site
stats
عالمی خبریں

امریکہ میں دو بڑی سیاسی جماعتوں کی پہچان گدھا اور ہاتھی کیوں ؟

واشنگٹن : دنیا بھر کی نظریں نئے امریکی صدر کے انتخاب پر جمی ہیں، اس مرتبہ وائٹ ہاؤس میں کون داخل ہوگا، ہاتھی یا گدھا؟جی ہاں دنیا کے سب سے طاقتور ملک کی دو بڑی جماعتوں کی پہچان گدھا اور ہاتھی ہے۔

symbol-post-4
کیا آپ جانتے ہیں دنیا کے سپر پاور ملک کی دو بڑی طاقتوں ڈیموکرٹیک اور ری پبلیکن کے علامتی نشان گدھا اور ہاتھی کیوں ہے؟ اٹھارہ سو اٹھائیس میں امریکہ میں صدارتی انتخابات کے امیدوار اینڈریو جیکسن کی حیثیت کم کرنے کے لئے مخالفین نے انہیں گدھا اور احمق و بے وقوف کہنا شروع کر دیا تھا۔

symbol-post-2

جیکسن نے نہ صرف اس لقب کو خوش دلی سے قبول کیا بلکہ اپنے انتخابی پوسٹروں میں گدھے کی تصویر شامل کرلی۔ اور یوں گدھا آج بھی دنیا پر حکومت کررہا ہے۔

ہاتھی کی کہانی قدرے مختلف ہے ابراہم لنکن پہلے ری پبلیکن صدر کے طور پر کامیاب ہوئے، اسی دور میں ہاتھی ایک کارٹون کے ذریعے ری پبلیکن کی علامت کے طور پر سامنے آیا۔

symbol-post-3

ایک اخبار نے سیاسی کشمش کو لڑائی کو کارٹون کی شکل میں پیش کیا، لیکن اس نشان کو پارٹی میں قبولیت1874 میں تھامس نیسٹ کے ایک کارٹون سے ملی۔

symbol-post-1

اس مشہور زمانہ کارٹون میں ایک جنگل کا منظر پیش کیا گیا تھا، جس میں شیر کی کھال میں ایک گدھا کھڑا تھا، جس کے ڈر سے جانور بھاگ رہے تھے، لیکن ایک ہاتھی خم ٹھونک کر اس کے سامنے کھڑا تھا۔ ہاتھی پر لکھا تھا ری پبلیکن ووٹ۔یوں یہ ہمیشہ کے لئے اس پارٹی کا نشان بن گیا۔

واضح رہے کہ میڈیا جائزوں کے مطابق ہیلری کوچوالیس اورٹرمپ کو چالیس فیصد ووٹرزکی حمایت حاصل ہے۔


مزید پڑھیں : امریکہ کا نیا صدر کون ہوگا؟امریکی صدارتی انتخاب کیلئے پولنگ آج ہوگی


امریکا کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو صدور کی تعداد کے لحاظ سے ریپبلکن کا سیاسی پلڑا بھاری ہے، اب تک امریکا کی صدارت اٹھارہ ریپبلکن سنبھال چکے ہیں ، ان میں سب سے پہلا نام ابراہم لنکن کا ہے، جن کی صدارت کا اختتام ان کے قتل پر ہوا۔ اس فہرست میں سب سے آخری نام جارج ڈبلیو بش جونیئرکا ہے جنہوں نے اپنی صدارت کی دو میعاد مکمل کیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کو دیکھا جائے تو وہاں سے اب تک پندرہ شخصیات امریکا کی صدارت سنبھال چکے ہیں، سب سے پہلا نام اینڈرو جیکسن کا ہے جب کہ آخری نام براک اوباما کا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top