The news is by your side.

Advertisement

صحارا کے صحرا میں قدیم دریا دریافت

صحارا کے صحراؤں میں مٹی کے نیچے ایک دریا دریافت کیا گیا ہے جس سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ وہاں کبھی پودے اور جانور رہا کرتے تھے۔

موریطانیہ کے صحرائی علاقے میں ریڈار سے لی گئی تصاویر میں 500 کلو میٹر پر پھیلا ہوا ایک دریا نظر آرہا ہے۔ یہ تصاویر جاپانی سیٹلائٹ سے لی گئی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ قدیم زمانے میں یہ دریا مغربی صحارا میں بہتا ہوا اس حصے تک جاتا تھا جسے اب الجیریا کہا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس دریا کا پانی مختلف چینلز کے ذریعے سمندر تک جاتا ہوگا۔ اس دریا کو دریافت کرنے والی تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ دریا پودوں اور جانوروں کی پانی کی ضروریات پورا کرتا ہوگا۔ اگر یہ دریا اس وقت فعال ہوتا تو دنیا کا بارہواں بڑا دریا ہوتا۔

ماہرین کی جانب سے جاری کیے جانے والے نقشے کے مطابق دریا بہت منظم طریقے سے رواں تھا اور یہ آگے جا کر موریطانیہ کے سمندر میں گرتا تھا۔

ساؤتھ ہمپٹن میں نیشنل اوشینوگرافی سینٹر کے محقق رسل وائن کا کہنا ہے کہ یہ دریافت جغرافیہ کے لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس سے ہمیں پتہ چلا کہ افریقہ کا یہ صحرا 5 سے 6 ہزار سال پہلے ایک زرخیز خطہ تھا۔

ان کے مطابق یہ ان لوگوں کے لیے ایک ثبوت ہے جو کلائمٹ چینج کو نہیں مانتے، کہ کس طرح کلائمٹ چینج کی وجہ سے ایک سر سبز و زرخیز خطہ ایک صحرا میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں