بھارتی فوج پر تو میڈیا بھی ہاتھ نہیں ڈالتا،ایک اور فوجی کی ویڈیو وائرل ARYNews.tv
The news is by your side.

Advertisement

بھارتی فوج پر تو میڈیا بھی ہاتھ نہیں ڈالتا،ایک اور اہلکار کی ویڈیو وائرل

نئی دہلی: مودی سرکار اور بھارتی فوج کو اپنے ہی اہلکاروں کی شدید تنقید کا سامنا ہے، فوجی میں جاری ظلم اور کرپشن کے خلاف ایک کے بعد ایک اہلکار کی فوٹیج سامنے آرہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں فوجی اہلکار اپنی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہولتوں اور افسران کے ناروا سلوک کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، آرمی چیف کی جانب سے سوشل میڈیا پر شکایت بھری ویڈیوز اپ لوڈ نہ کرنے کے حکم کے باوجود ایک اور فوجی نے اپنی فوٹیج انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کردی جو فورا ہی وائرل ہوگئی۔

بھارتی آرمی چیف کی دھمکیاں بے اثر بھارتی فوجیوں نے شکایت سامنے لانے کا انداز بدل لیا

تیسرے فوجی اہلکار نے اپنے افسران کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کے ذمہ دار اعلیٰ افسران اپنے اہل کاروں سے گدھے جیسا سلوک کرتے ہیں، ان کا جوانوں کے اوپر کوئی دھیان نہیں۔

مودی سرکاری پر تنقید کرتےہوئے اہل کار کا کہنا تھا کہ سرکار افسروں کی چور بازاری ختم کرانے میں ناکام ہے، فوج میں غدار اور چور بھرتی ہوگئے ہیں،فوج کے اندر چوری بہت ہورہی ہے، کالا دھن تو بند ہوگیا لیکن کالی چور بازاری کوئی نہیں بند کراسکتا۔

یہ پڑھیں: فوجی نہ ہوتا توخود کشی کرلیتا، ایک اوربھارتی اہلکارکی ویڈیوجاری

انہوں نے کہا کہ فوجی کی چوری کا آسانی سے نہیں پتا چلتا، اس لیے کہ عام آدمی اور میڈیا بھی ان پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کرتا ہے ، یہ لوگ بہت چور اور بہت تیز ہیں میں بہت اندر کی بات بتارہا ہوں۔

اسی سے متعلق: بھارتی آرمی چیف نے فوجیوں کے لیے سوشل میڈیا کوممنوع قرار دے دیا

پے درپے تیسرے ویڈیو سامنے آنے کے بعد فوج میں ہلچل مچ گئی ہے۔قبل ازیں دو فوجی اور ایک پولیس اہلکار شکایتی فوٹیج انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرچکے ہیں۔

اس سلسلے کا آغاز سرحد پر تعینات تیج بہادر نامی فوجی کی ویڈیو سے ہوا تھا جس نے کرپشن اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے دکھایا تھا کہ اسے کھانے کو جلی ہوئی روٹی اور خراب راشن ملتا ہے کبھی کبھی تو وہ بھی نہیں۔

یہ ضرور پڑھیں: بھارتی فوجی نے ویڈیو جاری کرکے اپنی فوج کو بے نقاب کردیا

بعدازاں ایک اور فوجی نے ویڈیو اپ لوڈ کی، پھر ایک پولیس اہلکار نے بھی ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور اب اس فوج نے ویڈیو نیٹ اپ لوڈ کی ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں