The news is by your side.

Advertisement

کیا خون میں دماغی بیماریوں کی علامات موجود ہوتی ہیں؟ جانئے اہم حقائق

جرمن سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ خون میں پائے جانے والے کچھ خاص ’مائیکرو آر این اے‘ سالموں کی اضافی مقدار دماغی بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔

ریسرچ جرنل ’’ای ایم بی او مالیکیولر میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق خون میں پائے جانے والے کچھ خاص ’مائیکرو آر این اے‘ سالموں کی اضافی مقدار دماغی بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔

یہ مائیکرو آر این اے ہمارے جسم میں پروٹین کی پیداوار اور میٹابولزم کنٹرول کرنے کے ذمہ دار بھی ہیں۔

ابتدائی طور پر یہ تجربات چوہوں پر کیے گئے جنہیں بعد میں انسانی خون کے نمونوں پر دہرایا گیا تو وہی نتائج حاصل ہوئے جیسے چوہوں میں ہوئے تھے، مزید تحقیق کی غرض سے ایک سو بتیس صحت مند رضاکاروں کے علاوہ ترپن ایسے ادھیڑ عمر افراد کا مشاہدہ بھی کیا گیا جو ’’مائلڈ کوگنیٹیو امپیئرمنٹ‘‘ (ایم سی آئی) میں مبتلا تھے۔

ایم سی آئی ایک ایسی کیفیت ہے جب سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہونا شروع ہوجاتی ہے، یہی کیفیت آئندہ چند سال میں مزید شدت اختیار کرتے ہوئے کئی دماغی بیماریوں کی بنیاد بن سکتی ہے جن میں الزائیمر، شیزوفرینیا اور ڈیمنشیا وغیرہ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ‘ نصف پلیٹ’ بچوں کو پھل و سبزیوں کی جانب راغب کرنے کا نسخہ

چوہوں اور انسانی خلیوں پر تحقیق کے دوران تین اقسام کے ایسے مائیکرو آر این اے سامنے آئے جو دماغی خلیوں میں باہمی رابطے بننے کے عمل میں رکاوٹ ڈال رہے تھے اور جن کی وجہ سے اکتسابی صلاحیتیں متاثر ہورہی تھیں۔

ایم سی آئی میں مبتلا افراد کے خون میں بھی ان ہی تینوں مائیکرو آر این ایز کی اضافی مقدار نوٹ کی گئی، چوہوں پر مزید تجربات کے دوران جب یہ مائیکرو آر این ایز بلاک کردیئے گئے تو چوہوں میں اکتسابی صلاحیتیں بہتر ہوگئیں۔

واضح رہے کہ اکثر دماغی بیماریوں کی علامات نمایاں ہوجانے کے بعد ہی ان کا پتا چلتا ہے جس کی وجہ سے ان کے تدارک میں بھی شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں