The news is by your side.

Advertisement

اے پی ایم ایس او کے یومِ تاسیس پر دو مختلف تقاریب

’آل پاکستان متحدہ آرگنائزیشن واحد تنظیم ہے، جس نے سیاسی جماعت کو جنم دیا کیونکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے قیام کے بعد اُن کے طلبہ ونگ بنتے ہیں‘۔

کراچی یونیورسٹی میں داخلہ اور دیگر پالیسیوں کے خلاف 11 جون 1978 میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نام سے ایک طلبہ تنظیم کے قیام کا اعلان کیا گیا، جس کا آج 43واں یومِ تاسیس منایا گیا ہے۔ (بعد ازاں اس تنظیم کو آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن) کے نام سے تبدیل کیا گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے دو دھڑوں نے اے پی ایم ایس او کے 43ویں یومِ تاسیس کی مناسبت سے علیحدہ علیحدہ پروگراموں کا انعقاد کیا۔

ایم کیو ایم پاکستان نے عارضی مرکز بہادرآباد سے متصل پارک جبکہ متحدہ تنظیم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے پی آئی بی میں پروگرام کیا۔

اے پی ایم ایس او کے یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’بانیان پاکستان نے ہمیشہ قربانیاں دیں، نوجوان نسل نے گیارہ جون کو انقلابی دن بنایا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اے پی ایم ایس او واحد تنظیم ہے، جس نےسیاسی پارٹی کوجنم دیا کیونکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے بننےکے بعد ان کےطلبہ ونگ بنے ہیں، یہ تحریک کراچی میں قائم ہوئی، جس سے آج تجدیدِ عہد کا دن ہے، ہم اپنے آباؤ اجداد کا ملک بچانے کے لیے نکلے ہیں‘۔

فیصل سبزواری کا خطاب

ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے ممبر سینیٹر فیصل سبزواری نے  کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’پیپلزپارٹی 13سال سے صوبے میں سندھودیش کی تحریک چلارہی ہے، جعلی ڈو میسائل بناکر مقامی نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں سے محروم کیا گیا، ہم اس ڈاکے پر بھرپور احتجاج کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’مردم شماری کے لیے 5ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کا سہرا ایم کیو ایم کو جاتا ہے کیونکہ ہم نے اس پر آواز اٹھائی اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے‘۔

اتحاد کا شوق ہے وہ آجائے، ہمارے دروازے کھلے ہیں، خالد مقبول صدیقی

ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر اور رکن قومی اسمبلی خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ’ہم ارادی اور اختیاری پاکستانی تھے مگر اب اختیاری سندھی بنا دیا گیا ہے، کراچی قائداعظم کا بنایاہوا دارلخلافہ تھا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ اصل ایم کیوایم یہی ہے باقی سب مصنوعی ہیں، جس کو اتحاد کا شوق ہے وہ آجائے، ہمارے دروازے کھلے ہیں، جومشکل وقت میں چھوڑکرگیا وہ عہدے پرکیسے واپس آسکتاہے؟‘۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے  15 جون کو سندھ حکومت کے خلاف عوامی ریلی نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’پندرہ جون کو کراچی نکلے گا،  ہم بتائیں گے کہ یہ شہر کسی ایک کا نہیں بلکہ سب کا ہے’۔

Comments

یہ بھی پڑھیں