The news is by your side.

فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کے لیے سعودی عرب کا اہم قدم

نیویارک: مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عرب امن فارمولے پر 20 سال بعد ایک بار پھر گفتگو کا آغاز ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ’عرب امن عمل‘ کمیٹی کے رکن ممالک اور امن کی سرپرستی کرنے والے یورپی ممالک بدھ کو نیویارک میں گول میز اجلاس میں جمع ہوئے، تاکہ سعودی عرب کی جانب سے پیش کردہ ’عرب پیس انیشیٹو‘ کو بحال کیا جا سکے۔

سعودی عرب، یوریی یونین اور عرب لیگ نے بیس سال کے وقفے کے بعد فلسطین کاز اور علاقائی سلامتی کے لیے امن کی کوششوں کو نئے سرے سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ امن کی راہ میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک اہم قدم ہوگا۔

اجلاس میں قرار دیا گیا کہ فلسطین اسرائیل تنازع کے حل کے لیے سیاسی حالات سازگار نہیں تھے، جس کی وجہ سے انسانی حوالے سے ایک خطرناک صورت حال پیدا ہو گئی ہے، یہ صورت حال دو ریاستی حل کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ ناجائز یہودی بستیوں کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مسلسل اضافہ کسی بھی وقت تشدد کی بڑی لہر کو جنم دے سکتا ہے جو صرف فلسطینیوں کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہو گا۔

عرب امن عمل دراصل فلسطینی، عرب اور اسلامی مؤقف کے لیے ایک نقطہ آغاز ہے، اور یہ تنازعات کے خاتمے کے لیے کسی سیاسی حل کے امکانات کی عدم موجودگی میں بین الاقوامی شراکت داروں کے لیے بھی امن عمل کے کسی بھی حل کے لیے ایک ابتدائی بنیاد ہے۔

خیال رہے کہ وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس کے موقع پر کی۔ یہ ملاقات مملکت کی جانب سے عرب امن اقدام کے آغاز کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر ہوئی، جس کی میزبانی یورپی یونین کے نمائندہ اعلیٰ برائے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی جوزف بوریل نے کی۔

یاد رہے کہ ’’عرب پیس انیشیٹو‘‘2002 میں سعودی عرب کی طرف سے پیش کیا گیا تھا تاکہ اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان تنازع کا حل نکالا جا سکے۔ اس انیشیٹو کے مطابق عرب اقوام نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ’اگر اسرائیل 67 کی جنگ میں زیر قبضہ جانے والے عرب علاقوں کو خالی کر دے اور آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو جائے تو عرب اقوام اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو ٹھیک کر لیں گی۔‘

حالیہ اجلاس کے لیے سعودی عرب نے کوشش کی تھی، سعودی عرب کی زیر قیادت اور عرب لیگ کی حمایت سے یورپی یونین نے اس اجلاس کی میزبانی کی، اس کوشش کے نتیجے میں 25 ممالک اور تنظیمیں بشمول اقوام متحدہ، عرب لیگ اور او آئی سی امن کے عمل کے لیے ایک بار پھر متحرک ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں