The news is by your side.

Advertisement

"ایمرجنسی کال فرام اسپیس….”

چاند پر اترنے کی خواہش میں‌ خلائی سفر کرنے والے تین افراد کی زندگیاں‌ داؤ پر لگ گئی تھیں۔

یہ 14 اپریل 1970 کی بات ہے، جب خلائی جہاز ’اپالو تیرہ‘ سے زمین پر پیغام آیا کہ آکسیجن ٹینک پھٹ گیا ہے۔

یہ پیغام جہاز میں موجود خلا نورد جیمز لوول نے ٹیکساس میں قائم ناسا کے مرکزی دفتر کو بھیجا تھا۔

اس نے کہا تھا،’’ہیوسٹن ، ہمیں مسئلہ پیش آ گیا ہے۔‘‘خوش قسمتی سے خلا نورد وہ خرابی دور کرنے میں‌ کام یاب رہے اور اپنے مشن سے زمین پر زندہ لوٹ آئے۔

چاند پر اترنے اور دنیا پر اپنی برتری جتانے کی امریکی کوششیں دہائیوں‌ پر محیط ہیں۔ امریکی سائنس دانوں‌ اور ماہرین نے اپالو تیرہ کو جب اس مہم پر روانہ کیا تو ایسا نہیں‌ تھا کہ وہ ہر لحاظ محفوظ تھا، یا ماہرین کی ٹیم اور خود خلا نوردوں کو یہ خوف نہیں‌ ستاتا کہ ان کے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے وہ زندہ نہ لوٹ سکیں۔ کسی وجہ سے ان کی خلائی گاڑی کو حادثہ بھی پیش آسکتا ہے، مگر نادیدہ فضاؤں، ان دیکھی دنیاؤں کا تجسس انسان کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ زمین سے لاکھوں‌ میل دور، خلا میں‌۔

ہالی وڈ میں‌ یوں تو خلائی مہمات سے متعلق متعدد فلمیں بنائی گئی ہیں، لیکن یہاں‌ہم اس فلم کا تذکرہ کررہے ہیں‌ جو اپالو 13 کو پیش آنے والے حادثے سے متاثر ہوکر بنائی گئی تھی۔

اس فلم کا نام تھا، "اپالو تیرہ: ایمرجنسی کال فرام اسپیس”

یہ فلم 1995 میں سنیما پر پیش کی گئی۔ اس میں مرکزی کردار مشہور اداکار ٹام ہینکس نے نبھایا تھا۔ فلم شائقین نے پسند کی اور یہ اس حادثے کی یادگار بن گئی۔

اس فلم کی تیاری میں خلا بازوں اور سائنس دانوں‌ نے بھی معاونت کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں