The news is by your side.

Advertisement

ڈھلتی عمر کے ساتھ دماغ کو تیز رکھنے کا آسان نسخہ

لگ بھگ ہر ایک کو اچھی نیند کی اہمیت کے بارے میں علم ہے مگر ہوسکتا ہے کہ آپ کو یہ اندازہ نہ ہو کہ ایسا نہ کرنے پر آپ کے ساتھ کیا کچھ ہوسکتا ہے، نیند بھی اسی وقت بہترین ہوتی ہے جب سونے کا دورانیہ بہت کم یا زیادہ نہ ہو۔

امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بڑھنے کے ساتھ جو لوگ بہت کم یا بہت زیادہ سونے کے عادی ہوتے ہیں ان میں دماغی تنزلی کا خطرہ درست وقت تک نیند کے مزے لینے والوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔

واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی اس تحقیق میں متعدد معمر افراد کے دماغی افعال کا جائزہ کئی سال تک لیا گیا جبکہ الزائمر سے متعلق پروٹینز اور نیند کے دوران دماغی سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ ناقص نیند اور الزائمر امراض دونوں دماغی تنزلی سے منسلک ہیں اور ان دونوں کے اثرات کو ایک دوسرے سے الگ کرنا چیلنج سے کم نہیں۔

اس نئی طبی تحقیق میں محققین نے اہم ڈیٹا اکٹھا کیا جس سے نیند، الزائمر اور دماغ افعال کے پیچیدہ تعلق کو سمجھنے میں مدد ملے گی، الزائمر معمر افراد میں دماغی تنزلی کا باعث بننے والا اہم ترین وجہ ہے جو ستر فیصد ڈیمینشیا کیسز کا باعث بنتا ہے، ناقص نیند اس بیماری کی ایک عام علامت ہے اور اس کے بڑھنے کی رفتار کو تیز کردیتی ہے۔

تحقیق میں سو معمر افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں الزائمر کے ابتدائی آثار تھے اور دریافت ہوا کہ چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند دماغی افعال کو مستحکم رکھتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر کوئی فرد ساڑھے پانچ گھنٹے سے کم وقت سونے کا عادی ہوتا ہے تو اس کی دماغی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور یہی ایسے افراد کے ساتھ بھی ہوتا ہے جن کی نیند کا دورانیہ ساڑھے سات گھنٹوں سے زیادہ ہو،

طبی تحقیق کے مطابق نیند کا کم دورانیہ ہی نہیں بلکہ زیادہ سونے سے بھی دماغی تنزلی کی رفتار تیز ہوجاتی ہے، اس سے عندیہ ملتا ہے کہ نیند کا دورانیہ نہیں بلکہ معیار کنجی ہے۔

یعنی ایسی نیند جس کے دوران لوگ نیند کے چاروں مراحل سے ہر رات چار سے چھ بار گزریں، ہر سائیکل کا دورانیہ 90 منٹ کا ہوتا ہے تو بیشتر افراد کو اس ہدف کے حصول کے لیے سات سے 8 گھنٹے کی مسلسل نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا کےعلاج میں بڑی پیش رفت، مصنوعی اینٹی باڈیز تیار

نیند کے اولین دو مراحل میں اپنے ردہم کو گھٹانا شروع کرتا ہے، دھڑکن اور سانس کی رفتار سست ہوتی ہے، جسمانی درجہ حرارت گھٹ جاتا ہے اور آنکھوں کی حرکت تھم جاتی ہے۔

اس سے اگلے مرحلے کی تیاری ہوتی ہے یعنی گہری نیند کی، یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دماغ دن بھر کی بھاگ دوڑ سے جسم پر مرتب اثرات کی مرمت شرع کرتا ہے اور جسم خلیاتی سطح پر خود کو بحال کرتا ہے۔

آخری مرحلہ وہ ہوتا ہے جب ہم خواب دیکھتے ہیں جس کے لیے ریپڈ آئی موومنٹ سلیپ کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی ہے، اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل برین میں شائع ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں