The news is by your side.

Advertisement

ایپل کے ملازمین کا دفتر سے کام سے انکار

کیلیفورنیا: کرونا وبا کے باعث لاک ڈاؤن میں ورک فراہم ہوم کے عادی ایپل کے ملازمین نے دفتر سے کام سے انکار کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک نئی مشکل کا شکار ہو گئی ہے، ملازمین لاک ڈاؤن کے دوران گھر سے کام کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اب وہ دفاتر میں کام کے لیے تیار نہیں ہو رہے، اور اس حوالے سے مزاحمت کر رہے ہیں۔

دنیا بھر میں کرونا وبا پر قابو پائے جانے اور وسیع پیمانے پر ویکسینیشن کے بعد پابندیاں نرم کی جا چکی ہیں، تاہم ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’دی ورج‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیگر کمپنیوں کی طرح آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل کو بھی آفسز دوبارہ کھولنے کے سلسلے میں دشواری کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کمپنی کی جانب سے ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ ستمبر سے وہ تین روز آفس سے کام کریں گے، تاہم کمپنی کے 80 فی صد ملازمین نے ایک خط پر دستخط کر کے مزید نرمی کی درخواست کی ہے۔

ایپل کے سی ای او ٹم کک نے گزشتہ ہفتے ملازمین کو ایک ای میل میں ریٹرن ٹو آفس پالیسی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملازمین کو پیر، منگل اور جمعرات کو دفاتر جب کہ بدھ اور جمعہ کو گھر سے کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

تاہم ملازمین کا مؤقف ہے کہ کمپنی کی ورک پالیسی کی وجہ سے کئی ملازمین پہلے ہی ادارہ چھوڑ چکے ہیں، ورک فرام ہوم کی پالیسی ہی بہتر ہے، نہ صرف وبا سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ ملازمین زندگی اور ملازمت میں توازن بھی رکھ پا رہے ہیں۔

ملازمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ وہ پہلے بھی دنیا بھر میں موجود اپنے ساتھیوں سے بہتر طور پر جڑے ہوئے تھے تاہم اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں