا ہوں….“
”کر…. کر…. کوشش کر….“ وہ اس کی طرف دیکھ کر پاگلوں کی طرح ہنس دی۔ انہی لمحات میں گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز سنائی دی۔ کوئی اس طرف آرہا تھا ۔ چند لمحوں میں ہیولاواضح ہو گیا۔ وہ رگھبیر سنگھ تھا۔ شاید اس نے دور ہی سے کھڑی امرت کور کو پہچان لیا تھا۔ مگر اس کی نگاہ زمین پر بندھے ہوئے نور محمد پر نہیں پڑی تھی۔ اس نے گھوڑی سے اترتے ہوئے تیز انداز میں پوچھا۔
”نی امرت کورے….! تُو یہاں کیا کر رہی ہے؟“
اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتی، اس کی نگاہ زمین پر بندے ہوئے نور محمد پر پڑی تووہ کھل اٹھا اور پھر جھومتے ہوئے بولا۔
”اوئے رب جسے شکار دے…. میں تو کب کا اسے ڈھونڈ رہا تھا اور یہ یہاں چوہے کی طرح پڑا ہے، پر اسے باندھا کس نے ہے؟“
”میں نے ….؟“ امرت کور نے نفرت سے کہا۔ تب رگھبیر نے خوشی جھومتے ہوئے کہا۔
”اوئے اش کے بھئی اش کے امرت کورے، تُو نے ثابت کر دیا ہے کہ تُو شیرنی ہے اور میری بیوی بننے کے قابل ہے، میں تو کچھ اور ہی سوچ رہا تھا پر تُو نے دل خوش کر دیا….“”تُو کیا سوچ رہا تھا؟“ امرت کو نے تجسس سے پوچھا۔
”سچو سچ پوچھتی ہے نا تو پھر سن، یہ جب نور محمد مجھے اپنے گھر نظر نہیں آیا تو میں نے یہی سمجھ لیا کہ تُو اس کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ میں نے فوراً حویلی میں آ کر پتہ کیا تُو وہاں نہیں تھی۔ تیرا باپ بھی گھر میں نہیں ہے۔ میں سمجھ گیا۔
میں نے فوراً اِدھر اُدھربندے بھیج دیئے ہیں۔ گاؤں سے نکلتے ہی ایک بندے نے مجھے بتایا کہ کوئی سوار ادھر گیا ہے اور میں ادھر آگیا۔ تجھے تلاش کرنے، مجھے یقین تو نہیں تھا کہ ابھی تم لوگ ادھر ہو گے، پھر دیکھ لینے میں کیا حرج تھا، اسی رستے سے تجھے آگے تلاش کرلیتا“۔
”تجھے ایسا شک کیوں ہوا رگھبیرے؟“ امرت نے اس کی بات سنی اَن سنی کرتے ہوئے پوچھا۔
”لے….! میں جانتا نہیں ہوں۔ پورا گاؤں جانتا ہے کہ تُو اس سے عشق کرتی ہے۔ پر لگتا ہے کہ اب تُو اس سے انتقام لے رہی ہے“۔ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی تلوار نما کرپان نکال کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”لے،
پکڑ، اتار دے اس کی گردن، بس یہی بچا ہے، باقی سارے مار دیئے ہیں“۔
اس کا اتنا کہنا ہی تھا کہ زمین پر پڑا ہوا نور محمد تڑپ اٹھا۔ اس نے پورا زور لگایا مگر رسیاں نہ ٹوٹیں۔ اسے اپنی موت سامنے دکھائی دے رہی تھی۔ افسوس اسے اس بات کا تھا کہ وہ اپنے پیاروں کی حفاظت نہیں کر سکا۔ امرت کور نے اس کا چہرہ دیکھا اور پھر رگھبیر کی بڑھائی ہوئی کرپان اپنے ہاتھ میں لے لی اور اگلے ہی لمحے پوری قوت سے کرپان گھمائی اور رگھبیر سنگھ کی گردن اڑا دی۔ وہ تڑپ کر زمین پر گر پڑا۔ اس کا جسم ماہی بے آب کی مانند زمین پر تڑپ رہا تھا۔ اس کے خون کے چھینٹے امرت کور کے چہرے پر آن پڑے تھے۔ اس نے کرپان ایک طرف پھینکی اور بندھے ہوئے نور محمد سے لپٹ گئی۔ کوئی لفظ کہے بغیر یوں رونے لگی جیسے اس کا سب کچھ لٹ گیا ہو۔ پھر پاگلوں کی طرح اس کا سر ، منہ اور جسم چومنے لگی۔ اسے یہ خیال ہی نہیں تھا کہ اس کے قریب رگھبیر کی لاش تڑپ رہی ہے۔ اس کے بدن سے ابھی تک تازہ خون بہہ رہا ہے۔ کافی دیر تک ہچکیوں کے ساتھ روتی رہی پھر بھیگتے ہوئے لہجے میں بولی۔
”نور محمد….! اب تو کچھ بھی نہیں رہا، نہ تیرا نہ میرا…. چل کسی دوسرے دیس چلتے ہیں“۔
اس نے جواب نہیں دیا۔ وہ تو غم کی شدت سے پتھر بن گیا تھا۔ وہ وہیں اس کے پاس بیٹھی روتی رہی مگر نور محمد نے اسے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ دو تین گھنٹے اسی طرح گزر گئے۔ ایک طرف نفرت کی آگ میں جلتا ہوا نور محمد کا وجود، جو اس کے لیے سرد تھا۔ اس کے جذبات برف کی مانند ٹھنڈے تھے اور دوسری طرف موت نے رگھبیر کی لاش کو ٹھنڈا کر دیا تھا، اس کے تن سے جدا سر کی آنکھیں اب تک کھلی ہوئی تھیں، اور شاید ان میں حیرت اب بھی جمی ہوئی تھی۔ ان دونوں کے درمیان امرت کور، بیٹھی زاروقطار رو رہی تھی۔ اچانک گاؤں کے داخلی راستوں پر گڑگڑاہٹ ہونا شروع ہو گئی۔ وہ کئی موٹریں تھیں وہ سمجھ گئی یہ ملٹری کی گاڑیاں ہیں۔ اس نے نور محمد کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔
”اٹھ نور محمد، نکل چلیں، گاؤں سے اب کوئی بھی ہمارے پیچھے نہیں آئے گا“۔
نور محمد چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا، پھر پہلے سے زیادہ گہری نفرت سے اس پر تھوک دیا۔ اس نے آنکھیں یوں بند کرلیں کہ چاہے تو وہ اب اسے قتل کر سکتی ہے۔ امرت کور اس کی طرف پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتی رہی۔
آنکھوں سے جاری آنسو خشک ہو گئے۔ وہ اٹھی اور اس نے اس کی رسیوں کو کھول دیا۔ نور محمد تیزی سے آزاد ہو گیا۔ تب امرت کور نے ہاتھ میں کرپان پکڑی اور اس کی طرف بڑھا دی۔
”میرا وجود صرف تیرے نام کا ہے، تُو نہیں تو کسی کام کا نہیں، اپنے ہاتھوں سے مارہی دے مجھے۔ میرے دل میں یہ حسرت تو نہیں رہے گی کہ تُو نے مجھے کچھ بھی نہیں دیا، محبت نہیں دی، تو موت ہی دے دے“۔ تبھی نور محمد نے اس کی طرف گہری نگاہوں سے دیکھا اور پھر اس سے بھی گہری نفرت سے زمین پر تھوک دیا۔ جس کا مطلب یہی تھا کہ تیرا جسم اس قابل بھی نہیں ہے کہ میں تم پر اب تھوک بھی سکوں۔ میرا تھوک قیمتی ہے۔ پھر اس نے امرت کور کی طرف دیکھا بھی نہیں، ہوا کی مانند رگھبیر سنگھ کی گھوڑی پر ایک جست میں بیٹھا اور وہاں سے چل دیا۔
امرت کور اپنا سب کچھ گنوا بیٹھی تھی۔ وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح اس وقت حویلی میں داخل ہوئی جب سورج طلوع ہو رہا تھا۔ دالان میں پورا خاندان افسوس ناک حالت میں بیٹھا ہوا تھا۔ اسے دیکھتے ہی بلوندر سنگھ نے اونچی آوازمیں پوچھا۔
”کہاں سے آئی ہے تو؟“
اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے پاس کوئی جواب تھا ہی نہیں۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی خون آلود کرپان اپنے باپ کے قدموں میں رکھ دی۔ پھر اس کے ساتھ اپنی گردن اس کے سامنے جھکا کر کھڑی ہو گئی۔ بلوندر سنگھ کچھ بھی نہ سمجھ پایا۔ وہ امرت کور سے پوچھتا ہی رہا کہ کیا ہوا، مگر اس کے پاس تو فقط خاموشی تھی۔ وہیں اسے معلوم ہوا کہ اس کا باپ اس فساد کو روکنے کے لیے ملٹری کے پاس گیا تھا۔ جو بہت دیر سے پہنچی۔ سب کچھ اجڑ گیا تھا، زبان پر کوئی بھی لفظ لانے کا فائدہ ہی نہیں تھا۔

جاری ہے
*********

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں