The news is by your side.

Advertisement

خبردار! یہ عام تکلیف کرونا وائرس کا اشارہ ہوسکتی ہے

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آشوب چشم بھی کرونا وائرس کی علامت ہوسکتی ہے لہٰذا اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے فوراً دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

امریکن اکیڈمی آف اوفتھلمولوجی کا کہنا ہے کہ کسی شخص میں آشوب چشم ہونا کرونا وائرس کا اشارہ ہوسکتا ہے، اس سے قبل بھی چند پورٹس میں کہا گیا تھا کہ آشوب چشم کا عارضہ کووڈ 19 کی علامت ہوسکتا ہے۔

تحقیقی جریدے جرنل آف وائرلوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے لیے چین کے 30 مریضوں کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد دریافت کیا گیا تھا کہ ایک مریض کو آشوب چشم کا سامنا تھا جبکہ دیگر 29 افراد میں کرونا وائرس آنکھوں کی رطوبت میں دریافت کیا گیا۔

علاوہ ازیں واشنگٹن میں کام کرنے والی ایک نرس کا حوالہ بھی دیا گیا جس نے بتایا تھا کہ اس نے کرونا وائرس کے بزرگ مریضوں میں آشوب چشم یا آنکھوں کی سرخی دیکھی۔

کرونا وائرس آنکھوں کے راستے جسم میں داخل ہوسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے اس سے بچنے کے لیے ناک، منہ اور آنکھوں کو نہ چھونے کی احتیاطی تجویز دی ہے۔

ڈاکٹرز نے فی الوقت کانٹیکٹ لینس استعمال نہ کرنے اور اس کی جگہ چشمے استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

اس سے قبل سونگھنے اور ذائقے کی حس ختم ہوجانے کو بھی کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی علامت کہا گیا تھا۔ برٹش ایسوسی ایشن آف اوٹرہینولرینگولوجی کے ماہرین نے کہا تھا کہ اگر آپ کی ذائقے اور سونگھنے کی حس کم یا ختم ہو گئی ہے تو غالب امکان ہے کہ آپ کے جسم میں کرونا وائرس پہنچ چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق سونگھنے کی صلاحیت یا زبان سے ذائقہ ختم ہونے کے بعد کسی بھی وقت متاثرہ شخص کو بخار اور کھانسی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں