The news is by your side.

سانحہ بلدیہ کیس کا اہم چشم دید گواہ منظر عام پرآگیا

کراچی : سانحہ بلدیہ کیس میں روپوش اہم چشم دید گواہ منظر عام پرآگیا، گواہ نے ملزم زبیر چریا کو شناخت کرتے ہوئے بیان دیا کہ ملزم نے اپنی جیبسے تھیلیاں نکال کر فیکٹری کے گودام میں رکھے کپڑوں پر پھینکی تھیں، اور آگ لگنے پر مسکراتا رہا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سانحہ بلدیہ کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ، جان کے خطرہ کے باعث روپوش مقدمہ کا اہم اور چشم دید گواہ منظرعام پر آگیا۔

اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ نے گواہ کو عدالت میں پیش کیا تاہم سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر گواہ کا نام صیغہ راز میں رکھا گیا۔

عینی شاہد نے عدالت کے روبرو زبیر چریا کو شناخت کرتے ہوئے بتایا وقوعہ کے روز وہ فیکٹری میں موجود تھا، زبیر چریا اور ساتھیوں نے اس نے اپنی جیبسے تھیلیاں نکال کرگودام کی پہلی اور دوسری منزل پرموجود کپڑے پر پھینکیں اور آگ لگنے کے بعد زبیر چریا مسکراتا رہا۔

عینی شاہد نے بتایا کہ وہ ملزم کے دیگر ساتھیوں کو بھی شناخت کرسکتا ہے۔

مزید پڑھیں :  سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹس سندھ ہائی کورٹ میں پیش

ملزمان زبیر چریا اور عبد الرحمان عرف بھولا کے وکیل نے پوچھا کہ سانحہ کو اتنا عرصہ گزر گیا، عینی شاہد نے بیان پہلے کیوں قلم بند نہ کرایا، جس پر چشم دیدگواہ نے بتایا کہ اسے جان کو خطرے کی وجہ سے وہ پنجاب چلا گیا تھا۔۔ جے آئی ٹی نے بلایا اورتحفظ کی ذمہ داری اٹھائی توجوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو زیر دفعہ 164کا بیان ریکارڈکرادیا ہے۔

ملزمان کے وکلا کی عینی شاہد کے بیان پر جرح مکمل ہونے کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت نے 3 اپریل تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ کو بیان کیلیے نوٹس جاری کردیئے۔

واضح رہے گیارہ ستمبر2012کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتشزدگی کا خوفناک واقعہ پیش آیا تھا ، جس کے نتیجے میں خواتین سمیت دو سو ساٹھ مزدور زندہ جل گئے تھے، بعد میں انکشاف ہوا تھا کہ ایک سیاسی جماعت نے بھتہ نہ ملنے پر فیکٹری کو آگ لگائی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں