The news is by your side.

Advertisement

اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس، وزیراعظم کا ان کے خاندان سمیت احتساب کا مطالبہ

اسلام آباد : پاناما لیکس کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم نوازشریف سے پانامہ لیکس کی تفتیش تک عہدے سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا ہے،مشترکہ ٹی او آرزکی تیاری کیلئے 9رکنی کمیٹی کا اجلاس کل دوبارہ طلب کر لیا گیاہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے اپوزیشن جماعتوں کا مشاورتی اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ پاناما لیکس معاملے پر احتساب کا آغاز وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان سے ہونا چاہیئے.

پیپلزپارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس میں پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، ایم کیوایم، مسلم لیگ (ق) ، اے این پی، جماعت اسلامی اوردیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس میں پیپلزپارٹی کی جانب سے ٹی او آرز پرمسودے کو اجلاس میں پیش کیا گیا جسے چوہدری اعتزاز احسن نے تیار کیا تھا۔

اعلامئے میں کہاگیا ہے کہ حکومتی ٹی او آر ز موجودہ شکل میں ناقابل قبول ہیں ،پاناما لیکس میں جتنے نام آئے ہیں سب کا احتساب ہو نا چاہیئے لیکن احتساب کا آغاز وزیراعظم اور ان کے خاندان سے ہونا چاہیے ،پاناما لیکس پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے اور ضروری قانون سازی اپوزیشن کی مشاور ت سے کی جائے ۔

اجلاس میں تمام جماعتوں کی جانب سے اپنے اپنے ٹی او آرز پیش کیے گئے جن پر بحث کی گئی جس کے بعد تمام اپوزیشن جماعتوں نے پاناما لیکس کمیشن پر حکومتی ٹی او آرز مسترد کردیئے تاہم اپوزیشن جماعتوں کے درمیان وزیراعظم کے استعفے کے معاملے پر اتفاق نہ ہوسکا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم پہلے استعفیٰ دیں یا تحقیقات کے بعد اس پر بھی اتفاق نہیں ہو سکاہے،کچھ نکات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث ٹی او آر کمیٹی کا اجلاس کل دوبارہ طلب کر لیا گیاہے جس میں پانامالیکس پر جوڈیشل کمیشن کے مشترکہ ٹی او آر کو حتمی شکل دی جائے گی۔

اجلاس میں پیپلزپارٹی کی جانب سے خورشید شاہ، شیری رحمان، قمر زمان کائرہ نوید قمر شامل تھے جب کہ تحریک انصاف کی جانب سے اجلاس میں شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، شیریں مزاری اور عارف علوی نے اجلاس میں شرکت کی۔

مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حسین سید، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید، آفتاب خان شیر پاؤ جب کہ ایم کیوایم کے خالد مقبول صدیقی اجلاس میں شریک تھے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں