The news is by your side.

Advertisement

کراچی، کانگو کا ایک اور کیس سامنے آگیا، رواں‌ سال کی تعداد 19 تک پہنچ گئی

رواں سال متاثرہ ہونے والے افراد کی تعداد 19 تک پہنچ گئی

کراچی: شہر قائد میں جان لیوا موذی وائرس کانگو سے ایک اور شخص متاثر ہوگیا جس کے بعد رواں سال سامنے آنے والے کیسز کی تعداد 19 تک پہنچ گئی۔

تفصیلات کے مطابق جناح اسپتال کی ڈائریکٹر اور ایم ایس ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق 33 سالہ فیضان نامی نوجوان کو گزشتہ روز طبیعت ناساز ہونے کے بعد اسپتال لایا گیا۔

سیمی جمالی کے مطابق ملیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان کے کچھ ٹیسٹ کرائے گئے جن کی رپورٹ آنے پر یہ بات سامنے آئی کہ فیضان کانگو وائرس سے متاثر ہے، مریض کو آئی سولیشن وارڈ میں داخل کر کے علاج کا آغاز کردیاگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جناح اسپتال میں ایک اور کانگو کے مریض کی تصدیق

جناح اسپتال کی ڈائریکٹر کے مطابق رواں برس سے اب تک صرف کراچی سے ہی 19 کیسز سامنے آئے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 21 اکتوبر کو ملیر کے علاقے جام گوٹھ کے رہائشی 28 سالہ نہال میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ ماہ اگست میں دو متاثرہ مریض انتقال بھی کرگئے تھے۔

یہ بھی یاد رہے کہ 2 ماہ قبل عید الاضحیٰ کے موقع پر محکمہ صحت نے کانگو وائرس سے بچاؤ کے لیے خصوصی گائیڈ لائن جاری کی تھیں۔جس کے مطابق کانگو بخار خطرناک نیرو نامی وائرس سے پھیلتا ہے۔

یہ وائرس مویشی کی کھال سے چپکی چیچڑوں میں پایا جاتا ہے، چیچڑی کے کاٹنے سے وائرس انسان میں منتقل ہوجاتا ہے۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق نیرو نامی وائرس انسانی خون، تھوک اور فضلات میں پایا جاتا ہے جو انسانوں میں گانگو بخار پھیلاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی ادارہ صحت کی کانگو وائرس سے متعلق گائیڈ لائنز جاری

علامات

تیز بخار، کمر، پٹھوں، گردن میں درد، قے، متلی، گلے کی سوزش اور جسم پر سرخ دھبے کانگو کی علامات ہیں۔

احتیاطی تدابیر 

جانوروں کے پاس جانے سے گریز کیا جائے، مویشیوں کے پاس جانے کی ضرورت پیش آئے تو دستانوں کا استعمال ضرور کیا جائے۔

یاد رہے کہ کانگو وائرس کے خاتمے کے لیے تاحال کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی ہے لہذا قبل اس وقت احتیاط اور مرض ظاہر ہوجانے کی صورت میں بروقت علاج ہی سے اس مرض کا خاتمہ ممکن ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں