site
stats
خواتین

داعشی درندے بچوں کے سامنے مہینے بھر زیادتی کا نشانہ بناتے رہے‘ متاثرہ خاتون

دمشق: عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کے ہولناک مظالم شکار ہونے والی عرب خاتون نے اپنی الم ناک داستان انسانی حقوق کی تنظیموں بیان کردی‘ داعش کے درندے ایک ماہ تک بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک مسلمان خاتون ’حنان‘ نے ہیومن رائٹس واچ کے مبصرین کو بتایا ہے کہ وہ ایک ماہ تک اپنے بچوں کے سامنے داعش سے تعلق رکھنے والے جنگجو کی بربریت کاشکار ہوتی رہی ہیں، خاتون کا کہنا ہے کہ داعش عرب خواتین کو مسلمان نہیں سمجھتے ہیں اور ظلم کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں‌.

متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ میرے ساتھ مسلسل زیادتی ہوتی رہی اور مجھ جیسی بہت سے خواتین داعش کے ظلم و ستم کا نشانہ بنی ہیں اوراب انصاف کی منتظر ہیں۔

خاتون کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجو نے مجھے اپنے ایک ساتھی سے شادی کا کہا جبکہ میں اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ رہتی ہوں ، ان کا کہنا ہے کہ جب میں نے ان کی بات کو نہ مانا تو انہوں نے مجھے اغوا کرلیا، خاتون نے کہا کہ داعش جنگجووں نے میری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی جبکہ میرے ہاتھ پاؤں بھی بندھے ہوئے تھے ، انہوں نے کہا کہ اسلام کا نعرہ بلند کرنے والے داعش کے جنگجو مجھے روزانہ بربریت کا نشانہ بناتے تھے،

حنان کا کہنا ہے کہ ان کی رہائی کے عوض ان کے والد نے ایک گاڑی اور پانچ سو ڈالر اس جنگجو کو دیے جس نے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا‘ اسکے باوجود انہیں داعش کے زیرِ تسلط علاقے سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں رہا کرنے کے بعد بھی دہشت گرد جی چاہتا ان کے گھر آدھمکتے اوران کے بچوں کے سامنے انہیں متعدد بار غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔.

خاتوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ میری بیٹی ذہنی معذوری کا شکار ہے اسے یہ سمجھ نہیں کہ وہ کیا دیکھ رہی ہیں تاہم میرا بیٹا ذی شعور ہے ، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اسے کیا سمجھاؤ، وہ یہ اندوہناک مناظر دیکھ کر ذہنی تناؤ کا شکار ہو گیا ہے، انہوں نے کہا کہ میں انصاف کی منظر ہوں ، انسانی حقوق کی تنظمیں میرے حق کے لئے آواز بلند کریں۔

خاتون گزشتہ ماہ ا پنے اہلِ خانہ کے ہمراہ کسی طرح داعش کے زیر تسلط علاقے سے بھاگ نکلنےمیں کامیاب ہوگئیں تھی اور انہوں نے کرکوک پہنچ کر انسانی حقوق کی تنظیموں سے رجوع کیا۔ حنان کا کہنا ہے کہ پیچھے ایسی متعدد خواتین ہیں جنہیں زیادتی کا نشانہ بنانے والے شخص نے اپنے ساتھ شادی پر مجبور کیا ہے۔

مزید پڑھیں:داعش کے خلاف صف آرا 2 باہمت خواتین

 

یاد رہے کہ داعش نے 2014 میں شام اورعراق میں اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا ، بعدازاں ان کے ظلم اور بربریت کی باتیں زبان زد عام ہوگئی تھیں، عالمی دہشتگرد تنظیم نے اپنی دہشت رکھنے کے لئے ہر قسم کے غیر انسانی سلوک کیے، جس میں گلے کاٹنے کے ساتھ ساتھ مذکورہ صورتحال کے مطابق جنسی درندگی کے بھی دردناک واقعات ہیں.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top