تازہ ترین

پاکستان کو آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض پروگرام کی توقع

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ...

اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ

امریکی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آرہا...

روس نے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کی حمایت کردی

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا غزہ کی صورتحال کے...

مدینہ منورہ میں مسجد قبا کے نزدیک موجود قدیم کنویں کی کیا حقیقت ہے؟

مدینہ منورہ کے علاقے قبا میں قدیم ترین کنواں ’بئراریس‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے بھی قبل موجود تھا۔ یہ قدیم کنواں مسجد قبا سے مغربی سمت میں 38 میٹر کی دوری پر موجود ہے۔

سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اسلامی تاریخ میں ’بئراریس‘ کنویں کی وجہ شہرت حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے ہے۔

صحیح احادث مبارکہ میں آیا ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کنویں کا پانی پیا کرتے اور اس کی منڈیر پر بیٹھ کر اکثر وضو بھی کیا کرتے تھے۔

اسلامی تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ عہد نبوی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کنویں کی منڈیر پر بیٹھے تھے، پیغمبر اسلام کی انگوٹھی جس پر آپ کی مہر بھی تھی کو انگلی سے نکال کر دیکھ رہے تھے کہ انگوٹھی کنویں میں گر گئی۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی کو نکالنے کے لئے کنویں کو خالی کرایا گیا مگر اس کے باوجود انگوٹھی نہ ملی، اس کے بعد سے اس کنویں کا نام ’بئرالخاتم‘ یعنی انگوٹھی والا کنواں پڑ گیا۔

معروف تاریخ دان یاسر الحجیلی نے بتایا کہ مدینہ منورہ کا علاقہ قبا تاریخ اسلام کے حوالے سے اپنی خاص شہرت رکھتا ہے۔

یہاں اسلام کی سب سے پہلی مسجد ’قبا‘ تعمیر کی گئی تھی، جبکہ اسی مسجد سے کچھ فاصلے پرمسجد جمعہ بھی موجود ہے جہاں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی نماز جمعہ ادا کی تھی اسی نسبت سے اس مسجد کا نام مسجد جمعہ رکھ دیا گیا تھا۔

شام میں ایرانی قونصلیٹ پر حملہ، سعودی عرب کا رد عمل سامنے آگیا

واضح رہے کہ شہر مقدس میں مدینہ منورہ ترقیاتی اتھارٹی کی جانب سے ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں، جس کے تحت قباء کے علاقے میں 57 مقامات کی تعمیر نو کی جارہی ہے۔

Comments

- Advertisement -