The news is by your side.

Advertisement

جہاد کا اختیارصرف ریاست کو ہے، افغان مہاجرین کوواپس جانا ہوگا، آرمی چیف

میونخ : پاک فوج کے سربراہ جنر ل قمر جاوید باجوہ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ جہاد کا حکم دینے کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے، پاکستان نے قیام امن کے لیے اپنے حصے کا کام کردیا، اب خطے میں امن کا دارومدار افغانستان پر ہے، افغان مہاجرین کواب واپس جانا ہوگا۔

یہ بات انہوں نے جرمنی کے شہر میونخ میں ہونے والی سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، آرمی چیف نے کہا کہ خطے میں امن تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنی سرزمین دوسروں کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تاحال موجود ہیں جہاں سے پاکستان میں حملے ہورہے ہیں، افغان کیمپوں کو ٹی ٹی پی ،حقانی نیٹ ورک دہشت گردی کیلئےاستعمال کرتے ہیں، اعتماد اور باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان میں تاحال27لاکھ افغان مہاجرین موجودہیں،اب وقت آگیا ہے کہ ان مہاجرین کو افغانستان واپس بھیجا جائے، داعش کو پاکستان میں منظم ہونے نہیں دیا، داعش کے جنگجو افغانستان کی طرف فرار ہو رہے ہیں، آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے کوئی ٹھکانے موجود نہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے متصل 2300 کلومیٹر سرحد پرباڑ لگانےکا کام شروع کر رکھا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وقت لگے گا، ہم وہ کاٹ رہےہیں جو40سال پہلے بویا گیا، دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کیلئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔

میونخ میں’’خلافت کے بعد جہاد ازم ‘‘ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے جنر ل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ہم نے القاعدہ، جماعت الاحرار، تحریک طالبان کو شکست دی، انتہاپسندی کو جہاد نہیں دہشت گردی کہا جائے، خود پرقابورکھنا بہترین جہاد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام مکاتب کے علماء کرام نے مذہب کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی کےخلاف فتویٰ دے دیا ہے، جہاد کا حکم دینے کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں دہشت گردی کے نظریے کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا، انتہاء پسندی کیخلاف پاک آرمی نے خونی جنگ لڑی، پاکستان نے اس جنگ میں بھاری قیمت اداکی ہے، ایک وقت تھا جب پاکستان سیاحوں کی پسندیدہ جگہ تھی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں