site
stats
عالمی خبریں

کرپشن سامنے لانے پر اذیت دی جارہی ہے، بھارتی فوجی کی نئی ویڈیو

نئی دہلی: بارڈر سیکیورٹی فورس میں ناقص کھانے کی ویڈیو سامنے لانے والے بھارتی اہلکار تیج بہادر کی نئی ویڈیو سامنے آگئی، اہلکار کا کہنا ہے کہ کرپشن سامنے لانے پر اسے ذہنی اذیت دی جارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں مودی سرکار کے راج میں کرپشن سامنا لانا جرم بن گیا، بھارتی فوج میں کرپشن بے نقاب کرنے والے فوجی اہلکار کی زندگی اجیرن کردی گئی۔


یہ پڑھیں: بھارتی فوجی نے ویڈیو جاری کرکے اپنی فوج کو بے نقاب کردیا


کرپشن کی ویڈیو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے والا بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس کا اہلکار تیج بہادر ذہنی اذیت ملنے پر انصاف کے لیے دہائیاں دینے پر مجبور ہوگیا۔


اہلکار نے ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ کہتا دکھائی دے رہا ہے کہ جو بھی ہے سب کا خانہ دکھایا تھا وہ سب کچھ سچ تھا لیکن کسی کے خلاف کارروائی کے بجائے مجھے ہی ذہنی اذیت دی جارہی ہے۔

تیج بہادر نے عوام کو مخاطب کیا کہ وہ وزیراعظم نریندری سے سوال کریں کہ کیا ناقص کھانے کی ویڈیو سامنے لانا اور کرپشن بے نقاب کرنا جرم ہے؟ کرپشن دکھانے کا مجھے یہی صلہ ملا؟ بار بار مجھے ٹارچر کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ تیج بہادر نے بارڈر پر موجود بی ایس ایف اہلکاروں کو ناقص کھانا دیے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی جس کی پاداش میں پہلے اسے غائب کردیا گیا بعدا زاں ا س کے خلاف کارروائی کی گئی، اطلاعات ملیں کہ اسے پلمبر بنا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: فوجی نہ ہوتا توخود کشی کرلیتا، ایک اوربھارتی اہلکارکی ویڈیوجاری

تیج بہادر کو دیکھ کر مزید دو فوجی اور ایک پولیس اہلکار اٹھ کھڑے ہوئے ایک فوجی اہلکار نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جس میں کہا گیا کہ اگر وہ فوجی نہ ہوتا تو خود کشی کرلیتا جب کہ دوسرے نے اپنے افسران کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ فوج کے ذمہ دار اعلیٰ افسران اپنے اہل کاروں سے گدھے جیسا سلوک کرتے ہیں، ان کا جوانوں کے اوپر کوئی دھیان نہیں۔

اسی سے متعلق: بھارتی فوج پر تو میڈیا بھی ہاتھ نہیں ڈالتا،ایک اور اہلکار کی ویڈیو وائرل

 پے درپے تین ویڈیو سامنے آکے کے بعد بھارتی آرمی چیف نے نوٹس لیتے ہوئے اہلکاروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ سوشل میڈیا کو شکایات سامنے لانے کے لیے استعمال نہ کریں تاہم اس کے باوجود یہ سلسلہ کسی نہ کسی طرح جاری رہا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top