The news is by your side.

عرب کی شاعری عرب کا دفتر ہے!

ایک مشہور مقولہ ہے کہ ’’الشعر دیوانُ العرب۔‘‘ یعنی عرب کی شاعری عرب کا دفتر ہے۔

دفتر کے لفظ سے یہ مراد ہے کہ اس میں عرب کا جغرافیہ، عرب کی تاریخ، عرب کا تمدن، عرب کا طریقہ معاشرت، عرب کے خیالات و توہمات، عرب کی ملکی اور قومی خصوصیات سب کچھ ہے۔ اگر کوئی شخص عرب کی شاعری کا مطالعہ کرے تو کوئی بات عرب اور اہل عرب کے متعلق ایسی نہیں ہے جو اس میں نہ مل سکے۔

جغرافی اشارے
عرب کی شاعری میں قدم قدم پر بہت سے مقامات کے نام آتے ہیں۔ مثلاً: یثرب، دمشق، بصرہ، قنسرین، مکہ، بعلبک، اندرین (شام) نجد، یمامہ، صنعا، طائف، حضر موت وغیرہ۔ سیکڑوں دیہات اور چھوٹی بستیاں ہیں جن کے نام شعرائے عرب کے کلام میں نظر آتے ہیں۔ مثلاً حزن، لوی، دکاوک، حومل، توضح، جدیس، عسجل، مصامہ، سلسلین، مقراۃ وغیرہ۔

بہت سے پہاڑوں کے نام بھی ان کے اشعاروں میں آتے ہیں۔ مثلاً اجاء، سلمیٰ۔ کویکب، لہیم، ستار، حایل، مجیمر، یذبل، بتیر، قطن، ثرم وغیرہ۔

عرب میں دریا نہیں ہیں مگر برساتی نالے اور چشمے بہت سے ہیں۔ ان کے نام بھی عرب کی شاعری میں جگہ جگہ آتے ہیں۔ مثلاً سجل، صفوان، بہیما، دارجلجل وغیرہ۔

بہت سی وادیوں اور جنگلوں کے نام بھی ہیں جو عربی اشعار میں ملتے ہیں۔ مثلاً غبیط کا جنگل، غمیر کاجنگل، وادی جواء، وادی بطحا وغیرہ۔

بہت سے رمنوں اور چراگاہوں کے نام بھی لیے گئے ہیں۔ مثلاً: وقبیٰ، مرج، راہط، حضرا وغیرہ۔ بہت سے مقامات ایسے ہیں جن کی خاص شہرت تھی اور کوئی نہ کوئی بات ان کی طرف منسوب ہوتی تھی۔ مثلاً تمبالہ یمن کا ایک زرخیز شہر ہے۔ اس کی زرخیزی و شادابی مشہور تھی۔ طبی ایک گاؤں کا نام تھا، جہاں خاص قسم کے کیڑے سفید رنگ اور لال سَر کے نہایت نرم و نازک ہوتے تھے۔ ان کیڑوں کو اسروع کہتے تھے۔ اندرین ملک شام کا ایک قصبہ تھا، جہاں کی شراب شہرت رکھتی تھی۔

عرب کے خاص خاص جنگل تھے، جہاں شیر رہتے تھے۔ ان کے نام حسب ذیل ہیں۔ خضیہ، شریٰ، خفاف، عفرین۔ خیبر کا قلعہ مشہور تھا۔ عرب کی شاعری میں اس کا ذکر اس سبب سے بھی آیا ہے کہ وہاں ایک قسم کا مہلک بخار پھیلا۔

عکاظ ایک مقام کا نام ہے۔ جو نخلا اور طائف کے درمیان تھا۔ یکم ذی قعدہ سے بیس دن تک یہاں ایک بازار لگتا تھا۔ عرب کے شعرا ہر سال یہاں آتے اور فخر کا اظہار کرتے تھے۔ ضریہ بصریہ کے قریب ایک گاؤں تھا، جہاں شکاری پرندے کثرت سے تھے۔ جواء ایک موضع ہے، جہاں کی وادی میں زردرنگ کی جنگلی گائیں چرا کرتی تھیں اور وہاں چکاکی نام کا ایک پرندہ بھی کثرت سے پایا جاتا تھا۔ خط یمامہ کا ایک مشہور مقام تھا، جہاں عمدہ نیزے فروخت ہوتے تھے اور وہ خطی نیزے کہلاتے تھے۔

بصریٰ ملک شام کا ایک شہر تھا، جہاں تلوار خالص فولاد کی بنتی تھی اور چوڑی ہوتی تھی۔ ہجر یمن کا ایک شہر ہے، جہاں کا خرما مشہور تھا۔ وجدہ ایک ایسا مقام تھا جس کا جنگل وحشی نیل گایوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہاں کے سفید ہرن بھی مشہور تھے۔ وادی سیدیا حمار یمن کی ایک وادی ہے۔ یہ پہلے نہایت سرسبز تھی مگر ایک بار بجلی نے اس کو جلا کر خاک کر دیا۔ اس وقت سے ہر ویران مقام کو وادیٔ حمار سے تشبیہ دینے لگے۔

عدولی بحرین کا ایک قریہ تھا، جہاں کشتیاں بنائی جاتی تھیں۔ تنوح ایک گاؤں تھا۔ یہاں کی نیل گائیں بھی مشہور تھیں۔ دومتہ الجندل کا مکھن مشہور تھا۔ ان کے علاوہ یمن کی ریشمی چادریں اور دو دھاری تلواریں اور شام کا کاغذ اور اعلیٰ ریشمی کپڑے شہرت رکھتے تھے۔ مشرقی تلواریں بھی شام سے آتی تھیں۔

ریگستانوں اور سراؤں کا ذکر عرب کی شاعری میں بار بار آتا ہے۔ موسموں کے ذکر میں سخت گرمی اور تمتماتی دھوپ، کبھی کبھی بارش کی راتوں کا سرد ہونا اور موسم سرما میں قحط کے آثار نمایاں ہونا عرب کے اشعار سے بار بار معلوم ہوتا ہے۔ شمال کی ہوا کو شمال، جنوب کی ہوا کو جنوب کہتے تھے۔ مشرق کی ہوا صبا اور مغرب کی ہوا دبور کہلاتی تھی۔ نکیا، ایک ہوا چلتی تھی جس سے قحط کی علامت محسوس ہوتی تھی۔ بیانوں کے سفر میں غریب ستاروں کو دیکھ کر چلتے تھے۔ بناتُ النّعش شام کی طرف کے ستارے اور سہیل یمن کی طرف کا ستارہ کہلاتا تھا۔ فرقدین اور کہکشاں کا ذکر بھی بار بار آیا ہے۔

(سیّد وحیدالدّین سلیم کے مضمون سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں