The news is by your side.

Advertisement

عراق میں ایک اور اجتماعی قبر دریافت، سینکڑوں افراد کی باقیات برآمد

بغداد : عراق میں ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے جس میں سے 643 افراد کی باقیات برآمد ہوئی ہیں جو سنہ 2019 سے لاپتہ تھے۔

تفصیلات کے مطابق عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے اور اس میں سے 643 شہریوں کی باقیات برآمد ہوئی ہیں، یہ اجتماعی قبر الانبار کے شہر فلوجہ سے پانچ کلومیٹر دور علاقے سے ملی ہے۔

مقامی خبر رساں اداروں و حکومتی ارکان کا خیال ہے کہ صقلویہ سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو موت کی نیند سلا کر ایک بڑے گڑھے میں اتار دیا گیا تھا۔

عراق کے ایک سرکاری ذرائع نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ یہ تمام مقتولین المحمدہ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، وہ 2016ء سے لاپتا تھے اور تب سے ان کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں گئے ہیں۔

عرب خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اس سال عراقی سکیورٹی فورسز اور ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی نے فلوجہ اور اس کے نواحی علاقوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کرایا تھا مگر جس جگہ اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے، وہاں داعش کا کنٹرول نہیں تھا۔

الانبار کے صوبائی دارالحکومت الرمادی میں محکمہ فورینزک میڈیسن کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اجتماعی قبر سے انسانی کھوپڑیاں، ہڈیاں، سادہ کپڑے، بچّوں کی چیزیں اور ہتھکڑیاں ملی ہیں، جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ اس جگہ ان لوگوں کا بے دردی سے قتلِ عام کیا گیا تھا۔

یہ اجتماعی قبر فلوجہ اور بغداد کے درمیان واقع شاہراہ کے نزدیک سے دریافت ہوئی ہے، یہ جگہ فلوجہ کے جنوب مغرب کی جانب جانے والی شاہراہ کے زیادہ نزدیک ہے۔

عراقی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ علاقہ الحشدالشعبی کے کنٹرول میں تھا اور داعش کے جنگجو یہاں نہیں پہنچے تھے۔اس سے اس شُبے کو تقویت ملتی ہے کہ الحشد الشعبی کے جنگجوؤں نے نسلی اور فرقہ وار بنیاد پر المحمدہ قبیلے کے لوگوں کی نسلی تطہیر کی تھی۔

واضح رہے کہ شمالی علاقے ہویجا سے 400 افراد کی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں جنہیں مبینہ طور انتہا پسند تنظیم داعش کے شدت پسندوں نے قتل کر کے اجتماعی قبر میں دفن کردیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں