site
stats
اہم ترین

پاک فوج کی قومی سلامتی کے امور پر سینیٹ ارکان کو بریفنگ

Security
ان کیمرہ بریفنگ: ساڑھے چار گھنٹے طویل سینٹ اجلاس اختتام پذیر

اسلام آباد : قومی سلامتی کے موضوع پر سینیٹ میں پاک فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کی جانب سے اہم ان کیمرہ بریفنگ دی گئی، اجلاس کی سربراہی چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کی جبکہ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سمیت اہم عسکری قیادت بھی موجود تھی۔

تفصیلات کے مطابق قومی سلامتی امور پراہم بریفنگ کے لئے سینیٹ کے تمام ممبران بطورکمیٹی موجود تھے‘ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ  پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ عبدالغفعور حیدری نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

اس موقع پر ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار‘ ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور اور ڈی جی ایم آئی میجر جنرل سید عاصم منیراحمد شاہ بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں آرمی چیف کے ہمراہ موجود تھے۔

ڈی جی ایم اومیجرجنرل ساحر شمشاد مرزا نے سینیٹ اراکین کے سامنے ملک میں قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال اور نئی امریکی پالیسی کے بعد کی صورتحال پر بریفنگ دی۔

 اجلاس ساڑھے چار گھنٹے جاری رہا اور اس موقع پر سینیٹ میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے، عسکری حکام کی بریفنگ کے بعد سوال وجواب کا بھی سیشن ہوا۔

اجلاس کے بعد ایک صحافی کے سوال کے جواب میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ آج بہت اچھا دن گزرا ‘  اس معزز ایوان میں آکر بہت اچھا محسوس کررہا ہوں۔

ڈی جی ایم او جنرل ساحر شمشاد کی بریفنگ کے اہم نکات


فوجی عدالتیں اور مقدمات کے فیصلے

*ان کیمرہ اجلاس میں ڈی جی ایم او کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں نےاب تک 274مقدمات کافیصلہ کیا جن میں 161مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی۔

*سزائے موت پانے والے 56 مجرموں کو پھانسی دی گئی‘ 13کوآپریشن ردالفساد سےپہلے اور 43کوا س کے بعد میں پھانسی دی گئی۔

*اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ 7جنوری کوفوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے پرمقدمات کی کارروائی روکی گئی، 28مارچ کو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کردی گئی ۔

*جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف بننے کےبعد160کیسزبھجوائے گئے‘ 160مقدمات میں سے33پر فیصلہ سنایا گیا۔8مجرموں کوسزائے موت‘ 25 کوقید کی سزاسنائی گئی۔

ملک بھر میں کیے گئے آپریشن

*بریفنگ میں بتایا گیا کہ آپریشن ردالفساد کےتحت پنجاب میں 1300کارروائیاں کی گئیں۔ کےپی، فاٹا میں1249کومبنگ، انٹیلی جنس بیس آپریشن کئےگئے۔ بلوچستان میں 1410‘سندھ میں2015 آپریشنزکئےگئے۔

*پنجاب میں 7میجرآپریشن،بلوچستان میں 29میجرآپریشنزکئےگئے۔ سندھ میں2 ، خیبر پختونخوا اور فاٹامیں31 میجر آپریشنز کئےگئے۔ مجموعی طور ملک بھر میں آپریشن ردالفساد کے دوران69 میجرآپریشنزکئے گئے۔

*اجلاس میں بتایا گیا کہ انٹیلی جنس اطلاعات پرمجموعی طورپر18001کارروائیاں کی گئیں، 4983سرچ بیسڈآپریشن کئے گئے۔

*پنجاب میں4156، بلوچستان میں45سرچ بیسڈ آپریشنزکئےگئے‘ سندھ میں224،کےپی اورفاٹامیں558سرچ بیسڈ آپریشنز کئے گئے جن میں مجموعی طور پر 19993ہتھیاربرآمد کئے گئے۔

پنجاب سے 2751 ، بلوچستان سے2332ہتھیاربرآمد ہوئے جبکہ سندھ سے1046، کےپی اور فاٹا سے13864ہتھیار برآمد ہوئے۔

علاقائی صورتحال پر نظر

*ایوانِ بالا کو بتایا گیا کہ بعض ممالک کے دورے فوجی سفارتکاری کاحصہ ہیں ‘علاقائی ممالک سےتعلقات میں دورےمعاون ثابت ہوئے۔

*پاک فوج کی خطےکی جیواسٹریٹیجک صورتحال پرگہری نظر ہے، افغانستان میں ہونےوالی تبدیلیوں کونظراندازنہیں کرسکتے، بارڈرمینجمنٹ پاک افغان سرحد کومحفوظ بنانےکے لیے ناگزیرہے۔


ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے سینیٹ  کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بریفنگ کی پیشکش کی تھی۔

بریفنگ کی تاریخ


ملکی  سلامتی سے متعلق  اہم موڑ پر پاک فوج کے سربراہان کا ملک کی سول قیادت کو بریفنگ دینے کا عمل روز اول سے جاری ہے ، قائد اعظم محمد علی جناح کو بحیثیت گورنر جنرل جنگِ کشمیر پر بریفنگ دی گئی، سنہ1965  کی جنگ کے دوران فیلڈ مارشل ایوب خان بحیثیت صدراو سپہ سالار جنگی محاذوں کی باقاعدہ بریفنگ لیا کرتے تھے۔

کارگل جنگ کے موقع پر اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر)پرویز مشرف نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو جنگ کے حوالے سے بریفنگ دی تھی۔


مزید پڑھیں: ملکی تاریخ کا نیا موڑ، آرمی چیف آج پہلی بارسینیٹ ارکان کو بریفنگ دیں گے


آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر)راحیل شریف نے ملک کی سیاسی قیادت کو بریفنگ دی تھی، جس کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top