The news is by your side.

Advertisement

سانحہ اے پی ایس: طالب علم احمد نواز کا دیرینہ خواب پورا ہوگیا

لندن: سانحہ اے پی ایس میں دہشت گردوں اور موت کو شکست دینے والے طالب علم احمد نواز کا دیرینہ خواب پورا ہوگیا۔

احمد نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنا پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں دنیا کی نامور یونیورسٹی آکسفورڈ میں داخلہ مل گیا ہے۔

اپنے ٹویٹ میں احمد نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’پانچ برس قبل دہشت گردوں نے مجھے نشانہ بنایا اور میرے اسکول پر اس وجہ سے حملہ کیا کہ ہم تعلیم حاصل کرنے سے باز آجائیں‘۔

انہوں نے لکھا کہ ’آج مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے کہ مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا ہے جہاں اب میں مزید تعلیم کا سلسلہ جاری رکھوں‌ گا‘۔

انہوں مزید لکھا کہ ’جو آپ کی سوچ اور منزل ہوتی ہے اُسی حساب سے آپ کو راستہ بھی مل جاتا ہے‘۔

یاد رہے کہ دو برس قبل نومبر میں احمد نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا تھا کہ انھیں کولمبو میں ساؤتھ ایشیا یوتھ سمٹ میں ایشین انسپریشن ایوارڈ سے نوازا جائے گا‘۔

ایوارڈ دینے کی تقریب کا انعقاد 30 نومبر کو کولمبو میں ہوا جس میں احمد نواز کو امن کے فروغ اور نوجوانوں کوبا اختیار بنانے پر اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

اس سے قبل طالب علم احمد نواز نے برطانوی امتحانات میں اعلیٰ کارکردگی دکھاتے ہوئے پوزیشن حاصل کی تھی ، احمد نے جی سی ایس ای امتحان میں 6 مضامین میں اے سٹارحاصل کئے اور 2مضامین میں اے گریڈ حاصل کیا تھا۔

بعد ازاں اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں میزبان ماریہ میمن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے احمد نواز نے بتایا تھا ’میری کامیابی کا سہرا والدین اور خیرخواہوں کے سر جاتا ہے، میرا خواب ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کروں، سانحے کے بعد حوصلہ بڑھانے والوں نے بھی ہمت دی، ہمت بڑھانے والوں خاص طور پر ڈی جی ایس پی آر کا شکریہ ادا کرتا ہوں‘۔

احمد نواز کا مزید کہنا تھا کہ سانحہ اے پی ایس ہم سب کے لیے ایسا واقعہ ہے جسے کوئی بھی فراموش نہیں کرسکتا، لیکن ہمیں آگے بڑھناہے اور یہ ثابت کرنا ہے کہ مشکلات کے باوجود ہم ہمت ہارنے والے نہیں ہیں۔

واضح رہے 16 دسمبر 2014 کو پشاور آرمی پبلک اسکول میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی، دہشت گردوں نےعلم کے پروانوں کے بے گناہ لہو سے وحشت و بربریت کی نئی تاریخ رقم کی تھی اور دردناک سانحے اور دہشت گردی کے سفاک حملے میں 147 افراد شہید ہوگئے تھے، جس میں 132 بچے بھی شامل تھے۔

سانحہ اے پی ایس پشاور میں زخمی ہونے والے طالب علم احمد نواز کو حکومت نے سرکاری خرچ پر 2015 میں علاج کے لیے برطانیہ بھیجا تھا جہاں اُن کا علاج کوئین الزبتھ اسپتال میں ہوا، برطانوی ڈاکٹرز نے احمد نواز کا علاج کیا جس کے بعد وہ صحت مند زندگی کی طرف لوٹے اور پھر لندن میں ہی تعلیم کا آغاز کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں