The news is by your side.

Advertisement

حجاب مخالف عدالتی فیصلہ، بھارت میں کل ہڑتال کا اعلان

کرناٹک ہائی کورٹ کے حجاب پابندی سے متعلق متنازعہ عدالتی فیصلے کیخلاف مسلم تنظیموں نے کل کرناٹک میں شٹربند ہڑتال کی اپیل کی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کرناٹک ہائی کورٹ کے حجاب سے متعلق متنازع عدالتی فیصلے کیخلاف مختلف ریاستی مسلم تنظمیوں نے کل کرناٹک بند رکھنے کی اپیل کی ہے۔

امارت شریعہ کرناٹک جو کہ کرناٹک میں تمام مسلم تنظیموں کا سربراہ مانا جاتا ہے اس کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ حجاب پابندی کیخلاف دائر درخواست پر کرناٹک ہائیکورٹ کے حالیہ افسوسناک فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کیخلاف ہم تمام علما تنظیمیں، ملی فلاحی ادارے، خواتین تنظیمیں، ذمے داران مساجد وعمائدین ملت اور وکلا کل جمعرات کو پوری ریاست کرناٹک ایک دن کیلیے پرامن بند رکھنے کا اعلان کرتے ہیں۔

جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جملہ مسلمان ملازمین، تاجر، مزدور، طلبہ وطالبات اور ہر طبقہ اس ہڑتال میں شریک ہوکر اس کو کامیاب بنائے اور اس کے ذریعے حکومت کو باور کرائے کہ ہمارے اس ملک میں مذہب پر عمل کرتے ہوئے تعلیم حاصل کرنا ممکن ہے۔ انصاف پسند برادران وطن سے بھی اس بند میں شامل ہونے کی گزارش ہے۔

بیان میں یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ ملت اسلامیہ ازخود اپنے طور پر اس شٹربند ہڑتال کا اہتمام کرے، نوجوانوں سے گزارش ہے کہ زبردستی دکانیں اور کاروبار بند کرانے، جلوس نکالنے یا نعرے لگانے سے مکمل اجتناب کریں کیونکہ یہ ہڑتال متنازعہ عدالتی فیصلے کیخلاف خاموش اظہار ناراضگی ہے۔

اس اپیل میں امارت شرعیہ کرناٹک، جمعیۃ العلما کرناٹک، جماعت اسلامی ہند، جمعیت اہلحدیث، جماعت اہلسنت کرناٹک، جامعہ حضرت بلا اہلسنت والجماعت، انجمن امامیہ، کرنانکا مسلم متحدہ محاذ، پاپولر فرنٹ آف انڈیا، آل انڈیا ملی کسل، اڈوپی ضلع مسلم وکوٹا، گریس اسلامک آرگنائزیشن آف کرناٹکا، فاردرڈ ٹرسٹ شامل ہیں۔

دوسری جانب جمعیت علما ہند مولانا ارشد مدنی نے کرناٹک ہائی کورٹ کے حجاب سے متعلق دیے گئے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورٹ کا فیصلہ حجاب کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات اور شرعی حکم کے مطابق نہیں ہے، جو احکام فرض یا واجب ہوتے ہیں وہ ضروری ہوتے ہیں، ان کی خلاف ورزی کرنا گناہ ہے۔ اس لحاظ سے حجاب ایک ضروری حکم ہے۔ اگر کوئی اس پر عمل نہ کرے تو اسلام سے خارج نہیں ہوتاہے لیکن وہ گنہگار ہوکر اللہ کے عذاب اور جہنم کا مستحق ہوتا ہے ضرور ہوتا ہے۔ اس وجہ سے یہ کہنا پردہ اسلام کا لازمی جزو نہیں ہے شرعاْغلط ہے، یہ لوگ ضروری کا مطلب یہ سمجھ رہے ہیں کہ جو آدمی اس کا حکم نہیں مانے گا، وہ اسلام سے خارج ہوجائے گا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اگر واجب اور فرض ہے تو ضروری ہے اس کے نہ کرنے پر کل قیامت کے دن اللہ کے عذاب کا مستحق ہوگا۔

واضح رہے کہ کرناٹک کی عدالت نے حجاب سے متعلق متنازع فیصلہ دیا جس پر بھارت سمیت دنیا بھر میں مسلمانوں نے آواز اٹھائی۔

مزید پڑھیں: بھارتی عدالت کا متنازع فیصلہ ‘حجاب اسلام کا جزو نہیں’

عدالت نے تشریح کی کہ اسلام میں خواتین کا حجاب پہننا لازمی نہیں ہے لہذا اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی برقرار رہے گی۔

کرناٹک ہائی کورٹ نے متنازع فیصلے میں کہا کہ یونیفارم کی پابندی ضروری ہے جس پر طلباء اعتراض نہیں کرسکتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں