site
stats
پاکستان

سانحہ پشاورکو ایک سال مکمل، ہرآنکھ اشکبار، ہردل بوجھل

سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کو ایک بیت گیا، سانحہ پشاور ہر ذہن میں نقش ہے، شہیدبچوں کی یاد آج بھی دماغ کے دروازوں پر دستک کر رہی ہے،
شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ملک بھر میں آج پہلی برسی کی تقریبات منعقد ہونگی، بچوں کے والدین کے ساتھ پورا ملک سوگوار ہے، آج قومی یوم سوگ ہوگا اور قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

سولہ دسمبر 2014 کی صبح جب مسلح دہشتگردوں نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حیوانیت کی انتہا کر ڈالی، دہشتگردوں کے اس حملے میں ایک سو بتیس بچوں سمیت ایک سو اکتالیس افراد شہید ہوئے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے، معصوم بچوں کی اس قربانی نے پوری قوم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا اور قوم دہشتگردی کیخلاف پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی۔

سانحہ پشاور ایک ایسا دلخراش واقعہ تھا، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، پاکستان میں ابتک ہونیوالا دہشتگردی کا یہ سب سے بھیانک اور المناک سانحہ ہے۔


سانحہ پشاور کے شہداء برسی کی مرکزی تقریب بھی آرمی پبلک اسکول میں ہی منعقد ہوگی، مرکزی تقریب میں پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور برّی فوج کے سربراہ کے علاوہ اہم سیاسی شخصیات، غیر ملکی سفیر اور ہلاک شدگان کے لواحقین شرکت کریں گے۔ہلاک شدگان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے صوبے کے دیگر شہروں کے علاوہ ملک بھر میں بھی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

پہلی برسی کے موقع پر آرکائیوز لائبریری کو آرمی پبلک سکول کے شہداء کے نام سے منسوب کیاجائے گا جبکہ شہدا ءکو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے وہاں ایک یادگار بھی تعمیر کی گئی ہے، جس پر سانحہ پشاور میں شہید ہونے والوںکی تصاویر لگائی گئی ہیں۔

اس موقع پر خیبر پختونخوا کی حکومت نے ضلع پشاور کے تمام تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ ملک کے دیگر صوبوں میں تمام تعلیمی ادارے بند ہیں گے۔

آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کی پہلی برسی کی مناسبت سے ملک بھر میں شہداء کی روح کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی ،فاتحہ خوانی اور تعزیتی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا اور مختلف شہروں میں ریلیاں منعقد ہوں گی، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں سمیت مختلف مقامات پر شہدائے آرمی پبلک اسکول پشاور کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے ہدایت کی ہے کہ سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے بچوں کو بتایا جائے، دہشت گردی اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔اسلام میں بے گناہ کی جان لینے کی سزا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ملے گی، ان کا مزید کہنا تھا کہ بچوں کو سانحہ اے پی ایس کے شہداء کی قربانیوں کے بارے میں بھی بتایا جائے۔

وفاقی حکومت نے پہلے ہی دارالحکومت اسلام آباد کے 122 سکولوں اور کالجوں کو ان طلباء سے منسوب کرنے کا اعلان کیا ہے جو 16 دسمبر کے سانحہ میں شہید ہوئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top