The news is by your side.

Advertisement

زنجیروں میں قید نایاب کتابیں

کیا آپ جانتے ہیں ایک زمانے میں کتابوں کو زنجیر سے باندھ کر رکھا جاتا تھا تاکہ کوئی انہیں چرا نہ سکے؟

یہ قصہ ہے سترہویں صدی کا جب نایاب اور قدیم کتابوں کو چوری ہونے سے بچانے کے لیے زنجیروں سے منسلک کردیا جاتا تھا۔

زنجیروں میں قید کتابوں پر مشتمل ایسی ہی ایک لائبریری اب بھی موجود ہے۔

انگلینڈ کے علاقے ہرفورڈ کے کلیسا میں موجود یہ لائبریری اپنی نوعیت کی انوکھی لائبریری ہے۔ یہ کتب خانہ سنہ 1611 میں بنایا گیا اور یہاں 15 سو کتابیں موجود ہیں جو تمام نہایت قدیم اور نایاب ہیں۔

یہی نہیں ان کتابوں کو آج بھی اسی طریقے سے رکھا جاتا ہے جیسے صدیوں قبل رکھا جاتا تھا، یعنی زنجیروں سے باندھ کر۔

کتب خانے کی منتظم بتاتی ہیں کہ جس ترتیب سے کتاب شیلف میں رکھی جاتی ہے تو کتاب کا نام والا حصہ سامنے ہوتا ہے، اگر وہاں زنجیر باندھی جائے تو زنجیر باآسانی کھینچ کر کتاب پھاڑی جا سکتی ہے۔

اس کے برعکس کتابوں کے سرورق کے کونے پر زنجیر منسلک کی جاتی ہے۔ اس زنجیر کے ساتھ کتاب کو اگر روایتی طریقے سے رکھا جائے تو زنجیر کھینچنے سے کتاب کے پھٹنے کا خدشہ ہے۔

چنانچہ ان کتابوں کو شیلف میں الٹا رکھا جاتا ہے یعنی صفحات سامنے کی طرف ہوتے ہیں۔

کتابوں کی پہچان کے لیے ہر شیلف کے ایک طرف کتابوں کی فہرست بھی موجود ہے تاکہ مطلوبہ کتاب باآسانی ڈھونڈی جاسکے۔

منتظم کے مطابق گو کہ ان زنجیروں کو کھولنے کے لیے نئی چابیاں بنا لی گئی ہیں تاہم ہمارے پاس قدیم اور اصل چابی اب بھی موجود ہے۔

کتب خانے میں موجود قدیم کتابیں زیادہ تر سترہویں صدی کی ہیں، تاہم کچھ ایسی بھی ہیں جو بارہویں صدی میں لکھی گئیں اور سترہویں صدی میں ان کی جلد سازی کی گئی۔

ان کتابوں کا رسم الخط بھی قدیم ہے جو اب تبدیل ہوچکا ہے۔

بعض کتابوں میں تصاویر بھی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرون وسطیٰ کی مصوری اور رنگوں کا استعمال کس طرح ہوتا تھا۔

کیا آپ اس کتب خانے کا دورہ کرنا چاہیں گے؟

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں