The news is by your side.

Advertisement

کرونا وبا کے خلاف ایک اور بڑی کامیابی مل گئی

کرونا وبا کے خلاف ایک اور پیش رفت، سائنسدانوں نے کووڈ اور اس کی اقسام کے خلاف نئی اینٹی باڈی شناخت کرلی۔

کرونا وبا کے آغاز سے ہی طبی ماہرین کی جانب سے مسلسل تحقیق جاری ہے، ان تحقیقات کے حوصلہ افزا نتائج آئے روز خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں، اب طبی ماہرین ایک ایسی اینٹی باڈی کو شناخت کرنے میں کامیاب ہوئے جو کرونا وائرس اور اس کی مختلف اقسام سے ہونے والی بیماری کی شدت کو محدود رکھ سکتی ہے۔

امریکا کی ڈیوک یونیورسٹی اور نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی کے ماہرین نے اس اینٹی باڈی کو شناخت کیا اور اس کی آزمائش جانوروں پر کی اور اب اس تحقیق کے نتائج جاری کئے۔

محققین پُر امید ہے کہ اینٹی باڈی کے باعث موجودہ وبا کے دوران اس بیماری کا علاج ہوسکتا ہے اور یہ مستقبل کی وباؤں کے لیے بھی کارآمد ہوسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کووڈ 19 سے بچانے والی اینٹی باڈیز کب تک برقرار رہتی ہیں؟

تحقیقی ٹیم نے یہ اینٹی باڈی دو ایسے مریضوں کے خون کے تجزیے کے دوران شناخت کی تھی جن میں سے ایک 2000 کی دہائی میں سارس کوو 1 وائرس سے متاثر ہوا تھا اور دوسرا اب کووڈ 19 کا شکار ہوا۔

ان دونوں مریضوں میں موجود 17 سو اینٹی باڈیز میں سے محققین نے 50 اینٹی باڈیز کو دریافت کیا جو سارس کوو 1 اور سارس کوو 2 وائرسز کو جکڑ سکتی ہیں۔

مزید تجزیے سے دریافت ہوا کہ ان سب میں سے ایک اینٹی باڈی انسانوں میں پائے جانے والے کرونا وائرسز کے ساتھ ساتھ جانوروں میں موجود متعدد کرونا وائرسز کو جکڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

محققین نے بتایا کہ یہ اینٹی باڈی کورونا وائرس کو ایسے مقام پر جکڑتی ہے جو متعدد میوٹیشنز اور اقسام کی گزرگاہ ہے۔

جانوروں پر اس اینٹی باڈی پر آزمائش کے دوران دیکھا گیا کہ یہ مؤثر طریقے سے بیماری کو بلاک کرسکتی ہے یا بیماری کے اثر کو کم کر سکتی ہے۔

انہوں نے دریافت کیا کہ یہ اینٹی باڈی دونوں ایسا کرسکتی ہے، یعنی جب جانوروں کو بیمار ہونے والے یہ اینٹی باڈی دی گئی تو اس سے انہیں کووڈ کی مختلف اقسام سے تحفظ ملا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس دریافت سے یونیورسل ویکسین کی تیاری میں مدد مل سکے گی، اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسین میں شائع ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں