The news is by your side.

سعودی عرب میں مصنوعی بارش کا تجربہ

سعودی عرب کے تین شہروں طائف، باحہ اور ابہا میں مصنوعی بارش کا تجربہ کیا گیا ہے اور چار مخصوص طیاروںکی 84 پروازوں کی مدد سے مصنوعی بارش برسائی گئی۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں موسمیات کے قومی مرکز نے کہا ہے کہ اگست اور ستمبر کے دوران طائف، باحہ اور ابہا میں مصنوعی بارش کا تجربہ کیا گیا ہے کیونکہ تینوں علاقوں میں معمول سے زیادہ بارش کی ضرورت تھی۔

رپورٹ کے مطابق چار مخصوص طیاروں سے 84 پروازوں کے ذریعے طائف، باحہ اور ابہا میں مصنوعی بارش کرائی گئی اور ان کی پروازوں کا دورانیہ 316 گھنٹے تک رہا۔

اس سے قبل مملکت میں سب سے پہلے مصنوعی بارش رواں سال ہی اپریل میں دارالحکومت ریاض کے علاوہ قصشیم اور حائل کے علاقوں میں کرائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے 1990 میں مصنوعی بارش کے پہلے تجربے کے لیے امریکن یونیورسٹی وایومنگ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور اسی سال اس پر عمل بھی کیا گیا تھا، جس کے بعد ریاض، قصیمِ، حائل، مملکت کے شمال مغربی اور جنوب مغربی علاقوں میں بھی مصنوعی بارش کے تجربات کیے گئے۔

گزشتہ عشروں کے دوران آبادی بڑھ جانے سے آبی ذرائع پر دباؤ بڑھا ہے، صنعت، تو انائی، نقل و حمل، کان کنی اور زراعت کے شعبوں میں بڑی وسعت پیدا ہوئی ہے، مملکت کو سالانہ 24 ارب مکعب میٹر پانی کی ضرورت ہے۔

سعودی عرب کو جن وجوہات کی بنا پر مصنوعی بارش کی ضرورت ہے وہ چار ہیں جس میں سرفہرست مملکت میں کم بارش ہونا ہے، سعودی عرب میں بارش کا سالانہ تناسب 100 ملی میٹر سے اوپر نہیں جاتا جس کی وجہ سے مملکت دنیا کے خشک ترین ممالک کی صف میں شامل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں