سانحہ آرمی پبلک اسکول، جسٹس محمدابراہیم تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ مقرر
The news is by your side.

Advertisement

سانحہ آرمی پبلک اسکول، جسٹس محمدابراہیم تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ مقرر

پشاور :  جسٹس محمدابراہیم کو سانحہ آرمی پبلک اسکول تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کردیا گیا، وہ پشاور ہائی کورٹ کے سینئرجج ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر سانحہ آرمی پبلک اسکول کی تحقیقات کے لئے جسٹس محمدابراہیم کو تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کردیا گیا، جسٹس محمد ابراہیم خان پشاور ہائی کورٹ کے سینئر جج ہیں۔

یاد 5 اکتوبر کو چیف جسٹس سپریم کورٹ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول کی تحقیقات کیلئے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو فوری طور پر کمیشن قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل کمیشن کو چھ ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا یہ آرڈر ہم نے پہلے کیا تھا لیکن عمل نہیں ہوسکا ہم شر مندہ ہیں، پشاورمیں حالات کچھ ایسے ہوگئے تھے کہ کمیشن قائم نہیں ہوسکا۔

مزید پڑھیں : سپریم کورٹ کا سانحہ اے پی ایس کی تحقیقات کیلئے فوری طور پر کمیشن قائم کرنے کا حکم

دوسری جانب شہید بچوں کے والدین کا کہنا ہے سپریم کورٹ سے انصاف کی امید ہے ، چیف جسٹس نے کمیشن بھی بنا دیا ہے اور وہ 16 اکتوبر کو شہدا کے والدین سے اسکول میں ملاقات کریں گے۔

یاد رہے 28 ستمبر کو سپریم کورٹ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخود نوٹس کیس سماعت کے لئے مقرر کیا تھا اور اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل کے پی اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کئے تھے۔

خیال رہے چیف جسٹس نے دورہ پشاور میں اے پی ایس سانحے کے لواحقین سے ملاقات میں نوٹس لیا تھا اور دہشت گردی کے واقعے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور آرمی پبلک اسکول میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی، دہشت گردوں نےعلم کے پروانوں کے بے گناہ لہو سے وحشت و بربریت کی نئی تاریخ رقم کی تھی۔

آرمی پبلک اسکول میں ہونے والے دردناک سانحے اور دہشت گردی کے سفاک حملے میں 147 افراد شہید ہوگئے تھے، جن میں زیادہ تعداد معصوم بچوں کی تھی۔

پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے حملے کے بعد پاکستان میں سزائے موت کے قیدیوں کی سزا پر عمل درآمد پر سات سال سے عائد غیراعلانیہ پابندی ختم کر دی گئی تھی۔

جس کے بعد آرمی پبلک اسکول حملے میں ملوث کچھ مجرمان کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جاچکا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں