The news is by your side.

Advertisement

کیا ہماری زندگی بیکار ہے؟ سیاہ فام یہودیوں کا اسرائیل کے خلاف احتجاج

دارالحکومت سمیت مختلف اسرائیلی شہروں میں سیاہ فام یہودی کی ہلاکت کے خلاف شدید مظاہرے

تل ابیب : سیاہ فام نوجوان کی پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف ہونے والے شدید مظاہروں کے پیش نظر کچھ جگہوں پر پولیس نے اہم شاہراہیں بند کردیں، ملک کے 12 اہم راستوں کو بند کردیا جس کے باعث شدید ترین ٹریفک جام ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق ناجائز صیہونی ریاست اسرائیل میں ایک پولیس اہلکار کے ہاتھوں غیر مسلح سیاہ فام لڑکے کی ہلاکت کے خلاف پر تشددمظاہروں کا رُکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک آف ڈیوٹی پولیس افسر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ کھیل کے میدان میں موجود تھا جب انس نے دیکھا کہ 2 افراد جھگڑ رہے ہیں،جب افسر نے اپنی شناخت کروائی تو سلمان تیکاہ نامی لڑکے نے ان پر پتھر پھینکے جس پر پولیس افسر نے خوفزدہ ہو کر اپنی زندگی بچانے کے لیے گولی چلادی جس سے نوجوان زخمی ہوگیا ۔

پولیس کا کہنا تھا کہ طبی امداد فراہم کرنے والے عملے نے زخمی نوجوان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تاہم عینی شاہدین نے پولیس کے اس موقف کو مسترد کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مذکورہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد اسرائیل کی سیاہ فام کمیونٹی احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئی، 4 روز سے جاری ان مظاہروں میں کاروں اور ٹائرز کو آگ لگائی گئی، ایمبولینسز کو نقصان پہنچایا گیا اور احتجاج کا یہ سلسلہ پورے اسرائیل میں پھیل چکا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد اپنے غم و غصے کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں اوردارالحکومت تل ابیب سمیت ملک کے 12 اہم راستوں کو بند کردیا جس کے باعث شدید ترین ٹریفک جام ہوگیا، حتجاجی مظاہرے اس قدر شدت اختیار کر گئے ہیں کہ کچھ جگہوں پر پولیس نے اہم شاہراہیں بند کردیں۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق مذکورہ واقعے کی تفتیش کے لیے افسر کو حراست میں لے کر چھوڑ دیا گیا لیکن احتجاج کے پیشِ نظر انہیں گھر میں نظر بند کردیا گیا۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ اقدام مظاہرے شروع ہونے کے کافی وقت بعد اٹھایا گیا جس میں دونوں اطراف سے درجنوں افراد زخمی ہوئے اور اب تک 136 مظاہرین کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نوجوان کی ہلاکت پر احتجاج کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ سیاہ فام اسرائیلی طبقے کو روزانہ جس قسم کے نسل پرستی پر مبنی امتیازی سلوک کا سامنا ہے یہ احتجاج اس کے خلاف بھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی جلد کے رنگ کی وجہ سے طویل عرصے سے رہائش، تعلیم اور ملازمت میں بڑے پیمانے پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ نسلی تعصب کے خلاف مظاہرے امریکا میں عمومی بات ہے اس سے قبل 2015 میں اسرائیل میں 2 پولیس افسران کے ہاتھوں ایک سیاہ فام فوجی کی پٹائی پر بھی بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں