application against panama hiring in supreme court
The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ: پاناما لیکس کی کاروائی روکنے کی درخواست دائر

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کی کاروائی روکنے کے لیے درخواست دائر کردی گئی، درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر پارلیمنٹ قانون سازی کررہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کی کاروائی روکنے کے لیے درخواست دائر کردی گئی، وطن پارٹی کے بیرسٹر ظفراللہ خان کی جانب سے درخواست دائرکی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کی کارروائی روکی جائے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ پاناما لیکس کا کیس نہیں سن سکتی، سپریم کورٹ کے پاس پاناما لیکس پر کاrروائی کا اختیار نہیں۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر پارلیمنٹ قانون سازی کررہی ہے، سپریم کورٹ نہ تو قانونی جواز رکھتی ہے، اور نہ ہی ٹی او آرز بناسکتی ہے، عدالت سیاسی و انتظامی امور میں داخل اندازی نہیں کرسکتی، استدعا کی ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پہ سپریم کورٹ میں جاری کاروائی کو روکتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے۔


مزید پڑھیں : پانامہ کیس ، وزیراعظم کے بچوں کو پیر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت


یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت جاری ہے، گزشتہ سماعت میں وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جواب داخل کرایا گیا تھا، جواب میں کہا گیا تھا کہ وہ لندن فلیٹس،آف شورکمپنیوں اور دیگر جائیدادوں کے مالک نہیں، ٹیکس قانون کے مطابق اداکرتے ہیں، بچے میرے زیرکفالت نہیں اور سال 2013ء میں تمام اثاثوں کا اعلان کرچکے ہیں۔

دوسری جانب عدالت نے مریم نواز اور دیگر کو پیر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کر رکھی ہے، عدالت کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق اگرجواب جمع نہ کرایا تو الزامات تسلیم کرلیں گے۔

اس سے قبل سماعت میں سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات اور وزیراعظم کی نااہلی کے لیے دی گئی درخواستوں پر سماعت میں نواز شریف اور اُن کے اہل خانہ کو 2 روز میں جواب طلب کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ فریقین سے ٹی او آر اور کمیشن کی تجویز سے متعلق حتمی جواب 3 نومبر تک تحریری طور پر طلب کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف،جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں