بدھ, مئی 22, 2024
اشتہار

بانی پی ٹی آئی جیل میں رہیں گے مگر ڈیل نہیں کریں گے، عارف علوی

اشتہار

حیرت انگیز

سیالکوٹ: سابق صدر مملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں رہیں گے مگر کسی سے ڈیل نہیں کریں گے۔

ڈسٹرکٹ بار میں وکلا سے خطاب میں عارف علوی نے کہا کہ حقیقی آزادی خوددار قیادت سے ملے گی جو ڈیل کرنے کیلیے تیار نہیں ہے، چیلنج کرتا ہوں کروڑوں لوگوں کے نمائندے سے بات نہ کرنے کی کوئی وضاحت ہے ہی نہیں۔

عارف علوی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ میرا واسطہ بہت پرانا ہے، اس وقت سارے ادارے بند گلی میں چلے گئے ہیں، جب کوئی بند گلی میں چلا جائے تو معاملات تباہی کی طرف جاتے ہیں۔

- Advertisement -

سابق صدر مملکت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس لیے کہتا ہے کہ آئین کے بغیر کوئی راستہ نہیں، وہ کہتا ہے بات چیت ہی حل ہے اور کوئی راستہ نہیں، شرم کی بات ہے ملک میں 2 کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معیشت بہتر ہونی چاہیے سب یہی چاہتے ہیں، یہ بھی ذہن میں رکھیں پاکستان میں حادثاتی جمہوریت بنی ہے، سعودی عرب ہمارا بھائی ہے سرمایہ کاری کیلیے خوش آمدید کہتے ہیں، ملک میں عبوری بحران ہے جو ختم ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مثبت قیادت کو آنے دیں معاملہ تب چلے گا، اس وقت نظریں عدلیہ کی طرف ہیں۔

’جس کے پاس طاقت ہے اسی کے ساتھ بات ہو سکتی ہے‘

گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عارف علوی نے کہا تھا کہ 70 فیصد لوگوں کے مینڈیٹ والوں سے بات کرنی پڑے گی، جس کے پاس طاقت ہے اسی کے ساتھ بات ہو سکتی ہے۔

عارف علوی نے کہا تھا کہ فوج کے اندر جو لوگ 9 مئی میں ملوث تھے ان کو سزا دی گئی، سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے جاتے جاتے کہا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، الیکشن میں جو کچھ ہوا اس کے ثبوت موجود ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ میں نے کل بھی کہا تھا کہ معافی مظلوم کو نہیں ظالم کو مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی سیاست میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے، یہ کہاں کی منطق ہے کہ ملک کے 70 فیصد لوگ غلط اور چند لوگ صحیح ہیں؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریت کی نئی منطق پیش کی جا رہی ہے کہ سیاست آپ کا کام نہیں، خدا کے واسطے میری فوج کو بچائیں یہ ہمارا ادارہ ہے، میڈیا سے التماس ہے حق کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔

سابق صدر مملکت کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ساری قربانیاں دینے کیلیے تیار ہیں اور وہ پوری دنیا میں پاپولر لیڈر ہیں، میں نے ملاقات میں ان سے ہدایات لی ہیں۔

عارف علوی نے کہا تھا کہ ملاقات میں میں نے بانی پی ٹی آئی کو بالکل صحت مند دیکھا، بانی پی ٹی آئی وہ لیڈر ہیں جو پاکستان کی فکر کرتے ہیں۔

چند روز قبل اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو میں بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ اس وقت ان کی ذات کا نہیں بلکہ پاکستان کا ایشو ہے، اس لیے انھیں قائل کیا جائے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اگر میں حکومت گرائے جانے کے باوجود 2 مرتبہ قمر جاوید باجوہ سے مل سکتا ہوں تو کسی سے بھی مل سکتا ہوں، اس وقت میری ذات کا نہیں پاکستان کا ایشو ہے اس لیے مجھے قائل کر لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں قمر جاوید باجوہ کو ڈی نوٹیفائی کر سکتا تھا لیکن نہیں کیا، کبھی فوج سے لڑائی نہیں کی، قمر باجوہ نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں